ٹیگ کے محفوظات: کھائے

حرف در حرف نئے پُھول کِھلائے ہم نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
گُن سخن میں وُہ رُخِ یار کے لائے ہم نے
حرف در حرف نئے پُھول کِھلائے ہم نے
نزد اِن کے بھی کسی شہ کی سواری اُترے
اِس گماں پر بھی در و بام سجائے ہم نے
جن کی تنویر میں کام آیا ہم ایسوں کا لہو
آنگنوں آنگنوں وُہ دِیپ جلائے ہم نے
ہاں رسا ہونے نہ پائی کوئی فریاد و دُعا
عرش کے پائے بھی کیا کیا نہ ہِلائے ہم نے
جھڑکیوں سے کہیں،افیون سے وعدوں کی کہیں
شاہ کہتے کہ ’’یُوں لوگ سُلائے ہم نے’‘
عقل سے شکل سے جِن جِن کی، نحوست ٹپکے
ایسے بُودم بھی سر آنکھوں پہ بِٹھائے ہم نے
کسی انساں کی دولتّی سے لگیں جو ماجِد
جانتے بُوجھتے وُہ زخم بھی کھائے ہم نے
ماجد صدیقی

انگناں اُترا پُورا چندا آتی شب گھٹ جائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
آج کے دن کا لطف اُٹھا لے، آج نہیں پِھر آئے گا
انگناں اُترا پُورا چندا آتی شب گھٹ جائے گا
انساں گِدھ یا زاغ نہیں ہے اُس سے مرے کب اُس کا ضمیر
چال چلے یا ظلم کرے وُہ،آخر کو پچتائے گا
اچّھا کر اور اچّھا کرکے،اُس کے انت کی فکر نہ کر
خَیر کے بِیج سے دیکھنا اِک دِن پَودا اُگ ہی آئے گا
ماجِداپنے سُخن کی ضَو پرپڑتے چھینٹوں کو یہ بتا
چاند پہ جو بھی تُھوکے گا آخر کو منہ کی کھائے گا
ماجد صدیقی

وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 75
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں
وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں
اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں
تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں
رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے
تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں
وہ ہنس کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے
یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں
نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانی
کہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے جاتے ہیں
قمر افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقے سے
ستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیں
قمر جلالوی

بگڑی ہے تیرے دور میں ایسی ہوائے گل

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 63
بلبل کو بھی نہیں ہے دماغِ صدائے گل
بگڑی ہے تیرے دور میں ایسی ہوائے گل
ہنگامِ غش جو غیر کو اس نے سنگھائے گل
جنت میں لے چلی مری جاں کو ہوائے گل
ایما ہے بعدِ مرگ بھی ہم بے وفا رہے
اس واسطے مزار پہ میرے چڑھائے گل
مرتی ہیں گل کے نام پہ ہی بلبلیں کہ اب
پھرتی ہیں ساتھ ساتھ مرے جب سے کھائے گل
کھٹکوں عدو کی آنکھ میں تا بعدِ مرگ بھی
کانٹے مرے مزار پہ رکھنا بجائے گل
کس کس طرح سے کھوئے گئے غیر کیا کہوں
روزِ جزا بھی سینے پہ میرے جو پائے گل
جلتی ہے تیرے حسنِ جہاں سوز سے بہار
نکلیں گے شعلے خاکِ چمن سے بجائے گل
آخر دو رنگی اس گلِ رعنا پہ کھل گئ
لوگوں کو دیکھ کر جو عدو نے چھپائے گل
عاشق سے پہلے راہِ محبت میں جان دے
کیوں کر نہ عندلیب کرے جاں فدائے گل
خاموش عندلیب، کہ طاقت نہیں رہی
ہیں چاک پردے کان کے مثلِ قبائے گل
شاید دکھانے لائے گا اس کو کہ غیر نے
بستر پہ میرے کانٹوں کے بدلے بچھائے گل
جس گل میں ہے ادا وہ چمن میں بھلا کہاں
اے بلبلو، تمہیں کو مبارک ادائے گل
میرا انہیں کو غم ہے کہ بلبل کی آہ پر
کرتا ہے کون چاک گریباں، سوائے گل
جنت میں پہنچیں بلبلیں، پروانے جل گئے
اب کون شمع گور پر اور کون لائے گل
اک گل کا شوق تھا سبب اپنی وفات کا
پھولوں کے دن مرے رفقا نے منگائے گل
لکھی یہ ہم نے وہ غزلِ تازہ شیفتہ
ہر شعر جس میں داغ دہِ دستہ ہائے گل
مصطفٰی خان شیفتہ

