ٹیگ کے محفوظات: کوئی ہے؟

کوئی ہے؟

کوئی ہے۔۔۔۔۔؟

ہے کوئی؟

جو ایک ڈوبتے ہوئے شخص کی بات سُنے۔

دیکھو، مجھے مدد نہیں چاہیے۔

مجھے کسی سے کُچھ لینا نہیں

بلکہ کُچھ دینا ہے۔

میرے بہن بھائی مجھ سے دُور ہیں ،

میرے دوست اپنی اپنی جگہ خوش ہیں ،

میرا اپنے کسی رشتے دار سے کوئی رابطہ نہیں ۔

میرے پاس ایک خزانہ ہے

جو میں کسی کو دینا چاہتا ہوں ۔

اِسے حاصِل کرنا بہت آسان ہے۔

یہ خزانہ اُس کا ہو جائے گا

جو میری بات سُنے گا۔

کوئی ہے۔۔۔۔۔؟

ہے کوئی۔۔۔۔؟

باصر کاظمی

کوئی ہے؟

کوئی ہے! کوئی ہے! کی صدائیں،

لگاتے ہوئے،

میں سراپا صدا بن گیا،

لوگ آنکھوں کے گہرے گڑھوں سے

مجھے گھورتے،

ایک کیچڑ بھری لہر اُٹھتی شناسائی کی،

میری جانب لپکتی،

مگر ایک جھپکی میں معدوم پڑتی

وہ پھر اپنی گدلی خموشی سمیٹے،

کہاں، کس طرف آتے جاتے،

خبر کچھ نہیں تھی،

برسوں پہلے اسی شہر میں،

بوڑھے پیڑوں تلے آگ روشن تھی اور،

ایک خوشبو گواہی میں موجود تھی،

وہ کہ عہدِ مقدس کی تقریب تھی،

ساتھ دینے کا اک عہد تھا،

اپنی چاہت کے اقرار میں،

کہہ کے لبیک

آواز سے دستخط کر دئیے

اور پھر ایک دن

اپنے اقرار کو بھول کر

میں اسے بھول کر،

اُن دیاروں کی جانب چلا،

جن کو دینار و درہم کی خوشبو نے جکڑا ہوا تھا،

جب میں لوٹا

کھنکتی مہک کی کئی گٹھڑیاں باندھ کر،

کوئی رستہ نہ صورت شناسا ملی،

وہ شجر بھی کہیں پر نہ تھے،

اور لکیروں سے تشکیل پاتی ہوئی،

ایک بے چہرگی تھی ۔

جہاں عقل و دانش کی باتیں فقط شور تھیں

رنگوں اور خوشبوؤں کی جگہ

ایک صحرا ابھرتا نظر آ رہا تھا

اُسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے

بے خدوخال چہرہ ہوا

میری آنکھیں کہیں بہہ گئیں

اور میں

بے صدائی کی تاریک کھائی میں گرتا گیا

اور گرتا چلا جا رہا ہوں

توقیر عباس

کوئی ہے؟

جدن تائیں سدھی تندنہئی پانی

ہر کوئی مینڈھا دل رکھن آسطے

مانھ ہس کے ملدا رہیا

تے مینڈھی گل بی سنیندا رہیا

پر جدن دا میں سدھے راہ ٹریاں

مینڈھی تاس جیکن ذات ائی بدل کے رہ گئی اے

کوئی بی مینڈھے منہ نیئیں لگدا

کوئی ہے؟

جیہڑا مانھ ایہہ گھنڈی کھول کے دسے۔

ماجد صدیقی (پنجابی کلام)