ٹیگ کے محفوظات: کو

جو کچھ بھی طے کریں وہ مرے رُوبرو کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
عزت وہ دیں مجُھے کہ مرا دل لہو کریں
جو کچھ بھی طے کریں وہ مرے رُوبرو کریں
پل میں نظر سے جو مہِ نخشب سا کھو گیا
کس آس میں ہم اُس کی بھلا جستجو کریں
سُوجھے نہ راہِ ترکِ محبت ہی اک اُنہیں
کچھ اور بھی علاج مرے چارہ جُو کریں
پہنچیں نہ ایڑیاں بھی اُٹھا کر جو مجھ تلک
رُسوا وہ لوگ کیوں نہ مجھے کُو بہ کُو کریں
پیروں تلے ہیں اُس کے سبھی کے سروں کے بال
اب منصفی کو کس کے اُسے رُوبروکریں
اُس کے ستم کا خوف ہی اُس کا ہے احترام
چرچا جبھی تو اُس کا سبھی چار سُو کریں
وہ عجز کیا کہ جس پہ گماں ہو غرور کا
ماجدؔ ہم اختیار نہ ایسی بھی خُو کریں
ماجد صدیقی

کسی کے دھیان میں تم کھو گئے کیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 31
غزل سُن کر پریشاں ہو گئے کیا
کسی کے دھیان میں تم کھو گئے کیا
یہ بیگانہ روی پہلی نہیں تھی
کہو تم بھی کسی کے ہو گئے کیا
نہ پرسش کو نہ سمجھانے کو آئے
ہمارے یار ہم کو رو گئے کیا
ابھی کچھ دیر پہلے تک یہیں تھے
زمانہ ہو گیا تم کو گئے کیا
کسی تازہ رفاقت کی جھلک ہے
پرانے زخم اچھے ہو گئے کیا
پلٹ کر چارہ گر کیوں آ گئے ہیں
شبِ فرقت کے مارے سو گئے کیا
فراز اتنا نہ اترا حوصلے پر
اسے بھولے زمانے ہو گئے کیا
احمد فراز

اُس کا قلق ہے ایسا کہ میں سو نہیں رہا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 13
اک خواب نیند کا تھا سبب، جو نہیں رہا
اُس کا قلق ہے ایسا کہ میں سو نہیں رہا
وہ ہو رہا ہے جو میں نہیں چاہتا کہ ہو
اور جو میں چاہتا ہوں وہی ہو نہیں رہا
نم دیدہ ہوں، کہ تیری خوشی پر ہوں خوش بہت
چل چھوڑ، تجھ سے کہہ جو دیا، رو نہیں رہا
یہ زخم جس کو وقت کا مرہم بھی کچھ نہیں
یہ داغ، سیلِ گریہ جسے دھو نہیں رہا
اب بھی ہے رنج، رنج بھی خاصا شدید ہے
وہ دل کو چیرتا ہوا غم گو نہیں رہا
آباد مجھ میں تیرے سِوا اور کون ہے؟
تجھ سے بچھڑ رہا ہوں تجھے کھو نہیں رہا
کیا بے حسی کا دور ہے لوگو۔ کہ اب خیال
اپنے سِوا کسی کا کسی کو نہیں رہا
عرفان ستار

فرد فرد

ہمیں جیب و آستیں پر اگر اختیار ہوتا
یہ شگفتِ گل کا موسم بڑا خوش گوار ہوتا

گونجتے ہیں شکیب آنکھوں میں
آنے والی کسی صدی کے گیت

ثاند کی پر بہار وادی میں
ایک دوشیزہ چن رہی ہے کپاس

بھاگتے سایوں کی چیخیں، ٹوٹے تاروں کا شور
میں ہوں اور اک محشرِ بے خواب آدھی رات کو