بات مخفی کہتے ہو غصے سے جھنجھلائے ہوئے

دیوان ششم غزل 1909
کیا طرح ہے یاں جو آئے ہو تو شرمائے ہوئے
بات مخفی کہتے ہو غصے سے جھنجھلائے ہوئے
اس مرے نوباوئہ گلزار خوبی کے حضور
اور خوباں جوں خزاں کے گل ہیں مرجھائے ہوئے
چھپ کے دیکھا ہمرہاں نے اس کو سو غش آگیا
حیف بیخود ہو گئے ہم پھر بخود آئے ہوئے
ہر زماں لے لے اٹھو ہو تیغ بیٹھا مجھ کو دیکھ
آئے ہو مستانہ کس دشمن کے بہکائے ہوئے
گھر میں جی لگتا نہیں اس بن تو ہم ہوکر اداس
دور جاتے ہیں نکل ہجراں سے گھبرائے ہوئے
ایک دن موے دراز اس کے کہیں دیکھے تھے میں
ہیں گلے کے ہار اب وے بال بل کھائے ہوئے
دشمنی سے سایۂ عاشق کو جو مارے ہے تیر
اس کماں ابرو کے جاکر میر ہمسائے ہوئے
میر تقی میر

پر خود گم ایسا میں نہیں جو سہل مجھ کو پائے وہ

دیوان ششم غزل 1868
ہر چند جذب عشق سے تشریف یاں بھی لائے وہ
پر خود گم ایسا میں نہیں جو سہل مجھ کو پائے وہ
خوبی و رعنائی ادھر بدحالی و خواری ادھر
اے وائے ہم اے وائے ہم اے ہائے وہ اے ہائے وہ
مارا ہوا چاہت کا جو آوارہ گھر سے اپنے ہو
حیراں پریشاں پھر کے پھر کیا جانے کیدھر جائے وہ
جی کتنا محو و رفتہ کا جو ہو طرف دیکھے تجھے
تو کج کرے ابرو اگر پل مارتے مرجائے وہ
الفت نہیں مجھ سے اسے کلفت کا میری غم نہیں
پاے غرض ہو درمیاں تو چل کے یاں بھی آئے وہ
عاشق کا کتنا حوصلہ یہ معجزہ ہے عشق کا
جو خستہ جاں پارہ جگر سو داغ دل پر کھائے وہ
مشکل عجائب میر ہے دیدار جوئی یار کی
دیکھے کوئی کیا اس کو جو آنکھیں لڑے شرمائے وہ
میر تقی میر

یہ صعوبت کب تلک کوئی اٹھائے

دیوان پنجم غزل 1766
درد و غم سے دل کبھو فرصت نہ پائے
یہ صعوبت کب تلک کوئی اٹھائے
طفل تہ بازار کا عاشق ہوں میں
دل فروشی کوئی مجھ سے سیکھ جائے
زار رونا چشم کا کب دیکھتے
دیکھیں ہیں لیکن خدا جو کچھ دکھائے
کب تلک چاک قفس سے جھانکیے
برگ گل یاں بھی صبا کوئی تو لائے
کب سے ہم کو ہے تلاش دست غیب
تا کمر پیچ اس کا اپنے ہاتھ آئے
اس کی اپنی بنتی ہی ہرگز نہیں
بگڑی صحبت ایسی کیا کوئی بنائے
جو لکھی قسمت میں ذلت ہو سو ہو
خط پیشانی کوئی کیونکر مٹائے
داغ ہے مرغ چمن پائیز سے
دل نہ ہو جلتا جو اس کا گل نہ کھائے
زخم سینہ میرا اس کے ہاتھ کا
ہو کوئی رجھواڑ تو اس کو رجھائے
میر اکثر عمر کے افسوس میں
زیر لب بالاے لب ہے ہائے وائے
میر تقی میر

