ٹیگ کے محفوظات: کنارہ

کوئی وجود محبّت کا استعارہ ہو

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 46
گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہو
کوئی وجود محبّت کا استعارہ ہو
میں گہرے پانی کی اس رو کے ساتھ بہتی رہوں
جزیرہ ہو کہ مقابل کوئی کنارہ ہو
کبھی کبھار اُسے دیکھ لیں ،کہیں مل لیں
یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو
قصور ہو تو ہمارے حساب میں لکھ جائے
محبتوں میں جو احسان ہو ، تمھارا ہو
یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا
کہیں ہوا کا ہی اُس نے نہ رُوپ دھارا ہو
اُفق تو کیا ہے،درِ کہکشاں بھی چُھو آئیں
مُسافروں کو اگر چاند کا اشارہ ہو
میں اپنے حصے کے سُکھ جس کے نام کر ڈالوں
کوئی تو ہو جو مجھے اس طرح کا پیارا ہو
اگر وجود میں آہنگ ہے تو وصل بھی ہے
میں چاہے نظم کا ٹکڑا،وہ نثر پارہ ہو
پروین شاکر

زہ دامن کی بھری ہے لہو سے کس کو تونے مارا آج

دیوان پنجم غزل 1589
کس تازہ مقتل پہ کشندے تیرا ہوا ہے گذارا آج
زہ دامن کی بھری ہے لہو سے کس کو تونے مارا آج
کل تک ہم نے تم کو رکھا تھا سو پردے میں کلی کے رنگ
صبح شگفتہ گل جو ہوئے تم سب نے کیا نظارہ آج
کوئی نہیں شاہان سلف میں خالی پڑے ہیں دونوں عراق
یعنی خود گم اسکندر ہے ناپیدا ہے دارا آج
چشم مشتاق اس لب و رخ سے لمحہ لمحہ اٹھی نہیں
کیا ہی لگے ہے اچھا اس کا مکھڑا پیارا پیارا آج
اب جو نسیم معطر آئی شاید بال کھلے اس کے
شہر کی ساری گلیاں ہو گئیں گویا عنبر سارا آج
کل ہی جوش و خروش ہمارے دریا کے سے تلاطم تھے
دیکھ ترے آشوب زماں کے کر بیٹھے ہیں کنارہ آج
چشم چرائی دور سے کر وا مجھ کو لگا یہ کہہ کے گیا
صید کریں گے کل ہم آکر ڈال چلے ہیں چارا آج
کل ہی زیان جیوں کے کیے ہیں عشق میں کیا کیا لوگوں نے
سادگی میری چاہ میں دیکھو میں ڈھونڈوں ہوں چارہ آج
میر ہوئے ہو بے خود کب کے آپ میں بھی تو ٹک آئو
ہے دروازے پر انبوہ اک رفتۂ شوق تمھارا آج
میر تقی میر

دور ہی دور پھرے پاس ہمارا نہ کیا

دیوان سوم غزل 1061
چال یہ کیا تھی کہ ایدھر کو گذارا نہ کیا
دور ہی دور پھرے پاس ہمارا نہ کیا
اس کو منظور نہ تھی ہم سے مروت کرنی
ایک چشمک بھی نہ کی ایک اشارہ نہ کیا
بعد دشنام تھی بوسے کی توقع بھی ولے
تلخ سننے کے تئیں ہم نے گوارا نہ کیا
مرکے بے حوصلہ لوگوں میں کہا یافرہاد
چندے پتھر ہی سے سر اور بھی مارا نہ کیا
جی رہے ڈوبتے دریاے غم عشق میں لیک
بوالہوس کی سی طرح ہم نے کنارہ نہ کیا
نیم جاں صدقے کی اس پر نہ زیاں دیکھا نہ سود
ہم تو کچھ دوستی میں وارے کا سارا نہ کیا
لے گیا مٹی بھی دروازے کی ان کے میں میر
پر اطبا نے مرے درد کا چارہ نہ کیا
میر تقی میر

