ٹیگ کے محفوظات: کھڑکیاں

پاؤں سے ہواؤں کے، بیڑیاں نہیں کھلتیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 58
شوقِ رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں
پاؤں سے ہواؤں کے، بیڑیاں نہیں کھلتیں
پیڑ کو دعا دے کر، کٹ گئی بہاروں سے
پھول اتنے بڑھ آئے کھڑکیاں نہیں کھلتیں
پھول بن کر سیروں میں اور کون شامل تھا
شوخیِ صبا سے تو بالیاں نہیں کھلتیں
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
کوئی موجہ ءِ شیریں چوم کر جگائے گی
سورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کھلتیں
ماں سے کیا کہیں گی دکھ ہجر کا کہ خود پر بھی
اتنی چھوٹی عمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں
شاخ شاخ سرگرداں کس کی جستجو میں ہیں
کون سے سفر میں ہیں تتلیاں نہیں کھلتیں
آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ ابھرتی ہے
چھت پہ کون آتا ہے، سیڑھیاں نہیں کھلتیں
پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر
کیا قیامتیں گزریں، بستیاں نہیں کھلتیں
پروین شاکر

میں نہیں دیر تلک تلخیاں رکھنے والا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 34
یاد کے طاقچہ میں بجلیاں رکھنے والا
میں نہیں دیر تلک تلخیاں رکھنے والا
مجھ کو اس وقت بھی ہے تیز بہت تیز بخار
اورمرا کوئی نہیں پٹیاں رکھنے والا
چیرتا جاتا ہے خود آپ کنارے اپنے
ساحلوں پہ وہی مرغابیاں رکھنے والا
دھول سے کیسے بچا سکتا ہے اپنی چیزیں
دل کے کمرے میں کئی کھڑکیاں رکھنے والا
پال بیٹھا ہے پرندوں کی رہائی کا جنون
جار میں اپنے لئے تتلیاں رکھنے والا
بزم میں آیا نہیں کتنے دنوں سے منصور
وہ پیانو پہ حسیں انگلیاں رکھنے والا
منصور آفاق