ٹیگ کے محفوظات: کھری

سَو کھوٹ جہاں تیرے اِک بات کھری میری

کھَلتی ہے تجھے دنیا کیوں ہم سَفَری میری
سَو کھوٹ جہاں تیرے اِک بات کھری میری
سُنتا ہُوں سُکوں سے ہیں سب اہلِ فَلَک جب سے
سیکھی ہے دُعاؤں نے بے بال و پَری میری
رونق ہیں سب اِس بزمِ افکار و حوادث کی
سرمستی و سرشاری آشفتہ سری میری
روتا ہے ہر اِک دریا آلام و مصائب کا
رَستا ہی نہیں دیتی یہ بے خَبَری میری
ہر دُکھ ہے یہاں سُکھ سے، ہر زخم سُکوں سے ہے
آ کر تو کبھی دیکھو تم چارہ گری میری
یہ گردشِ روز و شب کیوں اِتنی پریشاں ہے
کیا اِس نے نہیں دیکھی ہے در بَدَری میری
گلشن کا بھروسا ہے نے شاخ و نشیمن کا
لے آئی کَہاں مجھ کو کوتہ نظری میری
آنکھوں کا تحیّر بھی پہنچا نہ سکا دل تک
کس کام کی ہے ضامنؔ! یہ نامہ بَری میری
ضامن جعفری

ہم پہ ممنوع پھر وہ گلی ہو گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 143
بات ڈرتے تھے جس سے وُہی ہو گئی
ہم پہ ممنوع پھر وہ گلی ہو گئی
جب سے اُس سے معنون ہوئی شاعری
چیز کھوٹی تھی لیکن کھری ہو گئی
میرے حرفوں میں جب سے اُترنے لگی
اور بھی ہے وُہ صورت جلی ہو گئی
چاند بھی عکس اُس کا دکھائے نہ اب
یہ ملاقات بھی سرسری ہو گئی
پھر صبا نے جگائے بُجھے ولولے
شاخ اندوہ کی پھر ہری ہو گئی
وہ ستم گر بھی مانگے ہے دادِ ستم
لو شقاوت بھی اَب ساحری ہو گئی
ہوتے ہوتے زمانے کی تحریک پر
اپنی نیّت بھی ماجدؔ بُری ہو گئی
ماجد صدیقی

صاحب ہی نے ہمارے یہ بندہ پروری کی

دیوان چہارم غزل 1500
جنگل میں چشم کس سے بستی کی رہبری کی
صاحب ہی نے ہمارے یہ بندہ پروری کی
شب سن کے شور میرا کچھ کی نہ بے دماغی
اس کی گلی کے سگ نے کیا آدمی گری کی
کرتے نہیں ہیں دل خوں اس رنگ سے کسو کا
ہم دل شدوں کی ان نے کیا خوب دلبری کی
اللہ رے کیا نمک ہے آدم کے حسن میں بھی
اچھی لگی نہ ہم کو خوش صورتی پری کی
ہے اپنی مہرورزی جانکاہ و دل گدازاں
اس رنج میں نہیں ہے امید بہتری کی
رفتار ناز کا ہے پامال ایک عالم
اس خودنما نے کیسی خودرائی خودسری کی
اے کاش اب نہ چھوڑے صیاد قیدیوں کو
جی ہی سے مارتی ہے آزادی بے پری کی
اس رشک مہ سے ہر شب ہے غیر سے لڑائی
بخت سیہ نے بارے ان روزوں یاوری کی
کھٹ پچریاں ہی کی ہیں صراف کے نے ہم سے
پیسے دے بیروئی کی پھر لے گئے کھری کی
گذرے بسان صرصر عالم سے بے تامل
افسوس میر تم نے کیا سیر سرسری کی
میر تقی میر