ٹیگ کے محفوظات: کندن

خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے

آتشِ شوق سے جب دل کوئی گلخن بن جائے
خون جتنا بھی رگوں میں ہو وہ ایندھن بن جائے
مل گیا ہے تمہیں قسمت سے جو سونا سا خیال
دل میں رکھو اسے جب تک نہ یہ کندن بن جائے
درگزر کرنا جفاؤں کو تری میرے لیے
سہل ہو جائے جو تو دوست سے دشمن بن جائے
ہو عنایت مجھے وہ تیز تخیل یارب
جس سے زندان کی دیوار میں روزن بن جائے
خوب ہیں پھول جو دو چار کھِلے ہیں باصِرؔ
چار چھ اور بھی ایسے ہوں تو گلشن بن جائے
باصر کاظمی

کندن

اپنے اندر جو کندن ہے اس کا لشکارا تو سدا ہماری آنکھوں میں جیتا ہے

سدا ہمارے ذہن میں اک چمکیلی راحت کے لالچ کو اکساتا ہے

لوگ، جب اپنے مطلبوں کی خاطر یوں عجز کی باتیں کر کے ہم کو عاجز کر دیتے ہیں

تو ایسے میں ہمارے اندر جو کندن ہے، ہماری آنکھوں میں آ کر

ایک لجاجت بھری ہنسی ہنستا ہے

اسی ہنسی کے پیچھے تحفظ کا اک ان دیکھا پنجہ بھی جھپٹتا ہے اور

نظر نہ آنے والا ایک تصرف کا جبڑا بھی غراتا ہے

یہ سنگین و ملائم رمز مروّت کی، سارے مفہوم ادا کر دیتی ہے ۔۔۔ اور

اسی کے پردے میں، گہرے بھیدوں کے اندر، زندگیوں کی حفاظت کرنے والی

خودغرضی جیتی ہے

اس سچّے لشکارے والے کھوٹے کندن کی ضو

سدا ہماری آنکھوں میں جیتی ہے

اور اس پر ہم کتنے خوش ہیں

مجید امجد

میں سر سے پا تک شمع جاں کس نے کیا روشن مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 291
کن قتل گاہوں سے ملا گل رنگ پیراہن مجھے
میں سر سے پا تک شمع جاں کس نے کیا روشن مجھے
اس خاک تن کو چاک پر کس نے نیا پیکر دیا
ان گردشوں کی آگ میں کس نے کیا کندن مجھے
کس نے کیا مسند نشیں اس بوریائے عشق پر
کس نے دیا احساس کا یہ راج سنگھاسن مجھے
میرے تصور سے سوا ان کی عطا، اُن کی سخا
اتنے خزانے مل گئے چھوٹا لگا دامن مجھے
وہ سرور و رہبر بھی ہیں، وہ یاور و دلبر بھی ہیں
میں کیوں نہ اُن پر وار دوں حاصل ہیں جان و تن مجھے
عرفان صدیقی