ٹیگ کے محفوظات: کھنک

تم آدمی ہو، تو آدمی کی، ہتک نہ کرنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 30
تمیزِ فرزندِ ارض و ابنِ فلک نہ کرنا
تم آدمی ہو، تو آدمی کی، ہتک نہ کرنا
یہ جمع و تفریق، ضرب و تقسیم کی صدی ہے
عقیدہ ٹھہرا عدد کی منطق پہ شک نہ کرنا
پسِ خراباتِ بند جاری ہے مے گساری
سکھایا جام و سبو کو ہم نے کھنک نہ کرنا
چھلاوے بن جائیں آگے جا کر یہی غزالاں
تعاقب ان مہ وشوں کا تم دور تک نہ کرنا
یہ غم کہ معنی تجھے لگے ہے سراب معنی
اکیلے سہنا، اسے غمِ مشترک نہ کرنا
آفتاب اقبال شمیم

یا مجھے اپنے ڈرائنگ روم تک محدود رکھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 409
یا بدن کے سرخ گجروں کی مہک محدود رکھ
یا مجھے اپنے ڈرائنگ روم تک محدود رکھ
دھن کوئی کومل سی بس ترتیب کے لمحے میں ہے
اے محافظ کالے بوٹوں کی دھمک محدود رکھ
سو رہا ہے تیرے پہلو میں کوئی غمگین شخص
چوڑیوں کی رنگ پروردہ کھنک محدود رکھ
باغباں ہر شاخ سے لپٹے ہوئے ہیں زرد سانپ
گھونسلوں تک اپنی چڑیوں کی چہک محدود رکھ
جاگنے لگتے ہیں گلیوں میں غلط فہمی کے خواب
آئینے تک اپنی آنکھوں کی چمک محدود رکھ
لوگ چلنے لگتے ہیں قوسِ قزح کی شال پر
اپنے آسودہ تبسم کی دھنک محدود رکھ
منصور آفاق

یونہی رات رات غزل میں رو، یونہی شعر شعر سسک کے پڑھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 408
یہی تیرے غم کا کِتھارسس، یونہی چشمِ نم سے ٹپک کے پڑھ
یونہی رات رات غزل میں رو، یونہی شعر شعر سسک کے پڑھ
جو اکائی میں نہیں ذہن کی اسے سوچنے کا کمال کر
یہ شعور نامۂ خاک سن، یہ درود لوحِ فلک کے پڑھ
یہی رتجگوں کی امانتیں ہیں بیاضِ جاں میں رکھی ہوئی
جو لکھے نہیں ہیں نصیب میں وہ ملن پلک سے پلک کے پڑھ
مرے کینوس پہ شفق بھری نہ لکیریں کھینچ ملال کی
کوئی نظم قوسِ قزح کی لکھ کوئی رنگ ونگ دھنک کے پڑھ
ترے نرم سر کا خرام ہو مری روح کے کسی راگ میں
مجھے انگ انگ میں گنگنا، مرا لمس لمس لہک کے پڑھ
یہ بجھا دے بلب امید کے، یہ بہشتِ دیدِ سعید کے
ابھی آسمان کے بورڈ پر وہی زخم اپنی کسک کے پڑھ
او ڈرائیور مرے دیس کے او جہاں نما مری سمت کے
یہ پہنچ گئے ہیں کہاں پہ ہم، ذرا سنگ میل سڑک کے پڑھ
کوئی پرفیوم خرید لا، کوئی پہن گجرا کلائی میں
نئے موسموں کا مشاعرہ کسی مشکبو میں مہک کے پڑھ
ہے کتابِ جاں کا ربن کھلا کسی واڈکا بھری شام میں
یہی افتتاحیہ رات ہے ذرا لڑکھڑا کے، بہک کے پڑھ
یہ ہے ایک رات کا ناولٹ، یہ ہے ایک شام کی سرگزشت
یہ فسانہ تیرے کرم کا ہے، اسے اتنا بھی نہ اٹک کے پڑھ
کئی فاختاؤں کی ہڈیاں تُو گلے میں اپنے پہن کے جا
وہ جو عہد نامۂ امن تھا اسے بزم شب میں کھنک کے پڑھ
منصور آفاق