ٹیگ کے محفوظات: کھونے

شہر کی بھیڑ میں کھونے نہیں دیتا کوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 210
ہم سے رُخصت ہمیں ہونے نہیں دیتا کوئی
شہر کی بھیڑ میں کھونے نہیں دیتا کوئی
ہر طرف پرسشِ غم، پرسشِ غم پرسشِ غم
چین سے بوجھ بھی ڈھونے نہیں دیتا کوئی
لوگ دَریا میں اُترنے سے ڈراتے ہیں بہت
جسم پانی میں ڈبونے نہیں دیتا کوئی
یہ گزرگاہ کا سناٹا، یہ پُرشور ہوا
کھڑکیاں کھول کے سونے نہیں دیتا کوئی
باغ میں سبزۂ شاداب بہت ہے لیکن
اَوس سے پاؤں بھگونے نہیں دیتا کوئی
عرفان صدیقی

مجھے بیدار طالع قبر میں سونے کہاں دے گا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 75
کرم اسمِ محمدﷺ کا فنا ہونے کہاں دے گا
مجھے بیدار طالع قبر میں سونے کہاں دے گا
اگرچہ ہوں ابھی بچپن کی کچی نیند میں لیکن
مرے اندر چھپا بوڑھا مجھے رونے کہاں دے گا
وہ جس کو خوف ہے دوزخ کہیں خالی نہ رہ جائے
وہی اشکِ ندامت سے گنہ دھونے کہاں دے گا
جسے اپنی دھڑکتی زندگی سے خوف آتا ہے
وہی ،دل سینۂ مہتاب میں بونے کہاں دے گا
جمالِ اسم اعظم کے بہشت آباد میں منصور
وصالِ یار کا دوزخ مجھے کھونے کہاں دے گا
منصور آفاق