ٹیگ کے محفوظات: کھو

اب تِرے جی میں جو آئے سو کر

ہم الگ بیٹھ رہے چُپ ہو کر
اب تِرے جی میں جو آئے سو کر
اب تجھے کھو کے خیال آتا ہے
تجھ کو پایا تھا بہت کچھ کھو کر
کیا بُرا ہے مجھے اچھا ہونا
کوئی تدبیر اگر ہے تو کر
تم نے کیا کر لیا رہ کر بیدار
ہم نے تو عمر گنوا دی سو کر
آج تک تم نہیں سنبھلے باصرِؔ
کھائی تھی کِس کی گلی میں ٹھوکر
باصر کاظمی

پلکیں بھگو رہے تھے مرے سامنے درخت

سرسبز ہو رہے تھے مرے سامنے درخت
پلکیں بھگو رہے تھے مرے سامنے درخت
گلشن بہار و بخت سے مہکا دیا گیا
جب ہوش کھو رہے تھے مرے سامنے درخت
دیکھا ہے میں نے آج بڑے انہماک سے
بیدار ہو رہے تھے مرے سامنے درخت
اِس خوابِ دل گداز کی تعبیر تو بتا
کل شام رو رہے تھے مرے سامنے درخت
پنچھی تمام رات مجھے گھورتے رہے
جنگل میں سو رہے تھے مرے سامنے درخت
افتخار فلک

تنہائی میں رو لیں گے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 131
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے
ہم بے راہ رووں کا کیا
ساتھ کسی کے ہو لیں گے
خود تو ہوئے رسوا لیکن
تیرے بھید نہ کھولیں گے
جیون زہر بھرا ساگر
کب تک امرت گھولیں گے
ہجر کی شب سونے والے
حشر کو آنکھیں کھولیں گے
پھر کوئی آندھی اُٹھے گی
پنچھی جب پر تولیں گے
نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے
احمد فراز

کسی کے دھیان میں تم کھو گئے کیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 31
غزل سُن کر پریشاں ہو گئے کیا
کسی کے دھیان میں تم کھو گئے کیا
یہ بیگانہ روی پہلی نہیں تھی
کہو تم بھی کسی کے ہو گئے کیا
نہ پرسش کو نہ سمجھانے کو آئے
ہمارے یار ہم کو رو گئے کیا
ابھی کچھ دیر پہلے تک یہیں تھے
زمانہ ہو گیا تم کو گئے کیا
کسی تازہ رفاقت کی جھلک ہے
پرانے زخم اچھے ہو گئے کیا
پلٹ کر چارہ گر کیوں آ گئے ہیں
شبِ فرقت کے مارے سو گئے کیا
فراز اتنا نہ اترا حوصلے پر
اسے بھولے زمانے ہو گئے کیا
احمد فراز

اُس کا قلق ہے ایسا کہ میں سو نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 13
اک خواب نیند کا تھا سبب، جو نہیں رہا
اُس کا قلق ہے ایسا کہ میں سو نہیں رہا
وہ ہو رہا ہے جو میں نہیں چاہتا کہ ہو
اور جو میں چاہتا ہوں وہی ہو نہیں رہا
نم دیدہ ہوں، کہ تیری خوشی پر ہوں خوش بہت
چل چھوڑ، تجھ سے کہہ جو دیا، رو نہیں رہا
یہ زخم جس کو وقت کا مرہم بھی کچھ نہیں
یہ داغ، سیلِ گریہ جسے دھو نہیں رہا
اب بھی ہے رنج، رنج بھی خاصا شدید ہے
وہ دل کو چیرتا ہوا غم گو نہیں رہا
آباد مجھ میں تیرے سِوا اور کون ہے؟
تجھ سے بچھڑ رہا ہوں تجھے کھو نہیں رہا
کیا بے حسی کا دور ہے لوگو۔ کہ اب خیال
اپنے سِوا کسی کا کسی کو نہیں رہا
عرفان ستار

یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وو آئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 205
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی "کہ وو آئے”
ہوں کشمکشِ نزع میں ہاں جذبِ محبّت
کچھ کہہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم
آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آئے
ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین
ہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے
جلاّد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے
ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
ہاں اہلِ طلب! کون سنے طعنۂ نا یافت
دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
اپنا نہیں وہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں
اس در پہ نہیں بار تو کعبے ہی کو ہو آئے
کی ہم نفسوں نے اثرِ گریہ میں تقریر
اچّھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
اس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے غالب
ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

