ٹیگ کے محفوظات: کمی

جگنوؤں سی اپنی اپنی روشنی ہے اور ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
وسعتِ تِیرہ شبی ، تنہا روی ہے اور ہم
جگنوؤں سی اپنی اپنی روشنی ہے اور ہم
کیمیا گر تو ہمیں کندن بنا ڈالے مگر
آنچ بھر کی ایسا ہونے میں کمی ہے اور ہم
بھیڑیوں کی دھاڑ کو سمجھیں صدائے رہنما
خوش گماں بھیڑوں سی طبعی سادگی ہے اور ہم
کیا سلوک ہم سے کرے یہ منحصر ہے زاغ پر
گھونسلے کے بوٹ سی نا آگہی ہے اور ہم
ہاں یہی وہ فصل ہے پکنے میں جو آتی نہیں
زخمِ جاں کی روز افزوں تازگی ہے اور ہم
ناگہانی آندھیوں میں جو خس و خاشاک کو
جھیلنی پڑتی ہے وہ بے چارگی ہے اور ہم
ناخدا کو ناؤ سے دیکھا ہو جیسے کُودتے
دم بہ دم ماجد کچھ ایسی بے بسی ہے اور ہم
ماجد صدیقی

جگنوؤں سی اپنی اپنی روشنی ہے اور ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
وسعتِ تِیرہ شبی ، تنہا روی ہے اور ہم
جگنوؤں سی اپنی اپنی روشنی ہے اور ہم
کیمیا گر تو ہمیں کندن بنا ڈالے مگر
آنچ بھر کی ایسا ہونے میں کمی ہے اور ہم
بھیڑیوں کی دھاڑ کو سمجھیں صدائے رہنما
خوش گماں بھیڑوں سی طبعی سادگی ہے اور ہم
کیا سلوک ہم سے کرے یہ منحصر ہے زاغ پر
گھونسلے کے بوٹ سی نا آگہی ہے اور ہم
ہاں یہی وہ فصل ہے پکنے میں جو آتی نہیں
زخمِ جاں کی روز افزوں تازگی ہے اور ہم
ناگہانی آندھیوں میں جو خس و خاشاک کو
جھیلنی پڑتی ہے وہ بے چارگی ہے اور ہم
ناخدا کو ناؤ سے دیکھا ہو جیسے کُودتے
دم بہ دم ماجد کچھ ایسی بے بسی ہے اور ہم
ماجد صدیقی

کل کے اوراق میں لیجیے ہم نے بھی، فیصلہ لکھ دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
دھونس، دھن، دھاندلی کا جو ٹھہرا، وُہی فیصلہ لکھ دیا
کل کے اوراق میں لیجیے ہم نے بھی، فیصلہ لکھ دیا
قصر محفوظ تھے، بے اماں جھونپڑے، راکھ کیونکر ہوئے
حق میں غفلت کے، تھی جو شہِ وقت کی، فیصلہ لکھ دیا
تھا اندھیروں پہ قابو نہ اپنا کبھی، پھر بھی اِتنا کیا
حبسِ بے جا میں دیکھی جہاں روشنی، فیصلہ لکھ دیا
جور کے جبر کے، جس قدر سلسلے تھے، وہ بڑھتے گئے
آنے پائی نہ جب، اُن میں کچھ بھی کمی، فیصلہ لکھ دیا
ہاتھ فریاد کے، اُٹھنے پائے نہ تھے اور لب سِل گئے
دیکھ کر ہم نے ماجدؔ، یہی بے بسی، فیصلہ لکھ دیا
ماجد صدیقی

اک کمی سی ہے، کیوں ہے؟

نینا عادل ۔ غزل نمبر 22
بے کلی سی ہے! کیوں ہے؟
اک کمی سی ہے، کیوں ہے؟
آہ کی طوالت بھی
عارضی سی ہے، کیوں ہے؟
کوزہ گر مری مٹی
بھربھری سی ہے، کیوں ہے؟
ہر کہانی اندر سے اندر سے
ان کہی سی ہے! کیوں ہے؟
تیرے قرب کی ساعت
اجنبی سی ہے! کیوں ہے؟
حرف کے مناروں میں
روشنی سی ہے! کیوں ہے؟
دشت کی ہو ا نیناؔ
ساحلی سی ہے، کیوں ہے؟
نینا عادل

