ٹیگ کے محفوظات: کھانے

زاغ جُتے دیکھے، پس خوردہ کھانے میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
فرق نہ سمجھیں کچھ دھُتکارے جانے میں
زاغ جُتے دیکھے، پس خوردہ کھانے میں
پیڑ بحالِ ضعف بھی ہے مسرور لگا
خشک زبانوں کے پرچم لہرانے میں
پر ٹُوٹے اور ساتھ ہوا نے چھوڑ دیا
سطر بڑھا دو یہ بھی اب افسانے میں
لو اس کو بھی تکڑی تول جو رکھتا تھا
وقت نے دیر نہ کی عادل ٹھہرانے میں
اپنی جگہ امید سے پیروکار سبھی
رہبر محو ہے ماجد، مال بنانے میں
ماجد صدیقی

مسند سے وُہ شخص نہیں ہے جانے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
ڈھنگ جِسے آئے سب کو بہلانے کا
مسند سے وُہ شخص نہیں ہے جانے کا
ویسا ہی، کنکر ہو جیسے کھانے میں
بزم میں تھا احساس کسی بیگانے کا
کام نہ کیونکر ہم بھی یہی اَب اپنا لیں
ساری اچّھی قدریں بیچ کے کھانے کا
وُہ چنچل جب بات کرے تو، گُر سیکھے
بادِصبا بھی اُس سے پھُول کھِلانے کا
پُوچھتے کیا ہو پیڑ تلک جب ٹُوٹ گرے
حال کہیں کیا ہم اپنے کاشانے کا
آیا ہے وُہ دَور کہ باغ میں پھُولوں کو
گرد بھی کرتب دِکھلائے سہلانے کا
جوڑتے ہو کیوں سُوکھے پتّے شاخوں سے
حاصل کیا؟ پچھلی باتیں دہرانے کا
ماجدؔ ہر کردار ہی جس کا شاطر ہے
جانے کیا عنوان ہو اُس افسانے کا
ماجد صدیقی

جاگا تو میں خود اپنے ہی سرہانے بیٹھا تھا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 10
خواب میں کوئی مجھ کو آس دلانے بیٹھا تھا
جاگا تو میں خود اپنے ہی سرہانے بیٹھا تھا
یونہی رکا تھا دم لینے کو، تم نے کیا سمجھا؟
ہار نہیں مانی تھی بس سستانے بیٹھا تھا
خود بھی لہو لہان ہُوا دل، مجھے بھی زخم دیئے
میں بھی کیسے وحشی کو سمجھانے بیٹھا تھا
لاکھ جتن کرنے پر بھی کم ہُوا نہ دل کا بوجھ
کیسا بھاری پتھر میں سرکانے بیٹھا تھا
تارے کرنوں کی رتھ پر لائے تھے اُس کی یاد
چاند بھی خوابوں کا چندن مہکانے بیٹھا تھا
نئے برس کی خوشیوں میں مشغول تھے سب، اور میں
گئے برس کی چوٹوں کو سہلانے بیٹھا تھا
وہ تو کل جھنکار سے پرکھ لیا اُس گیانی نے
میں تو پیتل کے سکۤے چمکانے بیٹھا تھا
دشمن جتنے آئے ان کے خطا ہوئے سب تیر
لیکن اپنوں کا ہر تیر نشانے بیٹھا تھا
قصوں کو سچ ماننے والے، دیکھ لیا انجام؟
پاگل جھوٹ کی طاقت سے ٹکرانے بیٹھا تھا
مت پوچھو کتنی شدت سے یاد آئی تھی ماں
آج میں جب چٹنی سے روٹی کھانے بیٹھا تھا
اپنا قصور سمجھ نہیں آیا جتنا غور کیا
میں تو سچے دل سے ہی پچھتانے بیٹھا تھا
عین اُسی دم ختم ہوئی تھی مہلت جب عرفان
خود کو توڑ چکا تھا اور بنانے بیٹھا تھا
عرفان ستار

