ٹیگ کے محفوظات: کھایئے

کیا کیجے میری جان اگر مر نہ جایئے

دیوان اول غزل 595
منصف جو تو ہے کب تئیں یہ دکھ اٹھایئے
کیا کیجے میری جان اگر مر نہ جایئے
اظہار راز عشق کیے بن رہے نہ اشک
اس طفل ناسمجھ کو کہاں تک پڑھایئے
تم نے جو اپنے دل سے بھلایا ہمیں تو کیا
اپنے تئیں تو دل سے ہمارے بھلایئے
فکر معاش یعنی غم زیست تا بہ کے
مر جایئے کہیں کہ ٹک آرام پایئے
جاتے ہیں کیسی کیسی لیے دل میں حسرتیں
ٹک دیکھنے کو جاں بلبوں کے بھی آیئے
لوٹوں ہوں جیسے خاک چمن پر میں اے سپہر
گل کو بھی میری خاک پہ ووہیں لٹایئے
ہوتا نہیں ہوں حضرت ناصح میں بے دماغ
کر کرکے پوچ گوئی مری جان کھایئے
پہنچا تو ہو گا سمع مبارک میں حال میر
اس پر بھی جی میں آوے تو دل کو لگایئے
میر تقی میر

ایک دن یوں ہی جی سے جایئے گا

دیوان اول غزل 98
کب تلک یہ ستم اٹھایئے گا
ایک دن یوں ہی جی سے جایئے گا
شکل تصویر بے خودی کب تک
کسو دن آپ میں بھی آیئے گا
سب سے مل چل کہ حادثے سے پھر
کہیں ڈھونڈا بھی تو نہ پایئے گا
نہ موئے ہم اسیری میں تو نسیم
کوئی دن اور بائو کھایئے گا
کہیے گا اس سے قصۂ مجنوں
یعنی پردے میں غم سنایئے گا
اس کے پابوس کی توقع پر
اپنے تیں خاک میں ملایئے گا
اس کے پائوں کو جا لگی ہے حنا
خوب سے ہاتھ اسے لگایئے گا
شرکت شیخ و برہمن سے میر
کعبہ و دیر سے بھی جایئے گا
اپنی ڈیڑھ اینٹ کی جدی مسجد
کسی ویرانے میں بنایئے گا
میر تقی میر