ہوا طلوع افق پر مرے دوبارہ کوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 209
شہاب چہرہ کوئی گم شدہ ستارہ کوئی
ہوا طلوع افق پر مرے دوبارہ کوئی
اُمیدواروں پہ کھلتا نہیں وہ بابِ وصال
اور اس کے شہر سے کرتا نہیں کنارہ کوئی
مگر گرفت میں آتا نہیں بدن اس کا
خیال ڈھونڈتا رہتا ہے استعارہ کوئی
کہاں سے آتے ہیں یہ گھر اُجالتے ہوئے لفظ
چھپا ہے کیا مری مٹی میں ماہ پارہ کوئی
بس اپنے دل کی صدا پر نکل چلیں اس بار
کہ سب کو غیب سے ملتا نہیں اشارہ کوئی
گماں نہ کر کہ ہوا ختم کارِ دل زدگاں
عجب نہیں کہ ہو اس راکھ میں شرارہ کوئی
اگر نصیب نہ ہو اس قمر کی ہم سفری
تو کیوں نہ خاکِ گزر پر کرے گزارہ کوئی
عرفان صدیقی

ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 26
سنو، کہ بول رہا ہے وہ سر اتارا ہوا
ہمارا مرنا بھی جینے کا استعارہ ہوا
یہ سرخ پھول سا کیا کھل رہا ہے نیزے پر
یہ کیا پرندہ ہے شاخش شجر پہ دارا ہوا
ابھی زمیں پہ نشاں تھے عذاب رفتہ کے
پھر آسمان پہ ظاہر وہی ستارہ ہوا
میں ڈر رہا تھا وہ خنجر نہ ہو چھپائے ہوئے
ردا ہٹی تو وہی زخم آشکارا ہوا
یہ موج موج کا اک ربط درمیاں ہی سہی
تو کیا ہوا میں اگر دوسرا کنارہ ہوا
عرفان صدیقی

تُو ہے سمندروں کا کنارہ کہیں جسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 549
مشکل کشا کہیں جسے، چارہ کہیں جسے
تُو ہے سمندروں کا کنارہ کہیں جسے
تُو صرف ایک آخری امید کی کرن
ہر گمشدہ سحر کا ستارہ کہیں جسے
حاصل ہے تیرا نام ہی حرف و کلام کا
مِل مِل کے اپنے ہونٹ دوبارہ کہیں جسے
ہم سے زیادہ اورمکرم کوئی نہیں
ہے دو جہاں کا والی ،ہمارا کہیں جسے
ایسا تو اور کوئی نہیں کائنات میں
منصور بے کسوں کا سہاراکہیں جسے
منصور آفاق

یعنی میرا استعارہ رکھ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 112
ریل کی پٹڑی پہ تارہ رکھ دیا
یعنی میرا استعارہ رکھ دیا
کھینچ کر اس نے نظر کی ایک حد
آنکھ میں شوقِ نظارہ رکھ دیا
خاک پر بھیجا مجھے اور چاند پر
میری قسمت کا ستارہ رکھ دیا
بچ بچا کر کوزہ گر کی آنکھ سے
چاک پر خود کو دوبارہ رکھ دیا
دور تک نیلا سمندر دیکھ کر
میں نے کشتی میں کنارہ رکھ دیا
انتظار آباد یوں رکھا بدن
ہر روئیں پر ایک تارہ رکھ دیا
دیکھا جو سوکھی ہوئی لکڑی کا دل
اس میں خواہش کا شرارہ رکھ دیا
پہلے رکھا یاد نے منصور ہاتھ
رفتہ رفتہ بوجھ سارا رکھ دیا
منصور آفاق

فلک پر اس کا ملبہ گر پڑا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 88
زمیں پلٹی تو الٹا گر پڑا تھا
فلک پر اس کا ملبہ گر پڑا تھا
میں بھر لایا ہوں مشکیزہ دکھوں سے
کنویں کی تہہ میں صحرا گر پڑا تھا
سُکھانا چاہتا تھا خواب لیکن
ٹشو پیپر پہ آنسو گر پڑا تھا
مری رفتار کی وحشت سے ڈر کر
کسی کھائی میں رستہ گر پڑا تھا
کھلی تھی اک ذرا بس چونچ اس کی
کہیں چاول کا دانہ گر پڑا تھا
مرے کردار کی آنکھیں کھلی تھیں
اور اس کے بعد پردہ گر پڑا تھا
مری سچائی میں دہشت بڑی تھی
کہیں چہرے سے چہرہ گر پڑا تھا
بس اک موجِ سبک سر کی نمو سے
ندی میں پھر کنارہ گر پڑا تھا
مرے چاروں طرف بس کرچیاں تھیں
نظر سے اک کھلونا گر پڑا تھا
اٹھا کر ہی گیا تھا اپنی چیزیں
بس اس کے بعد کمرہ گر پڑا تھا
نظر منصور گولی بن گئی تھی
ہوا میں ہی پرندہ گر پڑا تھا
منصور آفاق