اور سبھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 20
اجنبی ہو گئے دیکھتے دیکھتے!
اور سبھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
جن میں کوئی کمی ہی نہیں تھی وہ دن
اک کمی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
آپ تک جانے والے سبھی راستے
داخلی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
شاعری پہلا الزام تھی ذات پر
پھر کئی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
رنگ جتنے بھرے میں نے تصویر میں
سرمئی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
سرسری ایک کردار تھے ہم کبھی
مرکزی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اور لوگوں کے جیسے کہاں آپ تھے
آپ بھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اِن نگاہوں میں تھے جو ہزاروں سخن
اَن کہی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
اُس کی صحبت میں گزرے ہوئے سارے پل
شاعری ہو گئے دیکھتے دیکھتے
ہم مہا شبد کا اولیں بھید تھے
روشنی ہو گئے دیکھتے دیکھتے
نینا عادل

تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 150
دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے
تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے
اب کے جانے کا نہیں موسم گر یہ شاید
مسکرائیں بھی تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے
عشق عمروں کی مسافت ہے کسے کیا معلوم؟
کب تلک ہم سفری ہم قدمی رہتی ہے
کچھ دلوں میں کبھی کھلتے نہیں چاہت کے گلاب
کچھ جزیروں پہ سدا دھند جمی رہتی ہے
احمد فراز

ہمارے چاروں طرف روشنی ملال کی ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 98
ہر ایک شکل میں صورت نئی ملال کی ہے
ہمارے چاروں طرف روشنی ملال کی ہے
ہم اپنے ہجر میں تیرا وصال دیکھتے ہیں
یہی خوشی کی ہے ساعت، یہی ملال کی ہے
ہمارے خانہءِ دل میں نہیں ہے کیا کیا کچھ
یہ اور بات کہ ہر شے اُسی ملال کی ہے
ابھی سے شوق کی آزردگی کا رنج نہ کر
کہ دل کو تاب خوشی کی نہ تھی، ملال کی ہے
کسی کا رنج ہو، اپنا سمجھنے لگتے ہیں
وبالِ جاں یہ کشادہ دلی ملال کی ہے
نہیں ہے خواہشِ آسودگیءِ وصل ہمیں
جوازِ عشق تو بس تشنگی ملال کی ہے
گزشتہ رات کئی بار دل نے ہم سے کہا
کہ ہو نہ ہو یہ گھٹن آخری ملال کی ہے
رگوں میں چیختا پھرتا ہے ایک سیلِ جنوں
اگرچہ لہجے میں شائستگی ملال کی ہے
عجیب ہوتا ہے احساس کا تلون بھی
ابھی خوشی کی خوشی تھی، ابھی ملال کی ہے
یہ کس امید پہ چلنے لگی ہے بادِ مُراد؟
خبر نہیں ہے اِسے، یہ گھڑی ملال کی ہے
دعا کرو کہ رہے درمیاں یہ بے سخنی
کہ گفتگو میں تو بے پردگی ملال کی ہے
تری غزل میں عجب کیف ہے مگر عرفان
درُونِ رمز و کنایہ کمی ملال کی ہے
عرفان ستار

