ٹیگ کے محفوظات: کھلیں

رہا نہ دل ہی سلامت تو کیوں رہیں آنکھیں

بلا سے گر شبِ ہجراں میں جل بجھیں آنکھیں
رہا نہ دل ہی سلامت تو کیوں رہیں آنکھیں
یہ ربطِ تارِ نگہ تو بہت ہی بودا ہے
نجانے ہم سے وہ کس وقت پھیر لیں آنکھیں
بجا کہ نظریں ہی ٹھہری ہیں اب زباں لیکن
وہ سامنے ہی نہ آئیں تو کیا کریں آنکھیں
اُتر گئی ہیں رگ وپے میں یوں تِری نظریں
کوئی بھی نقش بنانے لگوں بنیں آنکھیں
لگی ہے آنکھ ہماری ترے تصور میں
تری ہی شکل مقابل ہو جب کھلیں آنکھیں
یہ معجزہ بھی دکھاتی ہے جستجو اکثر
کہ کان دیکھنے لگ جائیں اور سنیں آنکھیں
تمام عمر بھی گر ڈھونڈتے پھرو باصرِؔ
کہاں ملیں گی جو ہیں اپنے دھیان میں آنکھیں
باصر کاظمی

دیکھنے سے جن کے مائیں مر گئیں اِس شہر میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
عصمتوں کی دھجّیاں کیا کیا اُڑیں اِس شہر میں
دیکھنے سے جن کے مائیں مر گئیں اِس شہر میں
کون کہہ سکتا ہے کس کی استراحت کے سبب
جاگتے جسموں میں جانیں تک جلیں اِس شہر میں
اوٹ میں نامنصفی کی جانے کیا کیا چاہتیں
موت کی آغوش میں سوئی ملیں اِس شہر میں
اِس قدر ارزاں تو یہ جنسِ گراں دیکھی نہیں
سنگ کے بھاؤ تُلے جتنے نگیں اِس شہر میں
ضرب سے حرفِ گراں کی جابجا بکھری ملیں
دل کے آئینوں کی کیا کیا کرچیاں اِس شہر میں
دیکھنے میں تو نظر آتی ہیں سب پلکیں کھُلی
جاگتی اِک آنکھ بھی لیکن نہیں اِس شہر میں
وحشتوں کے جانے کن کن ناخنوں سے کُو بہ کُو
مینڈھیاں ماجدؔ حیاؤں کی کھُلیں اِس شہر میں
ماجد صدیقی