یاد بھی طور ہے بُھلانے کا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 19
ہے عجب حال یہ زمانےکا
یاد بھی طور ہے بُھلانے کا
پسند آیا ہمیں بہت پیشہ
خود ہی اپنے گھروں کو ڈھانے کا
کاش ہم کو بھی ہو نصیب کبھی
عیش دفتر میں گنگنانے کا
آسمانِ خموشئ جاوید
میں بھی اب لب نہیں ہلانے کا
جان! کیا اب ترا پیالہء ناف
نشہ مجھ کو نہیں پِلانے کا
شوق ہےِاس دل درندہ کو
آپ کے ہونٹ کاٹ کھانے کا
اتنا نادم ہوا ہوں خود سے کہ میں
اب نہیں خود کو آزمانےکا
کیا کہوں جان کو بچانے میں
جون خطرہ ہے جان جانے کا
یہ جہاں جون! اک جہنم ہے
یاں خدا بھے نہیں ہے آنے کا
زندگی ایک فن ہے لمحوں کا
اپنے انداز سے گنوانے کا
جون ایلیا

اس گھر میں کوئی بھی نہ تھا شرمندہ ہوئے ہم جانے سے

دیوان پنجم غزل 1757
کیسی سعی و کشش کوشش سے کعبے گئے بت خانے سے
اس گھر میں کوئی بھی نہ تھا شرمندہ ہوئے ہم جانے سے
دامن پر فانوس کے تھا کچھ یوں ہی نشاں خاکستر کا
شوق کی میں جو نہایت پوچھی جان جلے پروانے سے
ننگے سامنے آتے تھے تو کیا کیا زجر اٹھاتے تھے
ننگ لگا ہے لگنے انھیں اب بات ہماری مانے سے
پاس غیرت تم کو نہیں کچھ دریا پرسن غیر کو تم
گھر سے اٹھ کے چلے جاتے ہو نہانے کے بھی بہانے سے
تم نے کہا مر رہ بھی جاکر بندہ جاکر مر ہی رہا
کس دن میں نے عدول کیا ہے صاحب کے فرمانے سے
سوکھ کے ہوں لکڑی سے کیوں نہ زرد و زبوں ہم عاشق زار
کچھ نہیں رہتا انساں میں ہر لحظہ غم کے کھانے سے
جب دیکھو تب تربت عاشق جھکڑ سے ہے تزلزل میں
عشق ہے باد صرصر کو یاں ان کی خاک اڑانے سے
برسوں میں پہچان ہوئی تھی سو تم صورت بھول گئے
یہ بھی شرارت یاد رہے گی ہم کو نہ جانا جانے سے
سنی سنائی بات سے واں کی کب چیتے ہیں ہم غافل
دونوں کان بھرے ہیں اپنے بے تہ یاں کے فسانے سے
میر کی تیری کیا سلجھے گی حرف و سخن میں گنجلک ہے
کوئی بھی عاقل الجھ پڑے ہے ناصح ایسے دوانے سے
میر تقی میر

ایدھر دیکھو ہم نے نہیں کی خم ابرو مر جانے پر

دیوان پنجم غزل 1612
ٹیڑھی نگاہیں کیا کرتے ہو دم بھر کے یاں آنے پر
ایدھر دیکھو ہم نے نہیں کی خم ابرو مر جانے پر
زور ہوا ہے چل صوفی ٹک تو بھی رباط کہنہ سے
ابر قبلہ بڑھتا بڑھتا آیا ہے میخانے پر
گل کھائے بے تہ بلبل نے شور قیامت کا سا کیا
دیکھ چمن میں اس بن میرے چپکے جی بہلانے پر
سر نیچے کر لیتا تھا تلوار چلاتے ہم پر وے
ریجھ گئے خوں ریزی میں اپنی اس کے پھر شرمانے پر
گالی مار کے غم پر میں نے صبر کیا خاموش رہا
رحم نہ آیا ٹک ظالم کو اس میرے غم کھانے پر
نادیدہ ہیں نام خدا کے ایسے جیسے قحط زدہ
دوڑتی ہیں کیا آنکھیں اپنی سبحے کے دانے دانے پر
حال پریشاں سن مجنوں کا کیا جلتا ہے جی اپنا
عاشق ہم بھی میر رہے ہیں اس ڈھب کے دیوانے پر
میر تقی میر