تری خواہش ابھی ہے تو سہی، کم ہو گئی ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 94
اِدھر کچھ دن سے دل کی بے کلی کم ہو گئی ہے
تری خواہش ابھی ہے تو سہی، کم ہو گئی ہے
نظر دھندلا رہی ہے یا مناظر بجھ رہے ہیں
اندھیرا بڑھ گیا یا روشنی کم ہو گئی ہے
ترا ہونا تو ہے بس ایک صورت کا اضافہ
تیرے ہونے سے کیا تیری کمی کم ہو گئی ہے
خموشی کو جنوں سے دست برداری نہ سمجھو
تجسس بڑھ گیا ہے سر کشی کم ہو گئی ہے
ترا ربط اپنے گرد و پیش سے اتنا زیادہ
تو کیا خوابوں سے اب وابستگی کم ہو گئی ہے
سرِ طاقِ تمنا بجھ گئی ہے شمعِ امّید
اُداسی بڑھ گئی ہے بے دلی کم ہو گئی ہے
سبھی زندہ ہیں اور سب کی طرح میں بھی ہوں زندہ
مگر جیسے کہیں سے زندگی کم ہو گئی ہے
عرفان ستار

شوقِ بزم آرائی بھی تیری کمی کا جبر ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 85
خوش مزاجی مجھ پہ میری بے دلی کا جبر ہے
شوقِ بزم آرائی بھی تیری کمی کا جبر ہے
کون بنتا ہے کسی کی خود ستائی کا سبب
عکس تو بس آئینے پر روشنی کا جبر ہے
خواب خواہش کا، عدم اثبات کا، غم وصل کا
زندگی میں جو بھی کچھ ہے سب کسی کا جبر ہے
اپنے رد ہونے کا ہر دم خوف رہتا ہے مجھے
یہ مری خود اعتمادی خوف ہی کا جبر ہے
کارِ دنیا کے سوا کچھ بھی مرے بس میں نہیں
میری ساری کامیابی بے بسی کا جبر ہے
میں کہاں اور بے ثباتی کا یہ ہنگامہ کہاں
یہ مرا ہونا تو مجھ پر زندگی کا جبر ہے
یہ سخن یہ خوش کلامی در حقیقت ہے فریب
یہ تکلم روح کی بے رونقی کا جبر ہے
شہرِ دل کی راہ میں حائل ہیں یہ آسائشیں
یہ مری آسودگی کم ہمتی کا جبر ہے
جس کا سارا حُسن تیرے ہجر ہی کے دم سے تھا
وہ تعلق اب تری موجودگی کا جبر ہے
جبر کی طابع ہے ہر کیفیتِ عمرِ رواں
آج کا غم جس طرح کل کی خوشی کا جبر ہے
کچھ نہیں کھلتا مرے شوقِ تصرف کا سبب
شوقِ سیرابی تو میری تشنگی کا جبر ہے
جو سخن امکان میں ہے وہ سخن ہے بے سخن
یہ غزل تو کچھ دنوں کی خامشی کا جبر ہے
عرفان ستار

کہ میں محروم ہوتا جا رہا ہوں روشنی سے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 68
بتاتا ہے مجھے آئینہ کیسی بے رُخی سے
کہ میں محروم ہوتا جا رہا ہوں روشنی سے
کسے الزام دوں میں رائگاں ہونے کا اپنے
کہ سارے فیصلے میں نے کیے خود ہی خوشی سے
ہر اک لمحہ مجھے رہتی ہے تازہ اک شکایت
کبھی تجھ سے، کبھی خود سے، کبھی اس زندگی سے
مجھے کل تک بہت خواہش تھی خود سے گفتگو کی
میں چھپتا پھر رہا ہوں آج اپنے آپ ہی سے
وہ بے کیفی کا عالم ہے کہ دل یہ چاہتا ہے
کہیں روپوش ہو جاؤں اچانک خامشی سے
سکونِ خانۂ دل کے لیے کچھ گفتگو کر
عجب ہنگامہ برپا ہے تری لب بستگی سے
تعلق کی یہی صورت رہے گی کیا ہمیشہ
میں اب اُکتا چکا ہوں تیری اس وارفتگی سے
جو چاہے وہ ستم مجھ پر روا رکھے یہ دنیا
مجھے یوں بھی توقع اب نہیں کچھ بھی کسی سے
ترے ہونے نہ ہونے پر کبھی پھر سوچ لوں گا
ابھی تو میں پریشاں ہوں خود اپنی ہی کمی سے
رہا وہ ملتفت میری طرف پر اُن دنوں میں
خود اپنی سمت دیکھے جا رہا تھا بے خودی سے
کوئی خوش فکر سا تازہ سخن بھی درمیاں رکھ
کہاں تک دل کو بہلائوں میں تیری دل کشی سے
کرم تیرا کہ یہ مہلت مجھے کچھ دن کی بخشی
مگر میں تجھ سے رخصت چاہتا ہوں آج ہی سے
وہ دن بھی تھے تجھے میں والہانہ دیکھتا تھا
یہ دن بھی ہیں تجھے میں دیکھتا ہوں بے بسی سے
ابھی عرفانؔ آنکھوں کو بہت کچھ دیکھنا ہے
تمہیں بے رنگ کیوں لگنے لگا ہے سب ابھی سے
عرفان ستار

