ٹیگ کے محفوظات: کھرے

یہ کیا کہ لمس میں آتے ہی دوسرے ہو جاؤ

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 75
میں جب بھی چھونے لگوں تم ذرا پرے ہو جاؤ
یہ کیا کہ لمس میں آتے ہی دوسرے ہو جاؤ
یہ کارِ عشق مگر ہم سے کیسے سرزد ہو
الاؤ تیز ہے صاحب! ذرا پرے ہو جاؤ
تمہاری عمر بھی اس آب کے حساب میں ہے
نہیں کہ اس کے برسنے سے تم ہرے ہو جاؤ
یہ گوشہ گیر طبیعت بھی ایک محبس ہے
ہوا کے لمس میں آؤ، ہرے بھرے ہو جاؤ
کبھی تو مطلعِٔ دل سے ہو اتنی بارشِ اشک
کہ تم بھی کھل کے برستے ہوئے کھرے ہو جاؤ
آفتاب اقبال شمیم

بیٹھا ہوں پیشِ آئینہ ڈرے ہوئے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 57
آنکھوں کو آنکھوں کے آگے دھرے ہوئے
بیٹھا ہوں پیشِ آئینہ ڈرے ہوئے
ایک ذرا معیار کے بدلے جانے سے
دیکھا، کیسے کھوٹے سکے کھرے ہوئے
جسم سے اٹھی باس پرانے جنگل کی
آہٹ آہٹ سارے رستے ہرے ہوئے
اے حیرانی! وُہ تو آج بھی زندہ ہے
اتنے سال ہوئے ہیں جس کو مرے ہوئے
آفتاب اقبال شمیم