قسم کھائی ہو جس نے خواب میں بھی منھ دکھانے کی

دیوان سوم غزل 1300
عزیز و کون سی صورت ہے ظاہر اس کے آنے کی
قسم کھائی ہو جس نے خواب میں بھی منھ دکھانے کی
تگ ان پلکوں کو ہے ٹھوکر سے فتنے کے جگانے کی
طرح آتی ہے اس قد کو قیامت سر پہ لانے کی
کسو سے آنکھ کے ملتے ہی اپنی جان دے بیٹھے
نئی یہ رسم ہم جاتے ہیں چھوڑے دل لگانے کی
جہاں ہم آئے چہرے پر بکھیرے بال جا سوئے
ادا کرتے ہو تم کیا خوب ہم سے منھ چھپانے کی
مسیں بھیگی ہیں اس کے سبزئہ خط کی بدایت سے
مسیحؑ و خضرؑ کو پہنچی بشارت زہر کھانے کی
جہاں اس کے لیے غربال کر نومید ہو بیٹھے
یہی اجرت ملی ہے کیا ہماری خاک چھانے کی
کہوں کیا ایک بوسہ لب کا دے کر خوب رگڑایا
رکھی برسوں تلک منت کبھو کی بات مانے کی
بگولا کوئی اٹھتا ہے کہ آندھی کوئی آتی ہے
نشان یادگاری ہے ہماری خاک اڑانے کی
کرے ہے داغ اس کا عید کو سب سے گلے ملنا
اکت لی ہے نئی یہ میری چھاتی کے جلانے کی
لڑا کر آنکھیں اس اوباش سے اک پل میں مر گذرا
حکایت بوالعجب ہے میر جی کے مارے جانے کی
میر تقی میر

دانت سنا ہے جھمکیں ہیں اس کے موتی کے سے دانے دو

دیوان سوم غزل 1220
گردش میں وے مست آنکھیں ہیں جیسے بھرے پیمانے دو
دانت سنا ہے جھمکیں ہیں اس کے موتی کے سے دانے دو
خوب نہیں اے شمع کی غیرت ساتھ رہیں بیگانے دو
کب فرمان پہ تیرے ہوئے یہ بازو کے پروانے دو
ایسے بہانہ طلب سے ہم بھی روز گذاری کرتے ہیں
کب وعدے کی شب آئی جو ان نے کیے نہ بہانے دو
تیرستم اس دشمن جاں کا تا دو کماں پر ہو نہ کہیں
دل سے اور جگر سے اپنے ہم نے رکھیں ہیں نشانے دو
کس کو دماغ رہا ہے یاں اب ضدیں اس کی اٹھانے کا
چار پہر جب منت کریے تب وہ باتیں مانے دو
غم کھاویں یا غصہ کھاویں یوں اوقات گذرتی ہے
قسمت میں کیا خستہ دلوں کی یہ ہی لکھے تھے کھانے دو
خال سیاہ و خط سیاہ ایمان و دل کے رہزن تھے
اک مدت میں ہم نے بارے چوٹٹے یہ پہچانے دو
عشق کی صنعت مت پوچھو جوں نیچے بھوئوں کے چشم بتاں
دیکھیں جہاں محرابیں ان نے طرح کیے میخانے دو
رونے سے تو پھوٹیں آنکھیں دل کو غموں نے خراب کیا
دیکھنے قابل اس کے ہوئے ہیں اب تو یہ ویرانے دو
دشت و کوہ میں میر پھرو تم لیکن ایک ادب کے ساتھ
کوہکن و مجنوں بھی تھے اس ناحیے میں دیوانے دو
میر تقی میر

