ٹیگ کے محفوظات: کنایت

رنج و حرماں کی یہ بدایت ہے

دیوان دوم غزل 1032
دل مرا مضطرب نہایت ہے
رنج و حرماں کی یہ بدایت ہے
منھ ادھر کر کبھو نہ وہ سویا
کیا دعا شب کی بے سرایت ہے
اب وہ مہ اور ایک مہ سے ملا
چند در چند یہ حکایت ہے
ہر طرف بحث تجھ سے ہے اے عشق
شکر تیرا تری شکایت ہے
ایسے رنج و عنا میں اودھر سے
پرسش حال بھی عنایت ہے
دہر کا ہو گلہ کہ شکوئہ چرخ
اس ستمگر ہی سے کنایت ہے
مت مراعات غیر رکھ منظور
میرے حق میں یہی رعایت ہے
عاشق اب بڑھ گئے ہمیں چھانٹو
اس میں سرکار کی کفایت ہے
کب ملے میر ملک داروں سے
وہ گداے شہ ولایت ہے
میر تقی میر

ہر سرحرف پہ فریاد نہایت کیجے

دیوان اول غزل 599
چل قلم غم کی رقم کوئی حکایت کیجے
ہر سرحرف پہ فریاد نہایت کیجے
گوکہ سر خاک قدم پر ترے لوٹے اس میں
اپنا شیوہ ہی نہیں یہ کہ شکایت کیجے
ہم جگر سوختوں کے جی میں جو آوے تو ابھی
دود دل ہوکے فلک تجھ میں سرایت کیجے
عشق میں آپ کے گذری نہ ہماری تو مگر
عوض جور و جفا ہم پہ عنایت کیجے
مت چلا عشق کی رہ کی کہ کہے ہے یاں خضر
آپھی گمراہ ہیں ہم کس کو ہدایت کیجے
کس کے کہنے کی ہے تاثیر کہ اک میر ہی سے
رمز و ایما و اشارات و کنایت کیجے
میر تقی میر