ٹیگ کے محفوظات: کنے

اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے

ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے
اوروں کے تو کیا ہوں گے وہ اپنے نہیں ہوتے
مِل اُن سے کبھی جاگتے ہیں جن کے مقدر
تیری طرح ہر وقت وہ سوئے نہیں ہوتے
جو دن میں پھرا کرتے ہیں ہشیار و خبردار
وہ میری طرح رات کو جاگے نہیں ہوتے
ہم اُن کی طرف سے کبھی ہوتے نہیں غافل
رشتے وہی پکے ہیں جو پکے نہیں ہوتے
اغیار نے مدت سے جو روکے ہوئے تھے کام
اب ہم بھی یہ دیکھیں گے وہ کیسے نہیں ہوتے
ناکامی کی صورت میں مِلے طعنۂ نایافت
اب کام مرے اتنے بھی کچے نہیں ہوتے
شب اہلِ ہوس ایسے پریشان تھے باصرِؔ
جیسے مہ و انجم کبھی دیکھے نہیں ہوتے
باصر کاظمی

کر نہیں بنتی کسو سے جو بنے

دیوان سوم غزل 1265
میر کیوں رہتے ہیں اکثر ان منے
کر نہیں بنتی کسو سے جو بنے
خون ہو کر بہ گیا مدت ہوئی
دل جو ڈھونڈو ہو سو کیسا کس کنے
ہے تو کل جب سے ہم درویش ہیں
کر ہی چکتے ہیں جو کچھ دل میں ٹھنے
عالم خاکی بھی بسمل گاہ ہے
ہو رہے ہیں ڈھیر یاں سو سو جنے
اس شکارافگن کے ہم بھی صید ہیں
خاک و خوں میں لوٹتے چھاتی چھنے
میر تقی میر