ٹیگ کے محفوظات: کھائی

بیوگاں سی گُنگ تنہائی لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
لب بہ لب جو ہر کہیں چھائی لگے
بیوگاں سی گُنگ تنہائی لگے
ناتواں کی سمت میزائل کی کاٹ
جابروں کو صَوتِ شہنائی لگے
اسلحہ چھینے نوالے خلق کے
اور روزافزوں یہ مہنگائی لگے
سُو بہ سُو پھیلے ہیں پھندے حرص کے
ہر قدم پر سامنے کھائی لگے
امن کی جانب توجّہ چاہتی
جو صدا بھی ہے وُہ بھرّائی لگے
ہم سخن کی سلطنت کے شاہ ہیں
ہاں ہمیں زیبا یہ دارائی لگے
گُم شدہ محمل جو ڈھونڈے دشت میں
اپنا ماجِد بھی وُہ سَودائی لگے
ماجد صدیقی

مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 232
تری قیمت گھٹائی جا رہی ہے
مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے
یہ ہے تعمیرِ دنیا کا زمانہ
حویلی دل کی ڈھائی جا رہی ہے
وہ شے جو صرف ہندوستان کی تھی
وہ پاکستان لائی جا رہی ہے
کہاں کا دین۔۔کیسا دین۔۔کیا دین
یہ کیا گڑ بڑ مچائی جا رہی ہے
شعورِ آدمی کی سر زمیں تک
خدا کی اب دُہائی جا رہی ہے
بہت سی صورتیں منظر میں لا کر
تمنا آزمائی جا رہی ہے
مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے
خدا تیری خدائی جا رہی ہے
نہیں معلوم کیا سازش ہے دل کی
کہ خود ہی مات کھائی جا رہی ہے
***
نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تیری فرقت منائی جا رہی ہے
ہے ویرانی کی دھوپ اور ایک آنگن
اور اس پر لُو چلائی جا رہی ہے
نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے
کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے
کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی
یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے
سُن اے سورج جدائی موسموں کے
میری کیاری جلائی جا رہی ہے
بہت بدحال ہیں بستی، تیرے لوگ
تو پھر تُو کیوں سجائی جا رہی ہے
خوشا احوال اپنی زندگی کا
سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے
جون ایلیا

زندگی حالتِ جدائی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 208
لمحے لمحے کی نارسائی ہے
زندگی حالتِ جدائی ہے
مردِ میدان ہوں اپنی ذات کا میں
میں نے سب سے شکست کھائی ہے
اک عجب حال ہے کہ اب اس کو
یاد کرنا بھی بے وفائی ہے
اب یہ صورت ہے جانِ جاں کہ تجھے
بھولنے میں مری بھلائی ہے
خود کو بھولا ہوں، اُس کو بھولا ہوں
عمر بھر کی یہی کمائی ہے
میں ہنر مندِ رنگ ہوں میں نے
خون تھوکا ہے داد پائی ہے
جانے یہ تیرے وصل کے ہنگام
تیری فرقت کہاں سے آئی ہے
جون ایلیا

عشق ہے فقر ہے جدائی ہے

دیوان پنجم غزل 1779
ان بلائوں سے کب رہائی ہے
عشق ہے فقر ہے جدائی ہے
دیکھیے رفتہ رفتہ کیا ہووے
ہم بھی چلنے کو ہیں کہ آئی ہے
استخواں کانپ کانپ جلتے ہیں
عشق نے آگ یہ لگائی ہے
دل کو کھینچے ہے چشمک انجم
آنکھ ہم نے کہاں لڑائی ہے
اس صنائع کا اس بدائع کا
کچھ تعجب نہیں خدائی ہے
نہ تو جذب رسا نہ بخت رسا
کیونکے کہیے کہ واں رسائی ہے
ہے تصنع کہ اس کے لب ہیں لعل
سب نے اک بات یہ بنائی ہے
کیا کہوں خشم عشق سے جو مجھے
کبھو جھنجھلاہٹ آہ آئی ہے
ایسا چہرے پہ ہے نہوں کا خراش
جیسے تلوار منھ پہ کھائی ہے
میں نہ آتا تھا باغ میں اس بن
مجھ کو بلبل پکار لائی ہے
آئی اس جنگ جو کی گر شب وصل
شام سے صبح تک لڑائی ہے
اور کچھ مشغلہ نہیں ہے ہمیں
گاہ و بے گہ غزل سرائی ہے
توڑ کر آئینہ نہ جانا یہ
کہ ہمیں صورت آشنائی ہے
میر تقی میر

خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک

دیوان پنجم غزل 1662
دل کی تڑپ نے ہلاک کیا ہے دھڑکے نے اس کے اڑائی خاک
خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک
صورت کے ہم آئینے کے سے ظاہر فقر نہیں کرتے
ہوتے ساتے روتے پاتے ان نے منھ کو لگائی خاک
پیچ و تاب سے خاک بھی میری جیسے بگولا پھرنے لگی
سر میں ہوا ہی اس کے بہت تھی تب تو ہوئی ہے ہوائی خاک
اور غبار کسو کے دل کا کس انداز سے نکلے آہ
روے فلک پر بدلی سی تو ساری ہماری چھائی خاک
نعمت رنگارنگ حق سے بہرہ بخت سیہ کو نہیں
سانپ رہا گو گنج کے اوپر کھانے کو تو کھائی خاک
اپنے تئیں گم جیسا کیا تھا یاں سر کھینچ کے لوگوں نے
عالم خاک میں ویسی ہی اب ڈھونڈی ان کی نہ پائی خاک
انس نہیں انسان سے اچھا عشق و جنوں اک آفت ہے
فرق ہوئے کیا چھوڑے ہے آدم میں اس کی جدائی خاک
ہوکے فقیر گلی میں اس کی چین بہت سا پایا ہم
لے کے سرہانے پتھر رکھا جاے فرش بچھائی خاک
قلب گداز ہیں جن کے وے بھی مٹی سونا کرتے ہیں
میر اکسیر بنائی انھوں نے جن کی جہاں سے اٹھائی خاک
میر تقی میر

