ٹیگ کے محفوظات: کھال

ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ہم نے کھیلی وقت سے جو بھی چال گئی
ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی
ڈھانپنے والے تھے ہم جس سے سر اپنا
اُس سودے میں ساتھ ہی اپنی کھال گئی
خواہش، لُطف کی آخری حد چھُو لینے کی
چھین کے ہم سے کیا کیا ماہ و سال گئی
دیکھا رنگ اور رُوپ دلائے جس نے اِنہیں
پیڑوں کو آثار میں وُہ رُت ڈھال گئی
ہمیں چِڑانے باغ سے آتی تھی جو صبا
آخر ہم سے بھی ہو کر بے حال گئی
اُس چنچل کی بات کچھ ایسی پیچاں تھی
رگ رگ میں جو سو سو گرہیں ڈال گئی
ماجدؔ بات ہماری لیکھ سنورنے کی
ہر جاتی رُت اگلی رُت پر ٹال گئی
ماجد صدیقی

ہنسی ہنسی میں مری بات پھر وہ ٹال گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 147
اِک اور بار بھی غارت مرا سوال گیا
ہنسی ہنسی میں مری بات پھر وہ ٹال گیا
بحال کتنا ہی چہرہ ہو دیکھنے میں مگر
جو آئنے میں تھا دل کے نہیں وہ بال گیا
چہک رہا تھا کہ شاخوں میں سرسراہٹ سے
مرے سَرُور کا یک بارگی جمال گیا
لپک تھی جس کو دکھانے کی چال کا جادو
ہرن وہ آج اُدھڑوا کے اپنی کھال گیا
کھلا حساب خسارے کا پھر نیا ماجدؔ
شمارِ کرب و الم میں اک اور سال گیا
ماجد صدیقی

آنے لگا ہے حرف، چمن کے جمال پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
مجھ برگِ خشک سے کہ ابھی ہوں جو ڈال پر
آنے لگا ہے حرف، چمن کے جمال پر
ممنوع جب سے آبِ فراتِ نمو ہوا
کیا کچھ گئی ہے بِیت، گلستاں کی آل پر
مانندِ زخم، محو شجر سے بھی ہو گئے
چاقو کے ساتھ نام کھُدے تھے جو چھال پر
گُرگانِ باتمیز بھی ملتے ہیں کُچھ یہاں
کیجے نہ اعتبار دکھاوے کی کھال پر
ماجدؔ رہیں نصیب یہ دانائیاں اُنہیں
قدغن لگا رہے ہیں جو برقِ خیال پر
ماجد صدیقی

پلکیں سفید کر گئے دو پل ملال کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 572
ہجراں کے بے کنار جہنم میں ڈال کے
پلکیں سفید کر گئے دو پل ملال کے
میں آنکھ کی دراز میں کرتا ہوں کچھ تلاش
گہرے سیاہ بلب سے منظر اجال کے
دفنا نہیں سکا میں ابھی تک زمین میں
کچھ روڈ پر مرے ہوئے دن پچھلے سال کے
بستر پہ کروٹوں بھری شکنوں کے درمیاں
موتی گرے پڑے ہیں تری سرخ شال کے
تصویر میں نے اپنی سجا دی ہے میز پر
باہر فریم سے ترا فوٹو نکال کے
پازیب کے خرام کی قوسیں تھیں پاؤں میں
کتھک کیا تھا اس نے کناروں پہ تھال کے
اڑنے دے ریت چشمِ تمنا میں دشت کی
رکھا ہوا ہے دل میں سمندر سنبھال کے
سر پہ سجا لیے ہیں پرندوں کے بال و پر
جوتے پہن لیے ہیں درندوں کی کھال کے
آنکھوں تلک پہنچ گئی، دلدل تو کیا کروں
رکھا تھا پاؤں میں نے بہت دیکھ بھال کے
حیرت فزا سکوت ہے دریائے ذات پر
آبِ رواں پہ اترے پرندے کمال کے
میں سن رہا ہوں زرد اداسی کی تیز چاپ
جھڑنے لگے ہیں پیڑ سے پتے وصال کے
منصور راکھ ہونے سے پہلے فراق میں
سورج بجھانے والا ہوں پانی اچھال کے
منصور آفاق