بات میری کہاں سمجھتے ہو
آنسوؤں کی زباں سمجھتے ہو

ہاۓ وہ آگ کہ جو دل میں سلگتی ہی رہے
ہاۓ وہ بات کہ جس کا کبھی اظہار نہ ہو

جنگل جلے تو ان کو خبر تک نہ ہو سکی
چھائی گھٹا تو جھوم اٹھے بستیوں کے لوگ

مجھ کو آمادۂِ سفر نہ کرو
راستے پر خطر نہ ہو جائیں

خوشی کی بات نہیں ہے کوئی فسانے میں
وگرنہ عذر نہ تھا آپ کو سنانے میں

پائلیں بجتی رہیں کان میں سودائی کے
کوئی آیا نہ گیا رات کے سنّاٹے میں

خاموشی کے دکھ جھیلو گے ہنستے بولتے شہروں میں
نغموں کی خیرات نہ بانٹو جنم جنم کے بہروں میں

ہر شاخ سے گہنے چھین لیے ، ہر دال سے موتی بین لیے
اب کھیت سنہرے کھیت نہیں، ویرانے ہی ویرانے ہیں

طلسمِ گردشِ ایّام کس طرح ٹوٹے
نظر علیل، جنوں خام، فکر آوارہ

اس گلبدن کی بوۓ قبا یاد آگئی
صندل کے جنگلوں کی ہوا یاد آ گئی

آبلہ پائی کا ہم کو غم نہ تھا
رہنماؤں کی ہنسی تڑپا گئی

جس دم قفس میں موسمِ گل کی خبر گئی
اک بار قیدیوں پہ قیامت گزر گئی
کتنے ہی لوگ صاحبِ احساس ہو گئے
اک بے نوا کی چیخ بڑا کام کر گئی

اب انہیں پرسشِ حالات گراں گزرے گی
بد گمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی

دیکھ زخمی ہوا جاتا ہے دو عالم کا خلوص
ایک انساں کو تری ذات سے دکھ پہنچا ہے

سحر میں حسن ہے کیسا، بہارِ شب کیا ہے
جو دل شگفتہ نہیں ہے تو پھر یہ سب کیا ہے

گمرہی ہمیں شکیبؔ دے رہی ہے یہ فریب
رہنما غلط نہیں، راستہ طویل ہے

اس طرح گوش بر آواز ہیں اربابِ ستم
جیسے خاموشیِٔ مظلوم صدا رکھتی ہے

کسی کا قرب اگر قربِ عارضی ہے شکیبؔ
فراقِ یار کی لذّت ہی پائیدار رہے

ہوا جو صحنِ گلستاں میں راج کانٹوں کا
صبا بھی پوچھنے آئی مزاج کانٹوں کا

ہم نے گھبرا کے موند لیں آنکھیں
جب کوئی تارہ ٹوٹتا دیکھا

تھکن سے چور ہیں پاؤں کہاں کہاں بھٹکیں
ہر ایک گام نیا حسن رہ گزار سہی

کمتر نہ جانیں لوگ اسے مہر و ماہ سے
ہم نے گرا دیا جسے اپنی نگاہ سے

یہ لطف زہر نہ بن جاۓ زندگی کے لیے
چلے تو آۓ ہو تجدیدِ دوستی کے لیے

ہم نے جسے آزاد کیا حلقۂِ شب سے
حاصل نہیں ہم کو اسی سورج کا اجالا

ہم اپنے چاکِ قبا کو رفو تو کر لیتے
مگر وہی ہے ابھی تک مزاج کانٹوں کا

سچ کہو میری یاد بھی آئی؟
جب کبھی تم نے آئینہ دیکھا

سکوں بدوش کنارا بھی اب ابھر آئے
سفینہ ہائے دل و جاں بھنور کے پار سہی

یا میں بھٹک گیا ہوں سرِ رہ گزر شکیب
یا ہٹ گئی ہے منزلِ مقسود راہ سے

نہ جانے ہو گیا کیوں مطمئن تجھے پا کر
بھٹک رہا تھا مرا دل خود آگہی کے لیے
شکیب جلالی