چھانہہ میں جاکے ببولوں کی ہم عشق و جنوں کو رو آئے

دیوان پنجم غزل 1728
کیا کہیے کچھ بن نہیں آتی جنگل جنگل ہو آئے
چھانہہ میں جاکے ببولوں کی ہم عشق و جنوں کو رو آئے
دل کی تلاش میں اٹھ کے گئے تھے شاید یاں پیدا ہو سو
جان کا اپنی گرامی گوہر اس کی گلی میں کھو آئے
آہوے عرفاں صید انھوں کا گر نہ ہوا نقصان کیا
اس عالم سے اس عالم میں کسب کمال کو جو آئے
کچھ کہنے کا مقام نہ تھا وہ وا ہوتا تو کہتے کچھ
آنا نہ آنا یکساں تھا واں ہوتے ادھر ہم گو آئے
سب کہتے تھے چین کرے گا کچھ بھی نہ دیکھا جز سختی
پتھر رکھ کے سرہانے ہم ٹک اس کی گلی میں سو آئے
کیا ہی دامن گیر تھی یارب خاک بسمل گاہ وفا
اس ظالم کی تیغ تلے سے ایک گیا تو دو آئے
سر دینا ٹھہرا کر ہم نے پائوں کو باہر رکھا تھا
ہر سو ہو دشوار ہے پھرنا میر ادھر اب تو آئے
میر تقی میر

بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر

دیوان پنجم غزل 1617
اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہوکر
بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر
اب کل نہیں ہے تجھ کو بے قتل غم کشوں کے
کہتے تو تھے کہ ظالم خوں ریزی سے نہ خو کر
کہتے ہیں راہ پائی زاہد نے اس گلی کی
روتا کہیں نہ آوے ایمان و دیں کو کھو کر
ہے نظم کا سلیقہ ہرچند سب کو لیکن
جب جانیں کوئی لاوے یوں موتی سے پرو کر
کیا خوب زندگی کی دنیا میں شیخ جی نے
تعبیر کرتے ہیں سب اب ان کو مردہ شو کر
گو تیرے ہونٹ ظالم آب حیات ہوں اب
کیا ہم کو جی کی بیٹھے ہم جی سے ہاتھ دھو کر
کس کس ادا سے فتنے کرتے ہیں قصد ادھر کا
جب بے دماغ سے تم اٹھ بیٹھتے ہو سو کر
ٹکڑے جگر کے میرے مت چشم کم سے دیکھو
کاڑھے ہیں یہ جواہر دریا کو میں بلو کر
احوال میرجی کا مطلق گیا نہ سمجھا
کچھ زیر لب کہا بھی سو دیر دیر رو کر
میر تقی میر

آج لہو آنکھوں میں آیا درد و غم سے رو رو کر

دیوان چہارم غزل 1389
کل سے دل کی کل بگڑی ہے جی مارا بے کل ہوکر
آج لہو آنکھوں میں آیا درد و غم سے رو رو کر
ایک سجود خلوص دل سے آہ کیا نہ جوانی میں
سر مارے ہیں محرابوں میں یوں ہی وقت کو اب کھو کر
جیب دریدہ خاک ملوں کے حال سے کیا آگاہی تمھیں
راہ چلو ہو نازکناں دامن کو لگا کر تم ٹھوکر
ایک تو ہم تو ہوتے نہیں ہیں سر بہتیرا مار چکے
اب بہتر ہے تیغ ستم کی جلد لگا کر تو دوکر
جی ہی ملا جاتا ہے اپنا میر سماں یہ دیکھے سے
آنکھیں ملتے اٹھتے ہیں بستر سے دلبر جب سو کر
میر تقی میر

ایسا تو رو کہ رونے پہ تیرے ہنسی نہ ہو

دیوان سوم غزل 1234
کہتا ہے کون میر کہ بے اختیار رو
ایسا تو رو کہ رونے پہ تیرے ہنسی نہ ہو
پایا گیا وہ گوہر نایاب سہل کب
نکلا ہے اس کو ڈھونڈنے تو پہلے جان کھو
کام اس کے لب سے ہے مجھے بنت العنب سے کیا
ہے آب زندگی بھی تو لے جائے مردہ شو
سنتے نہیں کہے جو نہ کہیے تو دم رکے
کچھ پوچھیے نہ قصہ ہمارا ہے گومگو
مشعر ہے بے دماغی پہ مطلق نہ بولنا
ہم دیں تمھیں دعا ہمیں تم گالیاں تو دو
کرنا جگر ضرور ہے دل دادگاں کو بھی
وہ بولتا نہیں تو تم آپھی سے چھیڑ لو
اے غافلان دہر یہ کچھ راہ کی ہے بات
چلنے کو قافلے ہیں یہاں تم رہے ہوسو
گردش میں جو کوئی ہو رکھے اس سے کیا امید
دن رات آپھی چرخ میں ہے آسمان تو
جب دیکھتے ہیں پائوں ہی دابو ہو اس کے میر
کیوں ہوتے ہو ذلیل تم اتنا تو مت دبو
میر تقی میر

