ٹیگ کے محفوظات: کونے

وقت پر پاؤں کہانی ختم ہونے پر رکھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 102
آسرا کس وقت مٹی کے کھلونے پر رکھا
وقت پر پاؤں کہانی ختم ہونے پر رکھا
دیکھتا کیا میں تری دنیا کہ ہجرِ یار میں
دیدہ و دل کو ہمیشہ وقف رونے پر رکھا
پانیوں کو ساحلوں میں قید کر دینے کے بعد
موج کو پابند ساحل کے ڈبونے پر رکھا
چاہتا تو وقت کا ہم رقص بن سکتا تھا میں
خود سے ڈر کر خود کو لیکن ایک کونے پر رکھا
اپنی آنکھیں چھوڑ آیا اس کے دروازے کے پاس
اور اس کے خواب کو اپنے بچھونے پر رکھا
سونپ کر منصور دل کو آگ سلگانے کا کام
آنکھ کو مصروف دامن کے بھگونے پر رکھا
منصور آفاق