ٹیگ کے محفوظات: کھٹک

کنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 117
اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
کنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے
میں اُس کے خیال سے گُریزاں
وہ میری صدا جھٹک رہا ہے
تحریر اُسی کی ہے ، مگر دل
خط پڑھتے ہُوئے اٹک رہا ہے
ہیں فون پہ کس کے ساتھ باتیں
اور ذہن کہاں بھٹک رہا ہے
صدیوں سے سفر میں ہے سمندر
ساحِل پہ تھکن پٹک رہا ہے
اک چاند صلیبِ شاخِ گُل پر
بالی کی طرح لٹک رہا ہے
پروین شاکر

حیرت سے پلک جھپک رہی ہوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 56
منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں
حیرت سے پلک جھپک رہی ہوں
یہ تُو ہے کہ میرا واہمہ ہے!
بند آنکھوں سے تجھ کو تک رہی ہوں
جیسے کہ کبھی نہ تھا تعارف
یوں ملتے ہوئے جھجک رہی ہوں
پہچان! میں تیری روشنی ہوں
اور تیری پلک پلک رہی ہوں
کیا چَین ملا ہے………سر جو اُس کے
شانوں پہ رکھے سِسک رہی ہوں
پتّھر پہ کھلی ، پہ چشمِ گُل میں
کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہوں
جگنو کہیں تھک کے گرِ چُکا ہے
جنگل میں کہاں بھٹک رہی ہوں
گڑیا مری سوچ کی چھنی کیا
بچّی کی طرح بِلک رہی ہوں
اِک عمر ہُوئی ہے خُود سے لڑتے
اندر سے تمام تھک رہی ہوں
رس پھر سے جڑوں میں جا رہا ہے
میں شاخ پہ کب سےپک رہی ہوں
تخلیقِ جمالِ فن کا لمحہ!
کلیوں کی طرح چٹک رہی ہوں
پروین شاکر

اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 189
گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے
ہم جو اب آدمی ہیں پہلے کبھی
جام ہوں گے چھلگ گئے ہوں گے
وہ بھی اب ہم سے تھک گیا ہو گا
ہم بھی اب اس سے تھک گئے ہوں گے
شب جو ہم سے ہوا معاف کرو
نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے
کتنے ہی لوگ حرص شہرت میں
دار پر خود لٹک گئے ہوں گے
شکر ہے اس نگاہ کم کا میاں
پہلے ہی ہم کھٹک گئے ہوں گے
ہم تو اپنی تلاش میں اکثر
از سما تا سمک گئے ہوں گے
اس کا لشکر جہاں تہاں یعنی
ہم بھی بس بے کمک گئے ہوں گے
جون ، اللہ اور یہ عالم
بیچ میں ہم اٹک گئے ہوں گے
جون ایلیا

عشق کی مے سے چھک رہے ہیں ہم

دیوان دوم غزل 854
کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم
عشق کی مے سے چھک رہے ہیں ہم
سوکھ غم سے ہوئے ہیں کانٹا سے
پر دلوں میں کھٹک رہے ہیں ہم
وقفۂ مرگ اب ضروری ہے
عمر طے کرتے تھک رہے ہیں ہم
کیونکے گرد علاقہ بیٹھ سکے
دامن دل جھٹک رہے ہیں ہم
کون پہنچے ہے بات کی تہ کو
ایک مدت سے بک رہے ہیں ہم
ان نے دینے کہا تھا بوسۂ لب
اس سخن پر اٹک رہے ہیں ہم
نقش پا سی رہی ہیں کھل آنکھیں
کس کی یوں راہ تک رہے ہیں ہم
دست دے گی کب اس کی پابوسی
دیر سے سر پٹک رہے ہیں ہم
بے ڈھب اس پاس ایک شب تھے گئے
سو کئی دن سرک رہے ہیں ہم
خام دستی نے ہائے داغ کیا
پوچھتے کیا ہو پک رہے ہیں ہم
میر شاید لیں اس کی زلف سے کام
برسوں سے تو لٹک رہے ہیں ہم
میر تقی میر

جی لے گئے یہ کانٹے دل میں کھٹک کھٹک کر

دیوان اول غزل 227
آزار دیکھے کیا کیا ان پلکوں سے اٹک کر
جی لے گئے یہ کانٹے دل میں کھٹک کھٹک کر
سرو و تدرو دونوں پھر آپ میں نہ آئے
گلزار میں چلا تھا وہ شوخ ٹک لٹک کر
کب آنکھ کھول دیکھا تیرے تئیں سرہانے
ناچار مر گئے ہم سر کو پٹک پٹک کر
حاصل بجز کدورت اس خاکداں سے کیا ہے
خوش وہ کہ اٹھ گئے ہیں داماں جھٹک جھٹک کر
یہ مشت خاک یعنی انسان ہی ہے روکش
ورنہ اٹھائی کن نے اس آسماں کی ٹکر
دل کام چاہتا ہے اب اس کے گیسوئوں سے
واں مر گئے ہیں کتنے برسوں اٹک اٹک کر
ٹک منھ سے اس کے دی شب برقع سرک گیا تھا
جاتی رہی نظر سے مہتاب سی چھٹک کر
دھولا چکے تھے مل کر کل لونڈے میکدے کے
پر سرگراں ہو واعظ جاتا رہا سٹک کر
کل رقص شیخ مطلق دل کو لگا نہ میرے
آیا وہ حیز شرعی کتنا مٹک مٹک کر
منزل کی میر اس کی کب راہ تجھ سے نکلے
یاں خضر سے ہزاروں مر مر گئے بھٹک کر
میر تقی میر