ٹیگ کے محفوظات: کوکب

مگر فن ہے مرا موجود تو کب میں نہیں ہوں گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
بہت یاد آؤں گا ہر شخص کو جب میں نہیں ہوں گا
مگر فن ہے مرا موجود تو کب میں نہیں ہوں گا
مری قامت نہیں تسلیم جن بَونوں کو اب، وہ بھی
دلائیں گے مجھے کیا کیا نہ منصب، میں نہیں ہوں گا
سحر پھوٹے گی آخر جگنوؤں سے میرے حرفوں کے
یہ ہو گا پر ہُوا جب اس طرح تب میں نہیں ہوں گا
نہ جانیں گے خمیر اِس کا اٹھا کن تلخیوں سے تھا
مرا شیریں سخن دہرائیں گے سب میں نہیں ہوں گا
یقیں ہے انتقاماً جب مجھے ظلمت نگل لے گی
مرے فکر و نظر ٹھہریں گے کوکب میں نہیں ہوں گا
جتانے کو مری بے چینیاں آتے زمانوں تک
پسِ ہر حرف دھڑکیں گے مرے لب میں نہیں ہوں گا
ملا جو صرف، فن ہو کر مجھے اظہار کا ، ماجِد
سبھی ترسیں گے اپنانے کو وہ ڈھب میں نہیں ہوں گا
ماجد صدیقی

حال مخالف تھے سب کے سب دریا میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 8
ہم نے اُتارا جس دم مرکب دریا میں
حال مخالف تھے سب کے سب دریا میں
جب سے کنارے اُس کے تُجھ سے ملن ٹھہرا
اُترے آس کے کیا کیا کوکب دریا میں
ہر تنکے ہر پیڑ کو جو جتلاتا تھا
زور نہیں وہ پہلا سا اب دریا میں
ہاتھ میں چپّو تان لئے تو ڈرنا کیا
عمر کٹے یا کٹ جائے شب دریا میں
رنج نظر کا آخر آنکھ میں تیرے گا
لاش دبی رہتی ہے بھلا کب دریا میں
چاہت نے اسباب نہ دیکھے تھے ماجدؔ
کھُرتی خاک لئے اُتری جب دریا میں
ماجد صدیقی