ٹیگ کے محفوظات: کھائیں

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 110
دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور، کب تلک
ہم کہیں گے حالِ دل، اور آپ فرمائیں گے ‘کیا’؟
حضرتِ ناصح گر آئیں، دیدہ و دل فرشِ راہ
کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھائیں گے کیا؟
آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لائیں گے کیا
گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی
یہ جنونِ عشق کے انداز چھٹ جائیں گے کیا
خانہ زادِ زلف ہیں، زنجیر سے بھاگیں گے کیوں
ہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبرائیں گے کیا
ہے اب اس معمورے میں قحطِ غمِ الفت اسدؔ
ہم نے یہ مانا کہ دلّی میں رہیں، کھائیں گے کیا؟
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 108
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤ
جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
یا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا
موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا
عمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہ
مر گیے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہرگز نہ ایدھر آئیں گے خلق خدا ملک خدا

دیوان پنجم غزل 1557
اب یاں سے ہم اٹھ جائیں گے خلق خدا ملک خدا
ہرگز نہ ایدھر آئیں گے خلق خدا ملک خدا
مطلب اگر یاں گم ہوا اندیشے کی جاگہ نہیں
جاکر کہیں کچھ پائیں گے خلق خدا ملک خدا
دل میں نہ جانے یہ کوئی ہم کھانے کو دیں ہیں انھیں
جو ہے مقدر کھائیں گے خلق خدا ملک خدا
گو لکھنؤ ویراں ہوا ہم اور آبادی میں جا
مقسوم اپنا لائیں گے خلق خدا ملک خدا
اب دی پری گذری گئی ہم آجکل بے خانماں
کیا غیر ازیں ٹھہرائیں گے خلق خدا ملک خدا
اس بستی سے اٹھ جائیں گے درویشوں کی کیا مشورت
وے بھی یہی فرمائیں گے خلق خدا ملک خدا
تو میر ہووے گا جہاں امرقضا کے تابعاں
روزی تجھے پہنچائیں گے خلق خدا ملک خدا
میر تقی میر

اس چرخ نے کیاں ہیں ہم سے بہت ادائیں

دیوان اول غزل 361
کیا ظلم کیا تعدی کیا جور کیا جفائیں
اس چرخ نے کیاں ہیں ہم سے بہت ادائیں
دیکھا کہاں وہ نسخہ اک روگ میں بساہا
جی بھر کبھو نہ پنپا بہتیری کیں دوائیں
اک رنگ گل نے رہنا یاں یوں نہیں کیا ہے
اس گلشن جہاں میں ہیں مختلف ہوائیں
ہے فرش عرش تک بھی قلب حزیں کا اپنے
اس تنگ گھر میں ہم نے دیکھی ہیں کیا فضائیں
چہرے کے زخم ناخن کے سے کہاں کہ گویا
گھر سے نکلتے ہی ہم تلواریں منھ پہ کھائیں
شب نالہ آسماں تک جی سخت کرکے پہنچا
تھیں نیم کشتۂ یاس اکثر مری دعائیں
روکش تو ہو ترا پر آئینے میں کہاں یہ
رعنائیاں ادائیں رنگینیاں صفائیں
ہے امر سہل چاہت لیکن نباہ مشکل
پتھر کرے جگر کو تب تو کرے وفائیں
ناز بتان سادہ ہے اللہ اللہ اے میر
ہم خط سے مٹ گئے پر ان کے نہیں ہے بھائیں
میر تقی میر

عم ہستی کوئی غم کھائیں کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 67
ان کو دل کا مدعا سمجھائیں کیا
اے غم ہستی کوئی غم کھائیں کیا
شورِ نغمہ اس طرف آتا نہیں
رنگِ محفل بن کے ہم اڑ جائیں کیا
بے نیازی سے ہے قائم شان حسن
ہم انہیں یاد آئیں پر یاد ئیں کیا
جل کے بجھنے کا تو باقیؔ غم نہیں
ہم مگر دنیا کو منہ دکھلائیں کیا
باقی صدیقی