سحر تک سب ان نے ہی کھائی تھی شمع

دیوان پنجم غزل 1645
لیے داغ سر پر جو آئی تھی شمع
سحر تک سب ان نے ہی کھائی تھی شمع
پتنگے کے حق میں تو بہتر ہوئی
اگر موم کی بھی بنائی تھی شمع
نہ اس مہ سے روشن تھی شب بزم میں
نکالا تھا اس کو چھپائی تھی شمع
وہی ساتھ تھا میرے شب گیر میں
کہ تاب اس کے رخ کی نہ لائی تھی شمع
پتنگ اور وہ کیوں نہ باہم جلیں
کہیں سے مگر اک لگ آئی تھی شمع
فروغ اس کے چہرے کا تھا پردہ در
ہوا کیا جو ہم نے بجھائی تھی شمع
تف دل سے میر اک کف خاک ہے
مری خاک پر کیوں جلائی تھی شمع
میر تقی میر

درویشی و کم پائی بے صبری و تنہائی

دیوان چہارم غزل 1525
میں اس کی جدائی میں تصدیع بہت پائی
درویشی و کم پائی بے صبری و تنہائی
اس رفتہ کی جاں بخشی ٹک آتے ہوئی اس کے
رکھتے ہی قدم مجھ میں پھر جان گئی آئی
تھا صبر و سکوں جب تک رہتا تھا مجھے غش سا
بیتابی دل سر پر ایک اور بلا لائی
اس میری جراحت پر کل داور محشر بھی
ڈرتا ہوں کہے ریجھا کیا تیغ ستم کھائی
اے میر کسے دیں ہیں جب تک نہ نصیبہ ہو
کر شکر ملی ہے جو اس در کی جبیں سائی
میر تقی میر

ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے

دیوان دوم غزل 1047
کوفت سے جان لب پہ آئی ہے
ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے
لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر
شوق نے بات کیا بڑھائی ہے
آرزو اس بلند و بالا کی
کیا بلا میرے سر پہ لائی ہے
دیدنی ہے شکستگی دل کی
کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے
ہے تصنع کہ لعل ہیں وے لب
یعنی اک بات سی بنائی ہے
دل سے نزدیک اور اتنا دور
کس سے اس کو کچھ آشنائی ہے
بے ستوں کیا ہے کوہکن کیسا
عشق کی زور آزمائی ہے
جس مرض میں کہ جان جاتی ہے
دلبروں ہی کی وہ جدائی ہے
یاں ہوئے خاک سے برابر ہم
واں وہی ناز و خودنمائی ہے
ایسا موتیٰ ہے زندئہ جاوید
رفتۂ یار تھا جب آئی ہے
مرگ مجنوں سے عقل گم ہے میر
کیا دوانے نے موت پائی ہے
میر تقی میر

پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو

دیوان اول غزل 382
مباد کینے پہ اس بت کی طبع آئی ہو
پھر ایک بس ہے وہی گو ادھر خدائی ہو
مدد نہ اتنی بھی کی بخت ناموافق نے
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
ہنوز طفل ہے وہ ظلم پیشہ کیا جانے
لگاوے تیغ سلیقے سے جو لگائی ہو
لبوں سے تیرے تھا آگے ہی لعل سرخ و زرد
قسم ہے میں نے اگر بات بھی چلائی ہو
خدا کرے کہ نصیب اپنے ہو نہ آزادی
کدھر کے ہو جے جو بے بال و پر رہائی ہو
مزے کو عشق کی ذلت کے جانتا ہے وہی
کسو کی جن نے کبھو لات مکی کھائی ہو
اس آفتاب سے تو فیض سب کو پہنچے ہے
یقین ہے کہ کچھ اپنی ہی نارسائی ہو
کبھو ہے چھیڑ کبھو گالی ہے کبھو چشمک
بیان کریے جو ایک اس کی بے ادائی ہو
دیار حسن میں غالب کہ خستہ جانوں نے
دوا کے واسطے بھی مہر ٹک نہ پائی ہو
ہزار مرتبہ بہتر ہے بادشاہی سے
اگر نصیب ترے کوچے کی گدائی ہو
جو کوئی دم ہو تو لوہو سا پی کے رہ جائوں
غموں کی دل میں بھلا کب تلک سمائی ہو
مغاں سے راہ تو ہوجائے رفتہ رفتہ شیخ
ترا بھی قصد اگر ترک پارسائی ہو
کہیں تو ہیں کہ عبث میر نے دیا جی کو
خدا ہی جانے کہ کیا جی میں اس کے آئی ہو
میر تقی میر