ٹیگ کے محفوظات: کھولا

تو کہیں باہر گیا ہوا تھا

میں جب تیرے گھر پہنچا تھا
تو کہیں باہر گیا ہوا تھا
تیرے گھر کے دروازے پر
سورج ننگے پاؤں کھڑا تھا
دیواروں سے آنچ آتی تھی
مٹکوں میں پانی جلتا تھا
تیرے آنگن کے پچھواڑے
سبز درختوں کا رمنا تھا
ایک طرف کچھ کچے گھر تھے
ایک طرف نالہ چلتا تھا
اک بھولے ہوئے دیس کا سپنا
آنکھوں میں گھلتا جاتا تھا
آنگن کی دیوار کا سایہ
چادر بن کر پھیل گیا تھا
تیری آہٹ سنتے ہی میں
کچی نیند سے چونک اُٹھا تھا
کتنی پیار بھری نرمی سے
تو نے دروازہ کھولا تھا
میں اور تو جب گھر سے چلے تھے
موسم کتنا بدل گیا تھا
لال کھجوروں کی چھتری پر
سبز کبوتر بول رہا تھا
دُور کے پیڑ کا جلتا سایہ
ہم دونوں کو دیکھ رہا تھا
ناصر کاظمی

گونگا بہرا خالی کمرا

خالی گھر کا خالی کمرا
گونگا بہرا خالی کمرا
زندانوں سے بھی بدتر ہے
تیرا میرا خالی کمرا
ایک عزیز بچا ہے میرا
وہ بھی تنہا خالی کمرا
تیری یاد نے چوما مجھ کو
جب بھی کھولا خالی کمرا
تم کو اکثر یاد آئے گا
باتیں کرتا خالی کمرا
مجھ سے لپٹا روہا گھنٹوں
آہیں بھرتا خالی کمرا
دونوں اک جیسے لگتے ہیں
میں اور میرا خالی کمرا
یار فلک! اک بات کہیں میں
خوب ہے تیرا خالی کمرا
افتخار فلک