کہ ہم نے داد کی خواہش میں شاعری نہیں کی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 60
سخن کے شوق میں توہین حرف کی نہیں کی
کہ ہم نے داد کی خواہش میں شاعری نہیں کی
جو خود پسند تھے ان سے سخن کیا کم کم
جو کج کلاہ تھے اُن سے تو بات بھی نہیں کی
کیھی بھی ہم نے نہ کی کوئی بات مصلحتاً
منافقت کی حمایت، نہیں، کبھی نہیں کی
دکھائی دیتا کہاں پھر الگ سے اپنا وجود
سو ہم نے ذات کی تفہیمِ آخری نہیں کی
اُسے بتایا نہیں ہے کہ میں بدن میں نہیں
جو بات سب سے ضروری ہے وہ ابھی نہیں کی
بنامِ خوش نفسی ہم تو آہ بھرتے رہے
کہ صرف رنج کیا ہم نے، زندگی نہیں کی
ہمیشہ دل کو میّسر رہی ہے دولتِ ہجر
جنوں کے رزق میں اُس نے کبھی کمی نہیں کی
بصد خلوص اٹھاتا رہا سبھی کے یہ ناز
ہمارے دل نے ہماری ہی دلبری نہیں کی
جسے وطیرہ بنائے رہی وہ چشمِ غزال
وہ بے رخی کی سہولت ہمیں بھی تھی، نہیں کی
ہے ایک عمر سے معمول روز کا عرفان
دعائے ردِّ انا ہم نے آج ہی نہیں کی
عرفان ستار

سو اب کسی کے نہ ہونے سے کچھ کمی بھی نہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 51
طلب تو جزوِ تمنا کبھی رہی بھی نہیں
سو اب کسی کے نہ ہونے سے کچھ کمی بھی نہیں
ہمیں تمہاری طرف روز کھینچ لاتی تھی
وہ ایک بات جو تم نے کبھی کہی بھی نہیں
وہ سب خیال کے موسم کسی نگاہ سے تھے
سو اب خوشی بھی نہیں دل گرفتگی بھی نہیں
کرم کیا کہ رُکے تم نگاہ بھر کے لیے
نظر کو اس سے زیادہ کی تاب تھی بھی نہیں
وہ ایک پل ہی سہی جس میں تم میسّر ہو
اُس ایک پل سے زیادہ تو زندگی بھی نہیں
کسی کی سمت کچھ ایسے بڑھی تھی چشمِ طلب
صدائے دل پہ پلٹتی تو کیا رُکی بھی نہیں
یہ جانتے تو مزاج آشنا ہی کیوں ہوتے
جو روز تھا وہ سخن اب کبھی کبھی بھی نہیں
سنا رہے ہو ہمیں کس نگاہِ ناز کے غم
ہم اُس کے سامنے ہوتے تو پوچھتی بھی نہیں
ہزار تلخ مراسم سہی پہ ہجر کی بات
اُسے پسند نہ تھی اور ہم نے کی بھی نہیں
عرفان ستار

تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں‌ کمی نہ کرنا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 10
ستم ہے کرنا جفا ہے کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا
تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں‌ کمی نہ کرنا
ہماری میت پہ تم جو آنا تو چار آنسو گرا کے جانا
ذرا رہے پاس آبرو بھی کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا
کہاں کا آنا کہاں کا جانا وہ جانتے ہی نہیں‌ یہ رسمیں
وہاں ہے وعدے کی بھی یہ صورت کبھی تو کرنا کبھی نہ کرنا
لیئے تو چلتے ہیں‌حضرت دل تمہیں بھی اس انجمن میں‌لیکن
ہمارے پہلو میں‌بیٹھ کر تم ہمیں سے پہلو تہی نہ کرنا
نہیں ہے کچھ قتل انکا آسان یہ سخت جان ہیں‌ بڑے بلا کے
قضا کو پہلے شریک کرنا یہ کام اپنے خوشی نہ کرنا
داغ دہلوی

دل کواب دل دہی سے خطرہ ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 224
عیشِ اُمید ہی سے خطرہ ہے
دل کواب دل دہی سے خطرہ ہے
ہے کچھ ایسا کہ اس کی جلوت میں
ہمیں اپنی کمی سے خطرہ ہے
جس کے آغوش کا ہوں دیوانہ
اس کے آغوش ہی سے خطرہ ہے
یاد کی دھوپ تو ہے روز کی بات
ہاں مجھے چاندنی سے خطرہ ہے
ہے عجب کچھ معاملہ درپیش
عقل کو آ گہی سے خطرہ ہے
شہر غدار جان لے کہ تجھے
ایک امروہوی سے خطرہ ہے
ہے عجب طورِ حالتِ گریہ
کہ مژہ کو نمی سے خطرہ ہے
حال خوش لکھنو کا دلّی کا
بس انہیں مصحفی سے خطرہ ہے
آسمانوں میں ہے خدا تنہا
اور ہر آدمی سے خطرہ ہے
میں کہوں کس طرح یہ بات اس سے
تجھ کو جانم مجھی سے خطرہ ہے
آج بھی اے کنارِ بان مجھے
تیری اک سانولی سے خطرہ ہے
ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤں
اپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے
جون ہی تو ہے جون کے درپے
میر کو میر ہی سے خطرہ ہے
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
جون ایلیا

بلا کی حالتِ شوریدگی میں آئے تھے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 197
وہ اہلِ حال جو خود رفتگی میں آئے تھے
بلا کی حالتِ شوریدگی میں آئے تھے
کہاں گئے کبھی ان کی خبر تو لے ظالم
وہ بےخبر جو تیری زندگی میں آئے تھے
گلی میں اپنی گِلہ کر ہمارے آنے کا
کہ ہم خوشی میں نہیں سرخوشی میں آئے تھے
کہاں چلے گئے اے فصلِ رنگ و بُو وہ لوگ
جو زرد زرد تھے اور سبزگی میں آئے تھے
نہیں ہے جن کے سبب اپنی جانبری ممکن
وہ زخم ہم کو گزشتہ صدی میں آئے تھے
تمہیں ہماری کمی کا خیال کیوں آتا
ہزار حیف ہم اپنی کمی میں آئے تھے
جون ایلیا

گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 157
نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی
گماں گماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی
عجب طرح رخ آیندگی کا رنگ اڑا
دیار ذات میں ازخود گزشتگی ہی رہی
حریم شوق کا عالم بتائیں کیا تم کو
حریم شوق میں بس کمی ہی رہی
پس نگاہ تغافل تھی اک نگاہ کہ تھی
جو دل کے چہرہ ء حسرت کی تازگی ہی رہی
عجیب آئینہ پر تو تمنا تھا
تھی اس میں ایک اداسی جو سجی ہی رہی
بدل گیا سبھی کچھ اس دیار بودش میں
گلی تھی جو تری جاں وہ تری گلی ہی رہی
تمام دل کے محلے اجڑ چکے تھے—– مگر
بہت دنوں تو ہنسی ہی رہی خوشی ہی رہی
وہ داستاں تمہیں اب بھی یاد ہے کہ نہیں
جو خون تھوکنے والوں کی بے حسی ہی رہی
سناؤں میں کسے افسانہ ء خیال ملال
تری کمی ہی رہی اور مری کمی ہی رہی
جون ایلیا

