ٹیگ کے محفوظات: کھاتا

کیا ہنستے ہو اے دنیا والو، دیوانے کو بہلاتا ہُوں

مجبور ہُوں دل کے ہاتھوں سے پھر کوئے بتاں کو جاتا ہُوں
کیا ہنستے ہو اے دنیا والو، دیوانے کو بہلاتا ہُوں
ہُوں نَو سَفَرِ راہِ الفت، تا راس آجائے خوئے بتاں
اے محوِ تماشا دیکھ ذرا، کس شوق سے ٹھوکر کھاتا ہُوں
محرومیِ منزل قسمت ہے، اتمامِ سَفَر ہو گا نہ کبھی
دو چار قدم پر منزل ہے اور میں ہُوں کہ بیٹھا جاتا ہُوں
اخلاص و محبّت سے عاری اِس حرص و ہَوس کی دنیا میں
اِخلاص و محبّت جُرم مرے، میں خوارِ جہاں کہلاتا ہُوں
کچھ گرمیِ محشر تیز ہُوئی، کچھ داوَرِ محشر چونک اُٹھا
کچھ وہ بھی پریشاں ہیں ضامنؔ، میں داغِ جگر دِکھلاتا ہُوں
ضامن جعفری

کیا جانوں میں روئوں گا کیسا دریا چڑھتا آتا ہے

دیوان پنجم غزل 1743
دل بھی بھرا رہتا ہے میرا جی بھی رندھا کچھ جاتا ہے
کیا جانوں میں روئوں گا کیسا دریا چڑھتا آتا ہے
سچ ہے وہ جو کہا کرتا ہے کون ہے تو کیا سمجھے ہمیں
بیگانے تو ہیں ہی ہم وے ناؤں کا چاہ کا ناتا ہے
تو بلبل آزردہ نہ ہو گل پھول سے باغ بہاراں میں
رنج کش الفت ہے عاشق جی اپنا بہلاتا ہے
عشق و محبت کیا جانوں میں لیکن اتنا جانوں ہوں
اندر ہی سینے میں میرے دل کو کوئی کھاتا ہے
عاشق اپنا جان لیا ہے ان نے شاید میر ہمیں
دیکھ بھری مجلس میں اپنی ہم ہی سے شرماتا ہے
میر تقی میر

آخر اب دوری میں جی جاتا رہا

دیوان چہارم غزل 1334
عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا
آخر اب دوری میں جی جاتا رہا
مہر و مہ گل پھول سب تھے پر ہمیں
چہرئی چہرہ ہی وہ بھاتا رہا
دل ہوا کب عشق کی رہ کا دلیل
میں تو خود گم ہی اسے پاتا رہا
منھ دکھاتا برسوں وہ خوش رو نہیں
چاہ کا یوں کب تلک ناتا رہا
کچھ نہ میں سمجھا جنون و عشق میں
دیر ناصح مجھ کو سمجھاتا رہا
داغ تھا جو سر پہ میرے شمع ساں
پائوں تک مجھ کو وہی کھاتا رہا
کیسے کیسے رک گئے ہیں میر ہم
مدتوں منھ تک جگر آتا رہا
میر تقی میر

ہم کو یہ تیر ماہ جاتا ہے

دیوان سوم غزل 1270
تیر جوڑے وہ ماہ آتا ہے
ہم کو یہ تیر ماہ جاتا ہے
گل کو سر پر رکھیں سبھی لیکن
اب دماغ اپنا کب اٹھاتا ہے
اپنا اپنا ہے ذائقہ ہم کو
بوسۂ کنج لب ہی بھاتا ہے
آتش عشق جس کے دل کو لگے
شمع ساں آپ ہی کو کھاتا ہے
دیکھنا ہے تو ہے بہم پر وہ
ہم سے آنکھوں کو کب ملاتا ہے
میری تو ہے پلک سے چھوٹی نگاہ
اور وہ اس پہ منھ چھپاتا ہے
میر صناع ہے ملو اس سے
دیکھو تو باتیں کیا بناتا ہے
میر تقی میر