جس کو شبہ ہووے نہ ہرگز جی کے ہمارے جائے سے

دیوان پنجم غزل 1744
اس مغرور کو کیا ہوتا ہے حال شکستہ دکھائے سے
جس کو شبہ ہووے نہ ہرگز جی کے ہمارے جائے سے
کیسا کیسا ہوکے جدا پہلو سے اس بن تڑپا ہے
کیا پوچھو ہو آئی قیامت سر پر دل کے لگائے سے
یمن تجرد سے میں اپنے روز جہاں سے گذرتا ہوں
وحشت ہے خورشید نمط اپنے بھی مجھ کو سائے سے
ہر کوے و ہر برزن میں یا پہر پہر وہ جویاں تھا
یا اب ننگ اسے آتا ہے پاس ہمارے آئے سے
ایک جراحت کیا تسکیں دے موت کے بھوکے صید کے تیں
شاید دل ہو تسلی اس کا زخم دگر کے کھائے سے
رنج و عنا پر درد و بلا پر صبر کیے ہم بیٹھے ہیں
کلفت الفت جاتی رہی کیا جور و ستم کے اٹھائے سے
اول تو آتے ہی نہیں ہو اور کبھو جو آتے ہو
نیچی آنکھیں کیے پھرتے ہو مجلس میں شرمائے سے
جھگڑا ناز و نیاز کا سن کر بے مزہ ہم سے تم تو ہوئے
میر سخن کو طول نہ دو بس بات بڑھے ہے بڑھائے سے
میر تقی میر

ہم تو اس بن داغ ہی تھے سو اور بھی جل کر کھائے گل

دیوان پنجم غزل 1672
رنگارنگ چمن میں اب کے موسم گل میں آئے گل
ہم تو اس بن داغ ہی تھے سو اور بھی جل کر کھائے گل
ہار گلے کے ہوکر جیسے یاد رکھا تب عرصے میں
طرفہ تو یہ ہے اب منت سے گور پہ میری لائے گل
آئے شب گل میر ہمیں کیا صبح بہار سے کیا حاصل
داغ جنوں ہے سر پہ ہمارے شمع کے رنگوں چھائے گل
میر تقی میر

ہے خزاں میں دل سے لب تک ہائے گل اے وائے گل

دیوان پنجم غزل 1671
صد ہزار افسوس آکر خالی پائی جاے گل
ہے خزاں میں دل سے لب تک ہائے گل اے وائے گل
بے نصیبی سے ہوئے ہم موسم گل میں اسیر
تھے نہ پیشانی میں اپنے سجدہ ہاے پاے گل
دعوی حسن سراپا تھا پہ نازاں تجھ کو دیکھ
شاخیں پر گل جھک گئیں یعنی بہت شرمائے گل
کیا گل مہتاب و شبو کیا سمن کیا نسترن
اس حدیقے میں نہ نقش پا سے اس کے پائے گل
جیتے جی تو داغ ہی رکھا موئے پر کیا حصول
گور پر دلسوزی سے جوں شمع سر رکھ لائے گل
بے دلی بلبل نہ کر تاثیر میں گو تو ہے داغ
خوش زبان عشق کی جب ہم نے بھر کے کھائے گل
اس چمن میں جلوہ گر جس حسن سے خوباں ہیں میر
موسم گل میں کہیں اس خوبی سے کب آئے گل
میر تقی میر

