ٹیگ کے محفوظات: کنول

پھر اس کے بعد زمانوں کو روند چل چل کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 580
تُو پہلے لوح پہ لکھا ہوا بدل چل کے
پھر اس کے بعد زمانوں کو روند چل چل کے
اکیلا دیکھ کے تالاب کے کنارے پر
تسلی دینے مجھے آ گیا کنول چل کے
مجھے دکھا نہ دہکتے ہوئے پہر کا جلال
جا اپنی شام کی عبرت سرا میں ڈھل چل کے
صداؤں سے وہ سفینہ پلٹ نہیں سکتا
اِسی جزیرہ وحشت میں ہاتھ مل چل کے
نکال دشتِ تعلق سے اپنی تنہائی
کسی حبیب کے گھر جا، ذرا سنبھل چل کے
وہ سنگ زاد پگھلتا نہیں مگر پھر بھی
اسے سنا کوئی جلتی ہوئی غزل چل کے
طلوعِ حسن کی ساعت پہ تبصرہ کیا ہو
نکل رہا ہے کوئی آسماں کے بل چل کے
مزاجِ خانہء درویش کو خراب نہ کر
چراغ! اپنے حریمِ حرم میں جل چل کے
فسادِ خلقِ خدا پہ امید صبحوں کی
بغاوتوں کی کرن ہیں تماشے ہلچل کے
رکی ہے چرخ کی چرخی کسی خرابی سے
نکال وقت کے پہیے سے اب خلل چل کے
مثالِ تیر لپکتے ہوئے تعاقب میں
ابد میں ہو گیا پیوست خود ازل چل کے
اب اس کے بعد کہانی ترے کرم کی ہے
خود آ گیا ہے یہاں تک تو بے عمل چل کے
ندی کی پیاس بجھا ریت کے سمندر سے
کسی پہاڑ کی چوٹی سے پھر ابل چل کے
سنا ہے کھڑکیاں کھلتی ہیں چاند راتوں میں
کسی کو دیکھ مرے دل، کہیں مچل چل کے
مجھے بھی آتے دنوں کا شعور حاصل ہو
پڑھوں کہیں پہ گذشتہ کا ماحصل چل کے
بس ایک فون کی گھنٹی، بس ایک ڈور کی بیل
کسی کی آگ میں پتھر بدن !پگھل چل کے
عجب ہے حسنِ تناسب کی داستاں منصور
بنا ہے ‘ تاج محل‘ موت کا محل چل کے
منصور آفاق

زندگی ساتھ چل محبت کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 577
پاس ہیں چار پل محبت کے
زندگی ساتھ چل محبت کے
نت نئے دائرے بناتے ہیں
پانیوں میں کنول محبت کے
کیسے کیسے گلاب کھلتے ہیں
کیا ہیں سندر عمل محبت کے
شاہزادی نکلنے والی ہے
سج چکے ہیں محل محبت کے
جب بھی نروان کے سفر پہ نکل
داغ لے کے نکل محبت کے
یہی خونِ جگرکا حاصل ہے
ہے لبوں پر غزل محبت کے
اب کہانی کو موڑ دے منصور
زاویے کچھ بدل محبت کے
منصور آفاق