ٹیگ کے محفوظات: کھنگالے

ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 178
ہم تو زنجیر سفر شوق میں ڈالے ہوئے ہیں
ورنہ یہ انفس و آفاق کھنگالے ہوئے ہیں
جان و تن عشق میں جل جائیں گے‘ جل جانے دو
ہم اسی آگ سے گھر اپنا اجالے ہوئے ہیں
کب سے مژگاں نہیں کھولے مرے ہشیاروں نے
کتنی آسانی سے طوفان کو ٹالے ہوئے ہیں
اجنبی جان کے کیا نام و نشاں پوچھتے ہو
بھائی‘ ہم بھی اسی بستی کے نکالے ہوئے ہیں
ہم نے کیا کیا تجھے چاہا ہے انہیں کیا معلوم
لوگ ابھی کل سے ترے چاہنے والے ہوئے ہیں
کہیں وحشت نہیں دیکھی تری آنکھوں جیسی
یہ ہرن کون سے صحراؤں کے پالے ہوئے ہیں
دل کا کیا ٹھیک ہے آنا ہے تو آجا کہ ابھی
ہم یہ گرتی ہوئی دیوار سنبھالے ہوئے ہیں
عرفان صدیقی