اس نکہت سے موسم گل میں پھول نہیں یاں آئے ہنوز

دیوان پنجم غزل 1624
اس بستر افسردہ کے گل خوشبو ہیں مرجھائے ہنوز
اس نکہت سے موسم گل میں پھول نہیں یاں آئے ہنوز
اس زلف و کاکل کو گوندھے دیر ہوئی مشاطہ کو
سانپ سے لہراتے ہیں بال اس کے بل کھائے ہنوز
آنکھ لگے اک مدت گذری پاے عشق جو بیچ میں ہے
ملتے ہیں معشوق اگر تو ملتے ہیں شرمائے ہنوز
تہ داری کیا کہیے اپنی سختی سے اس کی جیتے موئے
حرف و سخن کچھ لیکن ہرگز منھ پہ نہیں ہم لائے ہنوز
ایسی معیشت کر لوگوں سے جیسی غم کش میر نے کی
برسوں ہوئے ہیں اٹھ گئے ان کو روتے ہیں ہمسائے ہنوز
میر تقی میر

عشق نے کیا ہمیں دکھائے داغ

دیوان چہارم غزل 1413
دل جگر دونوں پر جلائے داغ
عشق نے کیا ہمیں دکھائے داغ
دل جلے ہم نہیں رہے بیکار
زخم کاری اٹھائے کھائے داغ
جل گئے دیکھ گرمی اغیار
آئے اس کوچے سے تو آئے داغ
احتیاطاً صراحی مے سے
ہم نے سجادے کے دھلائے داغ
دیکھے دامن کے نیچے کے سے دیے
میر نے گر تلے چھپائے داغ
میر تقی میر

پر اس بغیر اپنے تو جی کو نہ بھائے گل

دیوان سوم غزل 1163
اب کے ہزار رنگ گلستاں میں آئے گل
پر اس بغیر اپنے تو جی کو نہ بھائے گل
بلبل کو ناز کیوں نہ خیابان گل پہ ہو
کیا جانے جن نے چھاتی پہ بھر کر نہ کھائے گل
کب تک حنائی پائوں بن اس کے یہ بے کلی
لگ جائے ٹک چمن میں کہیں آنکھ پاے گل
ناچار ہو چمن میں نہ رہیے کہوں ہوں جب
بلبل کہے ہے اور کوئی دن براے گل
چلیے بغل میں لے کے گلابی کسو طرف
دامان دل کو کھینچے ہے ساقی ہواے گل
پگڑی میں پھول رکھتے ہیں رعنا جوان شہر
داغ جنوں ہی سر پہ رہا یاں بجاے گل
بلبل کو کیا سنے کوئی اڑ جاتے ہیں حواس
جب دردمند کہتی ہے دم بھر کے ہائے گل
سویا نہ وہ بدن کی نزاکت سے ساری رات
بستر پہ اس کے خواب کے کن نے بچھائے گل
مصروف یار چاہیے مرغ چمن سا ہو
دل نذر و دیدہ پیش کش و جاں فداے گل
ہم طرح آشیاں کی نہ گلشن میں ڈالتے
معلوم ہوتی آگے جو ہم کو وفاے گل
چسپاں لباس ہوتے ہیں لیکن نہ اس قدر
ہے چاک رشک جامہ سے اس کے قباے گل
کیا سمجھے لطف چہروں کے رنگ و بہار کا
بلبل نے اور کچھ نہیں دیکھا سواے گل
تھا وصف ان لبوں کا زبان قلم پہ میر
یا منھ میں عندلیب کے تھے برگ ہاے گل
میر تقی میر

سوز دل سے داغ ہے بالاے داغ

دیوان سوم غزل 1155
اب نہیں سینے میں میرے جاے داغ
سوز دل سے داغ ہے بالاے داغ
دل جلا آنکھیں جلیں جی جل گیا
عشق نے کیا کیا ہمیں دکھلائے داغ
دل جگر جل کر ہوئے ہیں دونوں ایک
درمیان آیا ہے جب سے پاے داغ
منفعل ہیں لالہ و شمع و چراغ
ہم نے بھی کیا عاشقی میں کھائے داغ
وہ نہیں اب میر جو چھاتی جلے
کھا گیا سارے جگر کو ہائے داغ
میر تقی میر

