ٹیگ کے محفوظات: کھڑے

روزے رکھے غریبوں نے تو دن بڑے ہوئے

دیوان پنجم غزل 1745
گردش دنوں کی کم نہ ہوئی کچھ کڑے ہوئے
روزے رکھے غریبوں نے تو دن بڑے ہوئے
نرمی سے کوے یار میں جاوے تو جا نسیم
ایسا نہ ہو کہ اکھڑیں کہیں دل گڑے ہوئے
آہن دلوں نے مارا ہے جی غم میں ان کے ہم
پھرتے ہیں نعل سینوں پر اپنے جڑے ہوئے
آئے ہو بعد صلح کبھو ناز سے تو یاں
منھ پھیر ادھر سے بیٹھے ہو جیسے لڑے ہوئے
بیمار امیدوار سے بستر پہ اپنے ہم
دروازے ہی کی اور تکیں ہیں پڑے ہوئے
بار اس کی بزم میں نہیں ناچار در پہ ہم
رہتے ہیں جیسے صورت دیوار اڑے ہوئے
ہم زیر تیغ بیٹھے تھے پر وقت قتل میر
وے ٹک ہمارے پاس نہ آکر کھڑے ہوئے
میر تقی میر

ایک ایک سخت بات پہ برسوں اڑے رہے

دیوان اول غزل 527
جب تک کڑی اٹھائی گئی ہم کڑے رہے
ایک ایک سخت بات پہ برسوں اڑے رہے
اب کیا کریں نہ صبر ہے دل کو نہ جی میں تاب
کل اس گلی میں آٹھ پہر غش پڑے رہے
وہ گل کو خوب کہتی تھی میں اس کے رو کے تیں
بلبل سے آج باغ میں جھگڑے بڑے رہے
فرہاد و قیس ساتھ کے سب کب کے چل بسے
دیکھیں نباہ کیونکے ہو اب ہم چھڑے رہے
کس کے تئیں نصیب گل فاتحہ ہوئے
ہم سے ہزاروں اس کی گلی میں گڑے رہے
برسوں تلک نہ آنکھ ملی ہم سے یار کی
پھر گوکہ ہم بصورت ظاہر اڑے رہے
یعنی کہ اپنے عشق کے حیران کار میر
دیوار کے سے نقش در اوپر کھڑے رہے
میر تقی میر

پانی کا ہمیں خوف تھا مٹی کے گھڑے تھے

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 6
اک وقت تو ایسا تھا کہ دن رات کڑے تھے
پانی کا ہمیں خوف تھا مٹی کے گھڑے تھے
ھم نیند کے عالم میں کوئی موڑ مڑے تھے
دیکھا تو ابد گیر زمانے میں کھڑے تھے
معلوم ہے جس موڑ پہ بچھڑے تھے اسی جا
کچھ ہاتھ ہلاتے ہوئے اشجار کھڑے تھے
ہر موڑ پہ ہوتا تھا یہاں قتل وفا کا
ہر موڑ پہ ٹوٹے ہوئے آئینے پڑے تھے
ڈر تھا کہ پکارا تھا تمھیں ذر کی چمک نے
میدان سے تم لوگ کہاں بھاگ پڑے تھے
اسطورۂِ بغداد کو شب خواب میں دیکھا
وہ حسن تھا شہزادے قطاروں میں کھڑے تھے
تم نے بھی بہت اشک بہائے تھے بچھڑ کر
پیڑوں سے بھی اس رات بہت پات جھڑے تھے
اک قافلہ بھٹکا تھا کسی خواب کے اندر
اک شہر کے رستے میں بہت موڑ پڑے تھے
توقیر عباس

کس دَشت میں ہیں شوق کے گھوڑے اڑے ہوئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 254
ہر سمت آرزوؤں کے لاشے پڑے ہوئے
کس دَشت میں ہیں شوق کے گھوڑے اڑے ہوئے
معصوم چہرہ، تیز نگاہوں کی زد میں ہے
نیزے ہیں نرم کھیت کے دِل میں گڑے ہوئے
ہم بیچنے کو لائے ہیں ماضی کے پیرہن
کہنہ روایتوں کے نگینے جڑے ہوئے
اپنے لیے تو ہار ہے کوئی، نہ جیت ہے
ہم سب ہیں دُوسروں کی لڑائی لڑے ہوئے
اُن کو خبر نہیں کہ ہے پانی کا کیا مزاج
جو پیڑ ہیں ندی کے کنارے کھڑے ہوئے
عرفان صدیقی

یہ ابھی جسم سے جھڑے ہیں سانپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 245
یہ جو پندار کے پڑے ہیں سانپ
یہ ابھی جسم سے جھڑے ہیں سانپ
کیا خزانہ تلاش کرتے ہو
اس کنویں میں بڑے بڑے ہیں سانپ
ہر قدم پر خدا کی بستی میں
مسئلوں کی طرح کھڑے ہیں سانپ
کم ہوئی کیا مٹھاس پانی کی
کتنے دریاؤں کو لڑے ہیں سانپ
اب بھی ڈرتا ہے آدمی ان سے
وہ جو تاریخ میں گڑے ہیں سانپ
ایک فوسل کی شکل میں منصور
کچھ مزاروں پہ بھی جڑے ہیں سانپ
منصور آفاق