ٹیگ کے محفوظات: کھلائے

حرف در حرف نئے پُھول کِھلائے ہم نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
گُن سخن میں وُہ رُخِ یار کے لائے ہم نے
حرف در حرف نئے پُھول کِھلائے ہم نے
نزد اِن کے بھی کسی شہ کی سواری اُترے
اِس گماں پر بھی در و بام سجائے ہم نے
جن کی تنویر میں کام آیا ہم ایسوں کا لہو
آنگنوں آنگنوں وُہ دِیپ جلائے ہم نے
ہاں رسا ہونے نہ پائی کوئی فریاد و دُعا
عرش کے پائے بھی کیا کیا نہ ہِلائے ہم نے
جھڑکیوں سے کہیں،افیون سے وعدوں کی کہیں
شاہ کہتے کہ ’’یُوں لوگ سُلائے ہم نے’‘
عقل سے شکل سے جِن جِن کی، نحوست ٹپکے
ایسے بُودم بھی سر آنکھوں پہ بِٹھائے ہم نے
کسی انساں کی دولتّی سے لگیں جو ماجِد
جانتے بُوجھتے وُہ زخم بھی کھائے ہم نے
ماجد صدیقی

پھول چاہت کے کچھ ایسے بھی کھلائے جائیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
وہ کہ اُجڑے ہوئے جُوڑوں میں سجائے جائیں
پھول چاہت کے کچھ ایسے بھی کھلائے جائیں
سیل کیا کیا نہ اُٹھائیں یہ کروڑوں آنکھیں
خشکیِ بخت پہ گر اشک بہائے جائیں
خشت سے چوب تلک قرض کی ہر چیز لئے
بیچ کٹیاؤں کے کچھ قصر اٹھائے جائیں
محض تائید ہی ہم نام نہ اِن کے لکھ دیں
احتجاجاً بھی کبھی ہاتھ اُٹھائے جائیں
ماجد صدیقی

بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
ناز لبوں پر اُس کے لائے ہم نے بھی
بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی
یاد دلا کر خاصے دُور کے دن اُس کو
کیا کیا کچُھ قصّے دُہرائے ہم نے بھی
حیف! کہ رکھتا تھا جو بھیس خدائی کا
اُس جوگی کو ہاتھ دکھائے ہم نے بھی
شہر میں، سُن کر، اُس چنچل کے آنے کی
پلکوں پر کچھ دیپ جلائے ہم نے بھی
دل میں، جن کے ہوتے سانجھ سویرا ہو
کچھ ایسے ارمان جگائے ہم نے بھی
اَب جو مِلے تو ماجدؔ اُس کو اوڑھ ہی لیں
کب سے انگ نہیں سہلائے ہم نے بھی
ماجد صدیقی

خاک میں اشک بھلے مِل جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
صدیوں اپنی جوت جگائے
خاک میں اشک بھلے مِل جائے
ساون، کُوڑے کرکٹ میں بھی
اپنے ڈھب کے پھُول کھلائے
دید خُدا کی، چودھویں جس کی
وُہ چندا کب مُکھ دکھلائے
اِک پل پھُول سا کِھلنے والا
چہرہ، دُوجی پل کملائے
پیڑ وُہ تازہ دم کیا ہو گا
اُڑتی گرد جِسے سہلائے
ماجدؔ ہر اُمید کا پیکر
چاند کی صورت گھٹتا جائے
ماجد صدیقی

حشر اِس دل میں اُٹھائے کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
خود کو ہم سے وُہ چھپائے کیا کیا
حشر اِس دل میں اُٹھائے کیا کیا
دمبدم اُس کی نظر کا شعلہ
مشعلیں خوں میں جلائے کیا کیا
ہم نے اُس کے نہ اشارے سمجھے
لعل ہاتھوں سے گنوائے کیا کیا
گلُ بہ گلُ اُس کے فسانے لکھ کر
درد موسم نے جگائے کیا کیا
لفظ اُس شوخ کے عشووں جیسے
ہم نے شعروں میں سجائے کیا کیا
حرف در حرف شگوفے ہم نے
اُس کے پیکر کے، کھلائے کیا کیا
لُطف کے سارے مناظر ماجدؔ
جو بھی دیکھے تھے دکھائے کیا کیا
ماجد صدیقی

یا لوہو اشک خونی سے منھ پر بہائے گا

دیوان سوم غزل 1062
وہ دل نہیں رہا ہے تعب جو اٹھائے گا
یا لوہو اشک خونی سے منھ پر بہائے گا
اب یہ نظر پڑے ہے کہ برگشتہ وہ مژہ
کاوش کرے گی ٹک بھی تو سنبھلا نہ جائے گا
کھینچا جو میں وہ ساعد سیمیں تو کہہ اٹھا
بس بس کہیں ہمیں ابھی صاحب غش آئے گا
ریجھے تو اس کے طور پہ مجلس میں شیخ جی
پھر بھی ملا تو خوب سا ان کو رجھائے گا
جلوے سے اس کے جل کے ہوئے خاک سنگ و خشت
بیتاب دل بہت ہے یہ کیا تاب لائے گا
ہم رہ چکے جو ایسے ہی غم میں کھپا کیے
معلوم جی کی چال سے ہوتا ہے جائے گا
اڑ کر لگے ہے پائوں میں زلف اس کی پیچ دار
بازی نہیں یہ سانپ جو کوئی کھلائے گا
اڑتی رہے گی خاک جنوں کرتی دشت دشت
کچھ دست اگر یہ بے سر و ساماں بھی پائے گا
درپے ہے اب وہ سادہ قراول پسر بہت
دیکھیں تو میر کے تئیں کوئی بچائے گا
میر تقی میر

آئے مرے غمگسار آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 27
بولے منہ سے نہ مسکرائے
آئے مرے غمگسار آئے
دامن بھی نہ ہو جسے میسر
زخموں کو وہ کس طرح چھپائے
عنوان حیات بن گئے ہیں
جو تیری نظر نے گل کھلائے
ہے فرصت زہر خند کس کو
پھولوں کو صبا نہ گدگدائے
زخموں کو وہ چھیڑتے ہیں باقیؔ
لب پر کوئی بات آ نہ جائے
باقی صدیقی