خفت کھینچ کے جاتا ہوں رہتا نہیں دل پھر آتا ہوں

دیوان سوم غزل 1181
ظلم و ستم کیا جور و جفا کیا جو کچھ کہیے اٹھاتا ہوں
خفت کھینچ کے جاتا ہوں رہتا نہیں دل پھر آتا ہوں
گھر سے اٹھ کر لڑکوں میں بیٹھا بیت پڑھی دو باتیں کیں
کس کس طور سے اپنے دل کو اس بن میں بہلاتا ہوں
ہائے سبک ہونا یہ میرا فرط شوق سے مجلس میں
وہ تو نہیں سنتا دل دے کر میں ہی باتیں بناتا ہوں
قتل میں میرے یہ صحبت ہے غم غصے سے محبت کے
لوہو اپنا پیتا ہوں تلواریں اس کی کھاتا ہوں
آنے کی میری فرصت کتنی دو دم دو پل ایک گھڑی
رنجش کیوں کا ہے کو خشونت غصہ کیا ہے جاتا ہوں
سرماروں ہوں ایدھر اودھر دور تلک جاتا ہوں نکل
پاس نہیں پاتا جو اس کو کیا کیا میں گھبراتا ہوں
پھاڑ کے خط کو گلے میں ڈالا شہر میں سب تشہیر کیا
سامنے ہوں قاصد کے کیونکر اس سے میں شرماتا ہوں
پہلے فریب لطف سے اس کے کچھ نہ ہوا معلوم مجھے
اب جو چاہ نے بدلیں طرحیں کڑھتا ہوں پچھتاتا ہوں
مجرم اس خاطر ہوتا ہوں میں بعضی بعضی شوخی کر
عذر گناہ میں جاکر اس کے پائوں کو ہاتھ لگاتا ہوں
دیکھے ان پلکوں کے اکثر میر ہوں بے خود تنگ آیا
آپ کو پاتا ہوں تو چھری اس وقت نہیں میں پاتا ہوں
میر تقی میر

رات کا بھی کیا ہی مینھ آیا تھا پر جاتا رہا

دیوان سوم غزل 1078
یاد خط میں اس کے جی بھر آ کے گھبراتا رہا
رات کا بھی کیا ہی مینھ آیا تھا پر جاتا رہا
کیا قیامت ہوتی بے پردہ ہوئے کیا جانیے
مصلحت ہی ہو گی ہم سے وہ جو شرماتا رہا
قدموزوں یار کا خاطر سے جاتا ہی نہیں
میں اسی مصرع کو ساری عمر ڈولاتا رہا
کل مکل بیتاب دل سے آج کل کی کچھ نہیں
میں تو اس غم کش کو بے کل ہی سدا پاتا رہا
آگ کھا جاتی ہے خشک و تر جو اس کے منھ پڑے
میں تو جیسے شمع اپنے ہی تئیں کھاتا رہا
میری تیری چاہ منھ دیکھے کی ہے جوں آرسی
آنکھ پھیری جس گھڑی پھر کاہے کا ناتا رہا
ہو گئے ہم محتسب کی بے شعوری سے اسیر
شیخ میں کچھ ہوش تھا میخانے سے جاتا رہا
لوگ ہی اس کارواں کے حرف نشنو تھے تمام
راہ چلتے تو جرس ہر گام چلاتا رہا
میر دیوانہ ہے اچھا بات کیا سمجھے مری
یوں تو مجھ سے جب ملا میں اس کو سمجھاتا رہا
میر تقی میر

پھر جو یاد آتا ہے وہ چپکا سا رہ جاتا ہوں میں

دیوان دوم غزل 871
کیا کہوں اول بخود تو دیر میں آتا ہوں میں
پھر جو یاد آتا ہے وہ چپکا سا رہ جاتا ہوں میں
داغ ہوں کیونکر نہ میں درویش یارو جب نہ تب
بوریا پوشوں ہی میں وہ شعلہ خو پاتا ہوں میں
ہجر میں اس طفل بازی کوش کے رہتا ہوں جب
جا کے لڑکوں میں ٹک اپنے دل کو بہلاتا ہوں میں
ہوں گرسنہ چشم میں دیدار خوباں کا بہت
دیکھنے پر ان کے تلواریں کھڑا کھاتا ہوں میں
آب سب ہوتا ہوں پاکر آپ کو جیسے حباب
یعنی اس ننگ عدم ہستی سے شرماتا ہوں میں
ایک جاگہ کب ٹھہرنے دے ہے مجھ کو روزگار
کیوں تم اکتاتے ہو اتنا آج کل جاتا ہوں میں
ہے کمال عشق پر بے طاقتی دل کی دلیل
جلوئہ دیدار کی اب تاب کب لاتا ہوں میں
آسماں معلوم ہوتا ہے ورے کچھ آگیا
دور اس سے آہ کیسا کیسا گھبراتا ہوں میں
بس چلے تو راہ اودھر کی نہ جائوں لیک میر
دل مرا رہتا نہیں ہر چند سمجھاتا ہوں میں
میر تقی میر