اب گلہ کیا، بہت خوشی کر لی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 147
دل نے وحشت گلی گلی کر لی
اب گلہ کیا، بہت خوشی کر لی
یار! دل تو بلا کا تھا عیاش
اس نے کس طرح خود کشی کر لی
نہیں آئیں گے اپنے بس میں ہم
ہم نے کوشش رہی سہی کر لی
اب تو مجھ کو پسند آ جاؤ
میں نے خود میں بہت کمی کر لی
یہ جو حالت ہے اپنی، حالتِ زار
ہم نے خود اپنے آپ ہی کر لی
اب کریں کس کی بات ہم آخر
ہم نے تو اپنی بات بھی کر لی
قافلہ کب چلے گا خوابوں کا
ہم نے اک اور نیند بھی کر لی
اس کو یکسر بھلا دیا پھر سے
ایک بات اور کی ہوئی کر لی
آج بھی رات بھر کی بےخوابی
دلِ بیدار نے گھری کر لی
کیا خدا اس سے دل لگی کرتا
ہم نے تو اس سے بات بھی کر لی
جون ایلیا

رہے آخر تری کمی کب تک

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 81
میں سہوں کربِ زندگی کب تک
رہے آخر تری کمی کب تک
کیا میں آنگن میں چھوڑ دوں سونا
جی جلائے گی چاندنی کب تک
اب فقط یاد رہ گئی ہے تری
اب فقط تری یاد بھی کب تک
میں بھلا اپنے ہوش میں کب تھا
مجھ کو دنیا پُکارتی کب تک
خیمہ گاہِ شمال میں۔۔۔آخر
اس کی خوشبو رچی بسی کب تک
اب تو بس آپ سے گلہ ہے یہی
یاد آئیں گے آپ ہی کب تک
مرنے والو ذرا بتاؤ تو
رہے گی یہ چلا چلی کب تک
جس کی ٹوٹی تھی سانس آخرِ شب
دفن وہ آرزو ہوئی کب تک
دوزخِ ذات باوجود ترے
شبِ فرقت نہیں جلی کب تک
اپنے چھوڑے ہوئے محلوں پر
رہا دورانِ جاں کنی کب تک
نہیں معلوم میرے آنے پر
اسکے کوچے میں لُو چلی کب تک
جون ایلیا

میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 45
ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا
میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا
ذات در ذات ہم سفر رہ کر
اجنبی، اجنبی کو بھول گیا
صبح تک وجہِ جانکنی تھی جو بات
میں اسے شام ہی کو بھول گیا
عہدِ وابستگی گزار کے میں
وجہ وابستگی کو بھول گیا
سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں
بحث کیا تھی، اسی کو بھول گیا
کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر
ایک میں، ہر کسی کو بھول گیا
سب سے پر امن واقعہ یہ ہے
آدمی، آدمی کو بھول گیا
قہقہہ مارتے ہی دیوانہ
ہر غمِ زندگی کو بھول گیا
خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا
رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا
کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص
اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا
سوچ کر اس کی خلوت انجمنی
واں میں اپنی کمی کو بھول گیا
سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں
جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا
ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن
اپین کم فرصتی کو بھول گیا
بستیو! اب تو راستہ دے دو
اب تو میں اس گلی کو بھول گیا
اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا
میں بھی گویا اسی کو بھول گیا
یعنی تم وہ ہو، واقعی؟ حد ہے
میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا
آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے
بت شکن، بت گری کو بھول گیا
اب تو ہر بات یاد رہتی ہے
غالباً میں کسی کو بھول گیا
اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ
اپنی ایذا دہی کو بھول گیا
جون ایلیا