جان سے بھی ہم جاتے رہے ہیں تم بھی آئو جانے دو

دیوان سوم غزل 1219
قتل کیے پر غصہ کیا ہے لاش مری اٹھوانے دو
جان سے بھی ہم جاتے رہے ہیں تم بھی آئو جانے دو
جان سلامت لے کر جاوے کعبہ میں تو سلام کریں
ایک جراحت ان ہاتھوں کا صید حرم کو کھانے دو
اس کی گلی کی خاک سبھوں کے دامن دل کو کھینچے ہے
ایک اگر جی لے بھی گیا تو آتے ہیں مر جانے دو
کرتے ہو تم نیچی نظریں یہ بھی کوئی مروت ہے
برسوں سے پھرتے ہیں جدا ہم آنکھ سے آنکھ ملانے دو
کیا کیا اپنے لوہو پئیں گے دم میں مریں گے دم میں جئیں گے
دل جو بغل میں رہ نہیں سکتا اس کو کسو سے بکانے دو
اب کے بہت ہے شور بہاراں ہم کو مت زنجیر کرو
دل کی ہوس ٹک ہم بھی نکالیں دھومیں ہم کو مچانے دو
عرصہ کتنا سارے جہاں کا وحشت پر جو آجاویں
پائوں تو ہم پھیلاویں گے پر فرصت ہم کو پانے دو
کیا جاتا ہے اس میں ہمارا چپکے ہم تو بیٹھے ہیں
دل جو سمجھنا تھا سو سمجھا ناصح کو سمجھانے دو
ضعف بہت ہے میر تمھیں کچھ اس کی گلی میں مت جائو
صبر کرو کچھ اور بھی صاحب طاقت جی میں آنے دو
بات بنانا مشکل سا ہے شعر سبھی یاں کہتے ہیں
فکر بلند سے یاروں کو ایک ایسی غزل کہہ لانے دو
میر تقی میر

نہیں آتیں کیا تجھ کو آنے کی باتیں

دیوان سوم غزل 1189
نہ کر شوق کشتوں سے جانے کی باتیں
نہیں آتیں کیا تجھ کو آنے کی باتیں
سماجت جو کی بوس لب پر تو بولا
نہیں خوب یہ مار کھانے کی باتیں
زبانیں بدلتے ہیں ہر آن خوباں
یہ سب کچھ ہیں بگڑے زمانے کی باتیں
نظر جب کرو زیر لب کچھ کہے ہے
کہو یار کے آستانے کی باتیں
سہی جائے گالی اگر دوستی ہو
بری بھی بھلی ہیں لگانے کی باتیں
ہمیں دیر و کعبے سے کیا گفتگو ہے
چلی جاتی ہیں یہ سیانے کی باتیں
بگڑ بھی چکے یار سے ہم تو یارو
کرو کچھ اب اس سے بنانے کی باتیں
کیا سیر کل میں نے دیوان مجنوں
خوش آئیں بہت اس دوانے کی باتیں
بہت ہرزہ گوئی کی یاں میر صاحب
کرو واں کے کچھ منھ دکھانے کی باتیں
میر تقی میر

