ٹیگ کے محفوظات: کھڑکیوں

ذکر میرا شاعروں میں آ گیا

کافروں اور باغیوں میں آ گیا
ذکر میرا شاعروں میں آ گیا
روکتے ہیں یار مجھ کو عشق سے
میں یہ کیسے پاگلوں میں آ گیا؟
زخم کھاتا، خاک اُڑاتا ایک دن
میں بھی تیرے عاشقوں میں آ گیا
تُو نے میری سمت دیکھا اور پھر
نام تیرا قاتلوں میں آ گیا
یار! مجنوں کو اچانک کیا ہوا؟
چائے پینے کالجوں میں آ گیا!!
امن کا اجلاس جاری تھا ابھی
خوف اُڑ کر کِھڑکیوں میں آ گیا
افتخار فلک

اصل میں نیکیوں کی آنکھیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 378
یہ جو جلتے دئیوں کی آنکھیں ہیں
اصل میں نیکیوں کی آنکھیں ہیں
حسنِ گل پوش کے تعاقب میں
پھر کئی تتلیوں کی آنکھیں ہیں
دھند لاہٹ دکھائی دیتی ہے
نم زدہ کھڑکیوں کی آنکھیں ہیں
کافی تنکے ہیں چُن لئے لیکن
چار سو بجلیوں کی آنکھیں ہیں
نیم وا رہتی ہیں محبت سے
کھلتی کب لڑکیوں کی آنکھیں ہیں
یہ جو سیارے ہیں خلاؤں میں
جنگجو بستیوں کی آنکھیں ہیں
راستہ ہے مدینہ کا منصور
پھول سی بچیوں کی آنکھیں ہیں
منصور آفاق

یہی زندگی ہے اپنی، یونہی آنسوئوں میں رہنا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 50
کبھی بارشوں سے بہنا، کبھی بادلوں میں رہنا
یہی زندگی ہے اپنی، یونہی آنسوئوں میں رہنا
کبھی یونہی بیٹھے رہنا تری یاد کے کنارے
کبھی رات رات بہتے ہوئے پانیوں میں رہنا
کبھی سات رنگ بننا کسی ابرِ خوشنما کے
کبھی شاخ شاخ گرتی ہوئی بجلیوں میں رہنا
مجھے یاد آ رہا ہے ترے ساتھ ساتھ شب بھر
یونہی اپنے اپنے گھر کی کھلی کھڑکیوں میں رہنا
مجھے لگ رہا ہے جیسے کہ تمام عمر میں نے
ہے اداس موسموں کے گھنے جنگلوں میں رہنا
یہ کرم ہے دلبروں کا، یہ عطا ہے دوستوں کی
مرا زاویوں سے ملنا یہ مثلثوں میں رہنا
ابھی اور کچھ ہے گھلنا مجھے ہجر کے نمک میں
ابھی اور آنسوئوں کے ہے سمندروں میں رہنا
منصور آفاق