ٹیگ کے محفوظات: کھاؤں

سال بہ سال نہ کیونکر میں بھی سالگرہ منواؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
’’مان مجھے‘‘ کی ہانک لگاؤں وقت کا شہ کہلاؤں
سال بہ سال نہ کیونکر میں بھی سالگرہ منواؤں
قطرہ ہوں اور دل میں دیکھو دُھن ہے کیا البیلی
بادل بن کر اِک اِک پیاسے کھیت پہ میں لہراؤں
مَیں تیرا ممنون ہوں سُن اے درد رسان زمانے!
گھڑیالوں سا گنگ رہوں گر میں بھی چوٹ نہ کھاؤں
ریت اور کنکر تو ہر رُت میں گرم ہوا برسائے
رات کی رانی عام کہاں میں جس سے تن سہلاؤں
عرش سے اُترا کون فرشتہ میری سُننے آئے
مَیں جو عادل تک کو بھی اکثر مجرم ٹھہراؤں
جان بھی جاتی ہے تو جائے پر یہ کب ممکن ہے
مَیں اور وقت کے پِیروں کے پس خوردے کو للچاؤں
جانے کس کے قرب سے ماجدؔ لاگا روگ یہ مجھ کو
ہر دم ایک ہی خبط ہے میں جھُوٹے کے گھر تک جاؤں
ماجد صدیقی

اک بار اپنے آپ میں آؤں تو آؤں میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 100
تجھ سے گلے کروں تجھے جاناں مناؤں میں
اک بار اپنے آپ میں آؤں تو آؤں میں
دل سے ستم کی بے سروکاری ہوا کو ہے
وہ گرد اڑ رہی ہے کہ خود کو گنواؤں میں
وہ نام ہوں کہ جس پہ ندامت بھی اب نہیں
وہ کام ہیں کہ اپنی جدائی کماؤں میں
کیونکہ ہو اپنے خواب کی آنکھوں میں واپسی
کس طور اپنے دل کے زمانوں میں جاؤں میں
اک رنگ سی کمان ہو خوشبو سا ایک تیر
مرہم سی واردات ہو اور زخم کھاؤں میں
شکوہ سا اک دریچہ ہو نشہ سا اک سکوت
ہو شام اک شراب سی اور لڑکھڑاؤں میں
پھر اس گلی سے اپنا گزر چاہتا ہے دل
اب اس گلی کو کون سی بستی سے لاؤں میں
جون ایلیا