یک رمق جی تھا بدن میں سو بھی گھبرانے لگا

دیوان سوم غزل 1074
رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگا
یک رمق جی تھا بدن میں سو بھی گھبرانے لگا
وہ لڑکپن سے نکل کر تیغ چمکانے لگا
خون کرنے کا خیال اب کچھ اسے آنے لگا
لعل جاں بخش اس کے تھے پوشیدہ جوں آب حیات
اب تو کوئی کوئی ان ہونٹوں پہ مر جانے لگا
حیف میں اس کے سخن پر ٹک نہ رکھا گوش کو
یوں تو ناصح نے کہا تھا دل نہ دیوانے لگا
حبس دم کے معتقد تم ہو گے شیخ شہر کے
یہ تو البتہ کہ سن کر لعن دم کھانے لگا
گرم ملنا اس گل نازک طبیعت سے نہ ہو
چاندنی میں رات بیٹھا تھا سو مرجھانے لگا
عاشقوں کی پائمالی میں اسے اصرار ہے
یعنی وہ محشر خرام اب پائوں پھیلانے لگا
چشمک اس مہ کی سی دلکش دید میں آئی نہیں
گو ستارہ صبح کا بھی آنکھ جھپکانے لگا
کیونکر اس آئینہ رو سے میر ملیے بے حجاب
وہ تو اپنے عکس سے بھی دیکھو شرمانے لگا
میر تقی میر

دھوم ہے پھر بہار آنے کی

دیوان دوم غزل 948
کچھ کرو فکر مجھ دوانے کی
دھوم ہے پھر بہار آنے کی
دل کا اس کنج لب سے دے ہیں نشاں
بات لگتی تو ہے ٹھکانے کی
وہ جو پھرتا ہے مجھ سے دور ہی دور
ہے یہ تقریب جی کے جانے کی
تیز یوں ہی نہ تھی شب آتش شوق
تھی خبر گرم اس کے آنے کی
خضر اس خط سبز پر تو موا
دھن ہے اب اپنے زہر کھانے کی
دل صد چاک باب زلف ہے لیک
بائو سی بندھ رہی ہے شانے کی
کسو کم ظرف نے لگائی آہ
تجھ سے میخانے کے جلانے کی
ورنہ اے شیخ شہر واجب تھی
جام داری شراب خانے کی
جو ہے سو پائمال غم ہے میر
چال بے ڈول ہے زمانے کی
میر تقی میر

بھر نہ آویں کیونکے آنکھیں میری پیمانے کی طرح

دیوان دوم غزل 794
دور گردوں سے ہوئی کچھ اور میخانے کی طرح
بھر نہ آویں کیونکے آنکھیں میری پیمانے کی طرح
آنکلتا ہے کبھو ہنستا تو ہے باغ و بہار
اس کی آمد میں ہے ساری فصل گل آنے کی طرح
چشمک انجم میں اتنی دلکشی آگے نہ تھی
سیکھ لی تاروں نے اس کی آنکھ جھمکانے کی طرح
ہم گرفتاروں سے وحشت ہی کرے ہے وہ غزال
کوئی تو بتلائو اس کے دام میں لانے کی طرح
ایک دن دیکھا جو ان نے بید کو تو کہہ اٹھا
اس شجر میں کتنی ہے اس میرے دیوانے کی طرح
آج کچھ شہر وفا کی کیا خرابی ہے نئی
عشق نے مدت سے یاں ڈالی ہے ویرانے کی طرح
پیچ سا کچھ ہے کہ زلف و خط سے ایسا ہے بنائو
ہے دل صد چاک میں بھی ورنہ سب شانے کی طرح
کس طرح جی سے گذر جاتے ہیں آنکھیں موند کر
دیدنی ہے دردمندوں کے بھی مر جانے کی طرح
ہے اگر ذوق وصال اس کا تو جی کھو بیٹھیے
ڈھونڈ کر اک کاڑھیئے اب اس کے بھی پانے کی طرح
یوں بھی سر چڑھتا ہے اے ناصح کوئی مجھ سے کہ ہائے
ایسے دیوانے کو سمجھاتے ہیں سمجھانے کی طرح
جان کا صرفہ نہیں ہے کچھ تجھے کڑھنے میں میر
غم کوئی کھاتا ہے میری جان غم کھانے کی طرح
میر تقی میر