دل کا کنول بجھا تو شہر تیرہ و تار ہو گئے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 58
پردۂِ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئے
دل کا کنول بجھا تو شہر تیرہ و تار ہو گئے
ایک ہمیں ہی اے سحر نیند نہ آئی رات بھر
زانوئے شب پہ رکھ کر سر، سارے چراغ سو گئے
راہ میں تھے ببول بھی رودِ شرر بھی دھول بھی
جانا ہمیں ضرور تھا گل کے طواف کو گئے
دیدہ ورو بتائیں کیا تم کو یقیں نہ آئے گا
چہرے تھے جن کے چاند سے سینے میں داغ بو گئے
داغِ شکست دوستو دیکھو کسے نصیب ہو
بیٹھے ہوئے ہیں تیز رو سست خرام تو گئے
اہلِ جنوں کے دل شکیبؔ نرم تھے موم کی طرح
تیشۂِ یاس جب چلا تودۂِ سنگ ہو گئے
شکیب جلالی

ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 192
ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر متاع نفس نذر آہنگ کی، ہم کو یاراں ہوس تھی بہت رنگ کی
گل زمیں سے ابلنے کو ہے اب لہو، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
اول شب کا مہتاب بھی جا چکا صحن میخانہ سے اب افق میں کہیں
آخر شب ہے، خالی ہیں جام و سبو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کوئی حاصل نہ تھا آرزو کا مگر، سانحہ یہ ہے کہ اب آرزو بھی نہیں
وقت کی اس مسافت میں بے آرزو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
کس قدر دور سے لوٹ کر آئے ہیں، یوں کہو عمر برباد کر آئے ہیں
تھا سراب اپنا سرمایہ جستجو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
اک جنوں تھا کہ آباد ہو شہر جاں، اور آباد جب شہر جاں ہو گیا
ہیں یہ سرگوشیاں در بہ در کو بہ کو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
دشت میں رقص شوق بہار اب کہاں، باد پیمائی دیوانہ وار اب کہاں
بس گزرنے کو ہے موسم ہائے دہو، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
ہم ہیں رسوا کن دلی و لکھنؤ ، اپنی کیا زندگی اپنی کیا آبرو
میر دلی سے نکلے گئے لکھنؤ، تم کہاں جاؤ گے، ہم کہاں جائیں گے
جون ایلیا

یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وو آئے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 205
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
یک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی "کہ وو آئے”
ہوں کشمکشِ نزع میں ہاں جذبِ محبّت
کچھ کہہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم
آنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آئے
ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین
ہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے
جلاّد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے
ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
ہاں اہلِ طلب! کون سنے طعنۂ نا یافت
دیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
اپنا نہیں وہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں
اس در پہ نہیں بار تو کعبے ہی کو ہو آئے
کی ہم نفسوں نے اثرِ گریہ میں تقریر
اچّھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
اس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے غالب
ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 145
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو
کہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو
ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال
کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں؟ ہو تو کیوں کر ہو
ادب ہے اور یہی کشمکش، تو کیا کیجے
حیا ہے اور یہی گومگو تو کیوں کر ہو
تمہیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کا
بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیوں کر ہو
الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ
جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیوں کر ہو
جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا سا
وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیوں کر ہو
ہمیں پھر ان سے امید، اور انہیں ہماری قدر
ہماری بات ہی پوچھیں نہ وو تو کیوں کر ہو
غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلّی کا
نہ مانے دیدۂ دیدار جو، تو کیوں کر ہو
بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار
یہ نیش ہو رگِ جاں میں فِرو تو کیوں کر ہو
مجھے جنوں نہیں غالب ولے بہ قولِ حضور@
’فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو‘
@حضور: بہادر شاہ ظفر، اگلا مصرعہ ظفر کا ہی ہے جس کی طرح میں غالب نے درباری مشاعرے کے لئے یہ غزل کہی تھی۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

