ٹیگ کے محفوظات: کھنڈر گھاٹ کا ناخدا

کھنڈر گھاٹ کا ناخدا

پھر اُتارا زمیں کے سلگتے ہوئے جسم سے

دستِ اسرار نے

دھوپ کا سو جگہ سے پھٹا پیرہن

اور آنکھوں میں چھلکیں اندھیرے کی عریانیاں

ٹمٹماتے چراغوں نے دیکھا مجھے

بے نشاں رونقوں۔۔۔۔ ایک گزرے ہوئے روز کی خوشبوؤں کے تعاقب میں

بھٹکے ہوئے

کتنے گہرے خلا پیش منظر میں تھے

شام کی بیٹھکیں کس لئے میہمانوں سے خالی ہوئیں

یار لمبے سفر پر یہاں سے کہاں چل دئیے

موسموں کے وطن کی مسافر ابابیل کا آشیانہ یہاں

آج ہے، کل نہیں

میں دنوں کے پلندے میں خالی ورق جوڑ کر

سوچتا ہوں یہ ہونے کا اندازمیرے حسابوں میں ہے

وہ جو انگلی پکڑ کے مجھے ساتھ لایا یہاں

منظروں، موسموں کے پھریرے اڑاتے ہوئے

بعد میں

بھول کی ٹوکری میں مِرے خول کو پھینک کر

بے دھیانی میں

مجھ سے زمانے سے آگے نکل جائے گا

آفتاب اقبال شمیم