لاگو ہو میرے جی کا اتنی ہی دوستی کر

دیوان دوم غزل 817
اب تنگ ہوں بہت میں مت اور دشمنی کر
لاگو ہو میرے جی کا اتنی ہی دوستی کر
جب تک شگاف تھے کچھ اتنا نہ جی رکے تھا
پچھتائے ہم نہایت سینے کے چاک سی کر
قصہ نہیں سنا کیا یوسفؑ ہی کا جو تونے
اب بھائیوں سے چندے تو گرگ آشتی کر
ناسازی و خشونت جنگل ہی چاہتی ہے
شہروں میں ہم نہ دیکھا بالیدہ ہوتے کیکر
کچھ آج اشک خونیں میں نے نہیں چھپائے
رہ رہ گیا ہوں برسوں لوہو کو اپنے پی کر
کس مردنی کو اس بن بھاتی ہے زندگانی
بس جی چکا بہت میں اب کیا کروں گا جی کر
حرف غلط کو سن کر درپے نہ خوں کے ہونا
جو کچھ کیا ہے میں نے پہلے اسے سہی کر
دن رات کڑھتے کڑھتے میں بھی بہت رکا ہوں
جو تجھ سے ہوسکے سو اب تو بھی مت کمی کر
رہتی ہے سو نکوئی رہتا نہیں ہے کوئی
تو بھی جو یاں رہے تو زنہار مت بدی کر
تھی جب تلک جوانی رنج و تعب اٹھائے
اب کیا ہے میر جی میں ترک ستمگری کر
میر تقی میر

عید آئی یاں ہمارے بر میں جامہ ماتمی

دیوان اول غزل 453
تو گلے ملتا نہیں ہم سے تو کیسی خرمی
عید آئی یاں ہمارے بر میں جامہ ماتمی
جی بھرا رہتا ہے اب آٹھوں پہر مانند ابر
سینکڑوں طوفاں بغل میں ہے یہ مژگاں ماتمی
حشر کو زیر و زبر ہو گا جہاں سچ ہے ولے
ہے قیامت شیخ جی اس کارگہ کی برہمی
تجھ سوا محبوب آتش طبع اے ساقی نہیں
ہو پرستاروں میں تیرے گر پری ہو آدمی
سامنے ہوجائیں اے ظالم تو دونوں ہیں برے
وہ دم شمشیر تیرا یہ ہماری بے دمی
اس قیامت جلوہ سے بہتیرے ہم سے جی اٹھیں
مر گئے تو مر گئے ہم اس کی کیا ہو گی کمی
کچھ پریشانی سی ہے سنبل کی جو الجھے ہے میر
یک جہاں برہم کرے زلفوں کی اس کی درہمی
میر تقی میر

اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 6
جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا
اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا
دل صداقتیں مانگے خیر و شر کی دنیا میں
وہم ہے محبت کا سب سے دوستی کرنا
کیوں پسند آیا ہے لا مکاں کی وسعت کو
میرا، چند گلیوں میں سیرِ زندگی کرنا
آ دماغ روشن کر، یہ چراغ روشن کر
ظلمتوں میں اچھا ہے شغلِ مے کشی کرنا
اے امامِ صحرا تُو آج کی گواہی دے
شرطِ آدمیت ہے جبر کی نفی کرنا
موتیے کی خوشبوئیں مل رہی ہیں یادوں میں
اس سمے تو آنکھوں کو چاہئے نمی کرنا
عشق میں مقلد ہیں ہم طریق ”غالب” کے
مہ رُخوں سے سیکھنا ہے ہم نے شاعری کرنا
آفتاب اقبال شمیم

ہر قدم ہم نے عاشقی کی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 9
سہل یوں راہِ زندگی کی ہے
ہر قدم ہم نے عاشقی کی ہے
ہم نے دل میں سجا لیے گلشن
جب بہاروں نے بے رُخی کی ہے
زہر سے دھو لیے ہیں ہونٹ اپنے
لطفِ ساقی نے جب کمی کی ہے
تیرے کوچے میں بادشاہی کی
جب سے نکلے گداگری کی ہے
بس وہی سرخرو ہوا جس نے
بحرِ خوں میں شناوری کی ہے
"جو گزرتے تھے داغ پر صدمے”
اب وہی کیفیت سبھی کی ہے
لندن
فیض احمد فیض