غصے سے تیغ اکثر اپنے رہی گلو پر

دیوان سوم غزل 1139
کیا جانیں گے کہ ہم بھی عاشق ہوئے کسو پر
غصے سے تیغ اکثر اپنے رہی گلو پر
ہر کوئی چاہتا ہے سرمہ کرے نظر کا
ہونے لگے ہیں اب تو خون اس کی خاک کو پر
کر باغباں حیا ٹک گل کو نہ ہاتھ میں مل
دیتی ہے جان بلبل پھولوں کے رنگ و بو پر
حسرت سے دیکھتے ہیں پرواز ہم صفیراں
شائستہ بھی ہمارے ایسے ہی تھے کبھو پر
حرف و سخن کرے ہے کس لطف سے برابر
سلک گہر بھی صدقے کی اس کی گفتگو پر
گو شوق سے ہو دل خوں مجھ کو ادب وہی ہے
میں رو کبھو نہ رکھا گستاخ اس کے رو پر
تن راکھ سے ملا سب آنکھیں دیے سی جلتی
ٹھہری نظر نہ جوگی میر اس فتیلہ مو پر
میر تقی میر

ہوں دوانہ ترے سگ کو کا

دیوان اول غزل 133
رات پیاسا تھا میرے لوہو کا
ہوں دوانہ ترے سگ کو کا
شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کو
فکر ہے اپنے ہر بن مو کا
ہے مرے یار کی مسوں کا رشک
کشتہ ہوں سبزئہ لب جو کا
بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوف
ہے وظیفہ یہی دعاگو کا
میں نے تلوار سے ہرن مارے
عشق کر تیری چشم و ابرو کا
شور قلقل کے ہوتی تھی مانع
ریش قاضی پہ رات میں تھوکا
عطر آگیں ہے باد صبح مگر
کھل گیا پیچ زلف خوشبو کا
ایک دو ہوں تو سحر چشم کہوں
کارخانہ ہے واں تو جادو کا
میر ہرچند میں نے چاہا لیک
نہ چھپا عشق طفل بدخو کا
نام اس کا لیا ادھر اودھر
اڑ گیا رنگ ہی مرے رو کا
میر تقی میر

روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا

دیوان اول غزل 92
ہے حال جاے گریہ جان پرآرزو کا
روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا
جاتی نہیں اٹھائی اپنے پہ یہ خشونت
اب رہ گیا ہے آنا میرا کبھو کبھو کا
اس آستاں سے کس دن پرشور سر نہ پٹکا
اس کی گلی میں جاکر کس رات میں نہ کوکا
شاید کہ مند گئی ہے قمری کی چشم گریاں
کچھ ٹوٹ سا چلا ہے پانی چمن کی جو کا
اپنے تڑپنے کی تو تدبیر پہلے کرلوں
تب فکر میں کروں گا زخموں کے بھی رفو کا
دانتوں کی نظم اس کے ہنسنے میں جن نے دیکھی
پھر موتیوں کی لڑ پر ان نے کبھو نہ تھوکا
یہ عیش گہ نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہے
ہر گل ہے اس چمن میں ساغر بھرا لہو کا
بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر
سب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا
گلیاں بھری پڑی ہیں اے باد زخمیوں سے
مت کھول پیچ ظالم اس زلف مشک بو کا
وے پہلی التفاتیں ساری فریب نکلیں
دینا نہ تھا دل اس کو میں میر آہ چوکا
میر تقی میر

