ٹیگ کے محفوظات: کھولے

بھلا ہے اِسی میں کوئی لب نہ کھولے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
جہاں بھی سرِ انجمن شاہ بولے
بھلا ہے اِسی میں کوئی لب نہ کھولے
نہ دیکھ اب، یہ باراں کن آنکھوں سے برسی
ملا ہے جو پانی تو سب داغ دھولے
کہیں وُہ، تقاضا یہی ہے وفا کا
بدن تیغ کی دھار پر بھی نہ ڈولے
سمجھ لے وہی راہبر و رہنما ہے
کسی چلنے والے کے بھی ساتھ ہولے
ترے نام کی نم ہے ماجدؔ بس اتنی
بڑھے پیاس تو اپنی پلکیں بھگولے
ماجد صدیقی

پون چلے اور ڈولے دل

مجید امجد ۔ غزل نمبر 80
جھونکوں میں رس گھولے دل
پون چلے اور ڈولے دل
جیون کی رُت کے سو روپ
نغمے، پھول، جھکولے، دل
تاروں کی جب جوت جگے
اپنے خزانے کھولے دل
یادوں کی جب پینگ چڑھے
بول البیلے بولے دل
کس کی دھن ہے باورے من؟
تیرا کون ہے؟ بھولے دل
مجید امجد

شجر شاخوں کے پر کھولے ہوئے تھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 587
وہ صحرا میں سفر روکے ہوئے تھے
شجر شاخوں کے پر کھولے ہوئے تھے
ہم ایسے تھے سمندر میں بھی موتی
گراں قیمت ہمی قطرے ہوئے تھے
بڑی تقریر کی تھی زندگی نے
خلافِ مرگ کچھ جلسے ہوئے تھے
مجھے کیوں دیکھتے تھے بے رخی سے
گلی میں لوگ جو بیٹھے ہوئے تھے
ہمیں تحریر تھے موجوں کے اوپر
چٹانوں پر ہمی لکھے ہوئے تھے
اُدھر عزت کسی کی لٹ رہی تھی
اِدھر دستِ دعا اٹھے ہوئے تھے
کہاں آنکھیں اکیلی رو رہی تھیں
وہاں پتھر کئی پگھلے ہوئے تھے
شہیدوں کی قطاریں لگ گئی تھیں
خدا کے نام پر جھگڑے ہوئے تھے
لگا تھا ایک دروازے پہ تالا
مگر اس کے کواڑکھڑے ہوئے تھے
نہ تھا پروازِ جاں کا اذن لیکن
پرندے اپنے پر تولے ہوئے تھے
کوئی پرہول منظر تاک میں تھا
کبوتر کس لئے سہمے ہوئے تھے
اٹھائے پھرتے تھے ہم ساتھ منزل
ازل کی شام کے بھٹکے ہوئے تھے
ہوا کے اونٹ پر منصورمیں تھا
تھلوں کے راستے بھولے ہوئے تھے
منصور آفاق