ٹیگ کے محفوظات: کہو

کہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 145
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو
کہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو
ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں؟ ہو تو کیوں کر ہو
ادب ہے اور یہی کشمکش، تو کیا کیجے
حیا ہے اور یہی گومگو تو کیوں کر ہو
تمہیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کا
بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیوں کر ہو
الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ
جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیوں کر ہو
جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا سا
وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیوں کر ہو
ہمیں پھر ان سے امید، اور انہیں ہماری قدر
ہماری بات ہی پوچھیں نہ وو تو کیوں کر ہو
غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلّی کا
نہ مانے دیدۂ دیدار جو، تو کیوں کر ہو
بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار
یہ نیش ہو رگِ جاں میں فِرو تو کیوں کر ہو
مجھے جنوں نہیں غالب ولے بہ قولِ حضور@
’فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو‘
@حضور: بہادر شاہ ظفر، اگلا مصرعہ ظفر کا ہی ہے جس کی طرح میں غالب نے درباری مشاعرے کے لئے یہ غزل کہی تھی۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں

دیوان دوم غزل 880
یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں
ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو
جام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں
مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ
جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں
یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے
یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں
معذور ہوں جو پائوں مرا بے طرح پڑے
تم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں
بھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھ
چلتا ہوں میں بھی ٹک تو رہو میں نشے میں ہوں
نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرجی
جوں شیشہ میرے منھ نہ لگو میں نشے میں ہوں
میر تقی میر

اب گلیوں میں اعلان کرو میں عشق میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 288
اے کوچہ ء دل کے بخت ورو میں عشق میں ہوں
اب گلیوں میں اعلان کرو میں عشق میں ہوں
تم شہر کی سب دیوار وں اورپوشاکوں پر
دل پینٹ کرو تصویر گرو میں عشق میں ہوں
بازار کی ساری رقاصاؤ گلیوں میں
اب ڈھول بجا کر رقص کرو میں عشق میں ہوں
کچھ رنگِچراغاں اور کرو کچھ اور کرو
کچھ سرخ غبارے اور بھرو میں عشق میں ہوں
اب ہاتھ بڑھاکر سب کے گربیاں چاک کرو
اب زور سے تم منصور کہو میں عشق میں ہوں
منصور آفاق