کچھ دیر میں ہم مرجھانے کو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 174
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا
کچھ دیر میں ہم مرجھانے کو ہیں
کوئی آکے ہمیں زنجیر کرے
ہم رقصِ جنوں فرمانے کو ہیں
جو بادل بستی چھوڑ گئے
کسی بن پہ بھرن برسانے کو ہیں
اب جاؤ ہمارے دھیان سے تم
ہم پل بھر جی بہلانے کو ہیں
جس شہر سے اس نے کوچ کیا
ہم کون وہاں رہ جانے کو ہیں
دل کیسے ریت میں ڈوب گیا
آنکھیں تو دھوکا کھانے کو ہیں
اب ہونٹوں پر کوئی ہاتھ نہیں
ہم دل کی بات بتانے کو ہیں
عرفان صدیقی

کہاں ہیں زمانے کا غم کھانے والے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 211
تباہی کے بادل ہیں لہرانے والے
کہاں ہیں زمانے کا غم کھانے والے
غم زندگی سے نظر تو ملائیں
غم عشق پر ناز فرمانے والے
زمانہ کسی کا ہوا ہے نہ ہو گا
ارے او فریب وفا کھانے والے
نظر اے فقیر سر راہ پر بھی
طواف حرم کے لئے جانے والے
چلو جام اک اور پی آئیں باقیؔ
ابھی جاگتے ہوں گے میخانے والے
باقی صدیقی

کر نہ تکلیف مسکرانے کی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 168
اب نہیں تاب زخم کھانے کی
کر نہ تکلیف مسکرانے کی
ہے خبر گرم ان کے آنے کی
کون سنتا ہے اب زمانے کی
زندگی پھر نہ راہ پر آئی
دیر تھی اک فریب کھانے کی
سب کی نظروں میں ہم کھٹکنے لگے
یہ سزا ہے مراد پانے کی
تھا زمانہ بھی مہرباں باقیؔ
جب ضرورت نہ تھی زمانے کی
باقی صدیقی

تان ٹوٹی شراب خانے پر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 76
تبصرہ تھا مرے فسانے پر
تان ٹوٹی شراب خانے پر
جتنی باتیں قفس میں چھڑتی ہیں
ختم ہوتی ہیں آشیانے پر
زندگی بن کے اک نگاہ بسیط
جا پڑی تیرے آستانے پر
اے زمانے سے کھیلنے والو
اور الزام اک زمانے پر
زندگانی کا سب مزہ باقیؔ
منحصر ہے فریب کھانے پر
باقی صدیقی

اب تکلیف کرو نہ آے کا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 44
چل گیا ہے فسوں زمانے کا
اب تکلف کرو نہ آنے کا
دیکھ کر ہم کو بے نیاز حیات
حوصلہ بڑھ گیا زمانے کا
وقت ہو تو حضور سن لیجے
آخری باب ہے فسانے کا
اک ستارہ بھی آسماں پہ نہیں
کیا کوئی وقت ہے یہ جانے کا
ڈوبتا جا رہا ہے دل باقیؔ
وقت یہ تھا فریب کھانے کا
باقی صدیقی

عجب نہیں ترا در بھی نہ ان کو پہچانے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 32
چلے ہیں ایک زمانے کے بعد دیوانے
عجب نہیں ترا در بھی نہ ان کو پہچانے
ادا شناس نگاہیں بھی کھا گئیں دھوکا
یہ کس لباس میں نکلے ہیں تیرے دیوانے
کسی امید پہ پھر بھی نظر بھٹکتی ہے
اگرچہ چھان چکے ہیں دلوں کے ویرانے
کہیں نہ روشنی پاؤ گے میرے دل کے سوا
کہاں چلے ہو اندھیرے میں ٹھوکریں کھانے
تری نگاہ نے رستہ بدل دیا ورنہ
چلے تھے ہم بھی غم زندگی کو اپنانے
بہار انجمن شب میں اب وہ بات کہاں
ہزار شمع جلے، لاکھ آئیں پروانے
پر ایک بات زباں پر نہ آ سکی باقیؔ
کہاں کہاں کے سنائے ہیں ہم نے افسانے
باقی صدیقی