وحشت بہت تھی طاقت دل ہائے کھو چکے

دیوان دوم غزل 985
دیوانگی میں گاہ ہنسے گاہ رو چکے
وحشت بہت تھی طاقت دل ہائے کھو چکے
افراط اشتیاق میں سمجھے نہ اپنا حال
دیکھے ہیں سوچ کرکے تو اب ہم بھی ہوچکے
کہتا ہے میر سانجھ ہی سے آج درد دل
ایسی کہانی گرچہ نندھی ہے تو سو چکے
میر تقی میر

آخر ہوئی کہانی مری تم بھی سو رہو

دیوان دوم غزل 925
سب سرگذشت سن چکے اب چپکے ہو رہو
آخر ہوئی کہانی مری تم بھی سو رہو
جوش محیط عشق میں کیا جی سے گفتگو
اس گوہر گرامی سے اب ہاتھ دھو رہو
فندق تو ہے پہ یہ بھی تماشے کا رنگ ہے
ٹک انگلیوں کو خون میں میرے ڈبو رہو
اتنا سیاہ خانۂ عاشق سے ننگ کیا
کتنے دنوں میں آئے ہو یاں رات تو رہو
ٹھہرائو تم کو شوخی سے جوں برق ٹک نہیں
ٹھہرے تو ٹھہرے دل بھی مرا نچلے جو رہو
ہم خواب تجھ سے ہوکے رہا جاوے کس طرح
ملتے ہوئے سمجھ کے کہا کر رہو رہو
خطرہ بہت ہے میر رہ صعب عشق میں
ایسا نہ ہو کہیں کہ دل و دیں کو کھو رہو
میر تقی میر

یوناں کی طرح بستی یہ سب میں ڈبو رہا

دیوان دوم غزل 734
طوفان میرے رونے سے آخر کو ہورہا
یوناں کی طرح بستی یہ سب میں ڈبو رہا
بہتوں نے چاہا کہیے پہ کوئی نہ کہہ سکا
احوال عاشقی کا مری گومگو رہا
آخر موا ہی واں سے نکلتا سنا اسے
کوچے میں اس کے جا کے ستم دید جو رہا
آنسو تھما نہ جب سے گیا وہ نگاہ سے
پایان کار آنکھوں کو اپنی میں رو رہا
کیا بے شریک زندگی کی شیخ شہر نے
نبّاش بھی وہی تھا وہی مردہ شو رہا
یاروں نے جل کے مردے سے میرے کیا خطاب
روتے تھے ہم تو دل ہی کو تو جی بھی کھو رہا
جب رات سر پٹکنے نے تاثیر کچھ نہ کی
ناچار میر منڈکری سی مار سو رہا
میر تقی میر

ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے

دیوان اول غزل 616
ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے
ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے
مصائب اور تھے پر دل کا جانا
عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے
مقامر خانۂ آفاق وہ ہے
کہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے
کچھ آئو زلف کے کوچے میں درپیش
مزاج اپنا ادھر اب تو گیا ہے
سرہانے میر کے کوئی نہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
میر تقی میر

دامن پکڑ کے یار کا جو ٹک نہ رو سکے

دیوان اول غزل 588
کیا غم میں ویسے خاک فتادہ سے ہوسکے
دامن پکڑ کے یار کا جو ٹک نہ رو سکے
ہم ساری ساری رات رہے گریہ ناک لیک
مانند شمع داغ جگر کا نہ دھو سکے
رونا تو ابر کا سا نہیں یار جانتے
اتنا تو رویئے کہ جہاں کو ڈبو سکے
تیغ برہنہ کف میں وہ بیدادگر ہے آج
ہے مفت وقت اس کو جو کوئی جان کھو سکے
برسوں ہی منتظر سر رہ پر ہمیں ہوئے
اس قسم کا تو صبر کسو سے نہ ہوسکے
رہتی ہے ساری رات مرے دم سے چہل میر
نالہ رہے تو کوئی محلے میں سو سکے
میر تقی میر