جان کو کوئی کھائے جاتا ہے

دیوان دوم غزل 1020
شوق ہم کو کھپائے جاتا ہے
جان کو کوئی کھائے جاتا ہے
ہر کوئی اس مقام میں دس روز
اپنی نوبت بجائے جاتا ہے
کھل گئی بات تھی سو ایک اک پر
تو وہی منھ چھپائے جاتا ہے
یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر
اپنی ٹکّی لگائے جاتا ہے
رویئے کیا دل و جگر کے تئیں
جی بھی یاں پر تو ہائے جاتا ہے
کیا کیا ہے فلک کا میں کہ مجھے
خاک ہی میں ملائے جاتا ہے
تہ جنھیں کچھ ہے ان کے تیں ہر گام
عرق شرم آئے جاتا ہے
جاے عبرت ہے خاکدان جہاں
تو کہاں منھ اٹھائے جاتا ہے
دیکھ سیلاب اس بیاباں کا
کیسا سر کو جھکائے جاتا ہے
وہ تو بگڑے ہے میر سے ہر دم
اپنی سی یہ بنائے جاتا ہے
میر تقی میر

چھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پاے گل

دیوان اول غزل 264
فصل خزاں میں سیر جو کی ہم نے جاے گل
چھانی چمن کی خاک نہ تھا نقش پاے گل
اللہ رے عندلیب کی آواز دل خراش
جی ہی نکل گیا جو کہا ان نے ہائے گل
مقدور تک شراب سے رکھ انکھڑیوں میں رنگ
یہ چشمک پیالہ ہے ساقی ہواے گل
یہ دیکھ سینہ داغ سے رشک چمن ہے یاں
بلبل ستم ہوا نہ جو تونے بھی کھائے گل
بلبل ہزار جی سے خریدار اس کی ہے
اے گل فروش کریو سمجھ کر بہاے گل
نکلا ہے ایسی خاک سے کس سادہ رو کی یہ
قابل درود بھیجنے کے ہے صفاے گل
بارے سرشک سرخ کے داغوں سے رات کو
بستر پر اپنے سوتے تھے ہم بھی بچھائے گل
آ عندلیب صلح کریں جنگ ہوچکی
لے اے زباں دراز تو سب کچھ سواے گل
گل چیں سمجھ کے چنیو کہ گلشن میں میر کے
لخت جگر پڑے ہیں نہیں برگ ہاے گل
میر تقی میر

سحر جب مسکرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 426
صبا طیبہ سے آئے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
سحر جب مسکرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
قدم لینے لگے سبزہ ، شجر بھیجیں سلام اس پر
وہ گلشن میں جو آئے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
کبھی ساون کے میٹھے انتظار انگیز لمحوں میں
ہوا ہولے سے گائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
کشادہ رکھتے ہیں اتنا درِ دل ہم چمن والے
کہ سایہ سرسرائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
محبت کے بلکتے چیختے بے چین موسم میں
جو بلبل گنگنائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
پہاڑی راگ کی بہتی ہوئی لے میں کہیں کوئی
ندی جب دکھ سنائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
یہ انکا رنگِ فطرت ہے ، یہ انکا ظرف ہے منصور
کہ کانٹا زخم کھائے تو کہے ہر پھول بسم اللہ
منصور آفاق

اک یہ لپکا دیکھئے کب جائے گا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 41
ذوق سب جاتے رہے جز ذوق درد
اک یہ لپکا دیکھئے کب جائے گا
عیب سے خالی نہ واعظ ہے نہ ہم
ہم پہ منہ آئے گا منہ کی کھائے گا
باغ و صحرا میں رہے جو تنگ دل
جی قفس میں اس کا کیا گھبرائے گا
الطاف حسین حالی

راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 29
ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے
راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے
زندگی حرف غلط ہی نکلی
ہم نے معنی تو بہت پہنائے
دامن خواب کہاں تک پھیلے
ریگ کی موج کہاں تک جائے
تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے
اونچی دیوار کے لمبے سائے
بند کلیوں کی ادا کہتی ہے
بات کرنے کے ہیں سو پیرائے
بام و در کانپ اٹھے ہیں باقیؔ
اس طرح جھوم کے بادل آئے
باقی صدیقی