ٹیگ کے محفوظات: کھڑکایا

کیسا جشن منایا ہم نے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 280
جام تہی لہرایا ہم نے
کیسا جشن منایا ہم نے
رات ہوا کے ساتھ نکل کر
حلقۂ در کھڑکایا ہم نے
چپ گلیوں میں دیں آوازیں
شہر میں شور مچایا ہم نے
خاک تھے لیکن لہر میں آکر
رقصِ جنوں فرمایا ہم نے
دیکھیں کب ہوں عشق میں کندن
راکھ تو کردی کایا ہم نے
عمرِ شرر بیکار نہ گزری
پل بھر تو چمکایا ہم نے
سب کو نشانہ کرتے کرتے
خود کو مار گرایا ہم نے
تم سے ملے تو خود سے زیادہ
تم کو اکیلا پایا ہم نے
اپنے سر کی آن پہ واری
پاؤں سے لپٹی مایا ہم نے
اے شبِ ہجراں، اب تو اجازت
اتنا ساتھ نبھایا ہم نے
عرفان صدیقی