سر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں

دیوان اول غزل 333
ہجراں کی کوفت کھینچے بے دم سے ہو چلے ہیں
سر مار مار یعنی اب ہم بھی سو چلے ہیں
جوئیں رہیں گی جاری گلشن میں ایک مدت
سائے میں ہر شجر کے ہم زور رو چلے ہیں
لبریز اشک آنکھیں ہر بات میں رہا کیں
رو رو کے کام اپنے سب ہم ڈبو چلے ہیں
پچھتائیے نہ کیونکر جی اس طرح سے دے کر
یہ گوہر گرامی ہم مفت کھو چلے ہیں
قطع طریق مشکل ہے عشق کا نہایت
وے میر جانتے ہیں اس راہ جو چلے ہیں
میر تقی میر

آخر کو جستجو نے تری مجھ کو کھو دیا

دیوان اول غزل 110
جی اپنا میں نے تیرے لیے خوار ہو دیا
آخر کو جستجو نے تری مجھ کو کھو دیا
بے طاقتی سکوں نہیں رکھتی ہے ہم نشیں
رونے نے ہر گھڑی کے مجھے تو ڈبو دیا
اے ابر اس چمن میں نہ ہو گا گل امید
یاں تخم یاس اشک کو میں پھر کے بو دیا
پوچھا جو میں نے درد محبت سے میر کو
رکھ ہاتھ ان نے دل پہ ٹک اک اپنے رو دیا
میر تقی میر

قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا

دیوان اول غزل 34
کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہو گیا
قافلہ جاتا رہا میں صبح ہوتے سو گیا
بے کسی مدت تلک برسا کی اپنی گور پر
جو ہماری خاک پر سے ہوکے گذرا رو گیا
کچھ خطرناکی طریق عشق میں پنہاں نہیں
کھپ گیا وہ راہرو اس راہ ہوکر جوگیا
مدعا جو ہے سو وہ پایا نہیں جاتا کہیں
ایک عالم جستجو میں جی کو اپنے کھو گیا
میر ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ
جب سے وہ دریا پہ آکر بال اپنے دھو گیا
میر تقی میر

جانے کس کس کو آج رو بیٹھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 31
پھر حریف بہار ہو بیٹھے
جانے کس کس کو آج رو بیٹھے
تھی، مگر اتنی رائگاں بھی نہ تھی
آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے
تیرے در تک پہنچ کے لوٹ آئے
عشق کی آبرو ڈبو بیٹھے
ساری دنیا سے دور ہوجائے
جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے
نہ گئی تیری بے رخی نہ گئی
ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے
فیض ہوتا رہے جو ہونا ہے
شعر لکھتے رہا کرو بیٹھے
فیض احمد فیض

زمانے کے مقابل ہو گئے ہم

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 84
ہجوم رنج و غم میں کھو گئے ہم
زمانے کے مقابل ہو گئے ہم
شب تاریک کی زد سے نکل کر
سحر کی ظلمتوں میں کھو گئے ہم
چلو اپنوں نے بھی نظریں بدل لیں
وطن میں بھی مسافر ہو گئے ہم
اسی غفلت نے باقیؔ مار ڈالا
کہ جب تقدیر جاگی سو گئے ہم
باقی صدیقی

اُنج صفحیاں تے، کھِلریاں گلاّں پا دِتے نیں رَو لے

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 105
نئیں کیتے تے حرفاں میریاں دُکھ ایس دل دے ہَولے
اُنج صفحیاں تے، کھِلریاں گلاّں پا دِتے نیں رَو لے
دل دے مندر وچ نئیں لبھی، کوئی صورت من موہنی
پیار دے تیشے نال سی، کِنّے سدھراں دے بُت، ڈَولے
ایس توں ودھ، ہن ہور اساں توں، دُکھ دیپک کی منگنا
اکھیاں چوں انگیارے جھڑ پئے، دل دا لہو پیا کھولے
پیار ترے دی وی تے، آخر انت سزا اے سُولی
دل دا کی اے، ایس گل نوں وی گَولے یا نہ گَولے
سَک ہاسے دا، پپڑی جمیاں ہوٹھاں نوں، چمکاسی
دُھوڑ دُکھاں دی، دُھلسی تے، پر دُھلسی ہَولے ہَولے
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)