ٹیگ کے محفوظات: کناریں

یہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں

دیوان اول غزل 354
جہاں اب خارزاریں ہو گئی ہیں
یہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں
جنوں میں خشک ہو رگ ہاے گردن
گریباں کی سی تاریں ہو گئی ہیں
سنا جاتا ہے شہر عشق کے گرد
مزاریں ہی مزاریں ہو گئی ہیں
اسی دریاے خوبی کا ہے یہ شوق
کہ موجیں سب کناریں ہو گئی ہیں
انھیں گلیوں میں جب روتے تھے ہم میر
کئی دریا کی دھاریں ہو گئی ہیں
میر تقی میر