روح میں ابھرے، پھاند کے سورج کے سیال سمندر کو

مجید امجد ۔ غزل نمبر 79
عمروں کے اس معمورے میں ہے کوئی ایسا دن بھی جو
روح میں ابھرے، پھاند کے سورج کے سیال سمندر کو
اتنے کام ہیں، ان موّاج صفوں میں خوش خوش پھرتا ہوں
لیکن آج اگر کچھ اپنے بارے میں بھی سوچا تو
ایک سفر ہے صرفِ مسافت، ایک سفر ہے جزوِ سفر
جینے والے یوں بھی جیے ہیں، اک عمر اور زمانے دو
یہ انجانا شہر، پرائے لوگ، اے دل! تم یہاں کہاں
آج اس بھیڑ میں اتنے دنوں کے بعد ملے ہو، کیسے ہو
دنیا جڑی تڑی سچائی، سب سچے، کوئی تو کبھی
اس اندھیر سے نکلے اپنے جھوٹے روپ کے درشن کو
آخر اپنے ساتھ کبھی تو اک بےمہر مروت بھی
اپنے سارے نام بھلا کر، کبھی خود اپنے گن تو گنو
کچی نیند اور جسم نے دھوپ چکھی اور دل میں پھول کھلے
گھاس کی سیج پہ میں ہوں، تمہارے دھیان ہیں، آنے والے دنو!
مجید امجد

آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ

مجید امجد ۔ غزل نمبر 21
اپنے د ل کی کھوج میں کھو گئے کیا کیا لوگ
آنسو تپتی ریت میں بو گئے کیا کیا لوگ
کرنوں کے طوفان سے بجرے بھر بھر کر
روشنیاں اس گھاٹ پہ ڈھو گئے کیا کیا لوگ
سانجھ سمے اس کنج میں زندگیوں کی اوٹ
بج گئی کیا کیا بانسری، رو گئے کیا کیا لوگ
میلی چادر تان کر اس چوکھٹ کے دوار
صدیوں کے کہرام میں سو گئے کیا کیا لوگ
گٹھڑی کالی رین کی سونٹی سے لٹکائے
اپنی دھن میں دھیان نگر کو گئے کیا کیا لوگ
میٹھے میٹھے بول میں دوہے کا ہنڈول
سن سن اس کو بانورے ہو گئے کیا کیا لوگ
مجید امجد

بادل کے ساتھ ساتھ یونہی رو رہا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 337
بارش سے سائیکی کے سخن دھو رہا ہوں میں
بادل کے ساتھ ساتھ یونہی رو رہا ہوں میں
دیکھا ہے آج میں نے بڑا دلربا سا خواب
شاید تری نظر سے رہا ہو رہا ہوں میں
اچھے دنوں کی آس میں کتنے برس ہوئے
خوابوں کے آس پاس کہیں سو رہا ہوں میں
میں ہی رہا ہوں صبح کی تحریک کا سبب
ہر دور میں رہینِ ستم گو رہا ہوں میں
لایا ہے کوئی آمدِ دلدار کی نوید
اور بار بار چوم کسی کو رہا ہوں میں
ابھرے ہیں میری آنکھ سے فرہنگِ جاں کے رنگ
تصویر کہہ رہی ہے پکاسو رہا ہوں میں
منصور آفاق

نہ ہُن نِیویں پا، تے نہ ہُن، اکھیاں پیا لکو

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 29
توں جو کجھ کرنی سی، نال اساڈے گئی اے ہو
نہ ہُن نِیویں پا، تے نہ ہُن، اکھیاں پیا لکو
نمبو اِک تے لُسکن آلا، بھُسیاں دا اِک شہر
درد ونڈان آلے توں ایتھے، راضی رہوے نہ کو
جِندے نی، ونگاں دے ساز تے، دُکھ دی رات دَھما
وچ بھنڈار دے بیٹھی ایں تے، لمّی پونی چھو
ایس پتھراں دے شہر چ، تیرے گوشے، سُنسی کون
سر تے رکھ کے بانہہ نوں بیبا، اُچّی رو
زہر وی اِنہیں ہوٹھیں چکھنا، اِنج ائی امرت وی
موتوں پہلے کاہنوں مرنا، جو ہونی سو ہو
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)