ٹیگ کے محفوظات: کمبل

ایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 67
تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
ایسی برساتیں کہ بادل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
بچپنے کا ساتھ ہے،پھر ایک سے دونوں کے دُکھ
رات کا اور میرا آنچل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
وہ عجب دنیا کہ سب خنجر بکف پھرتے ہیں ۔۔اور
کانچ کے پیالوں میں صندل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
بارشِ سنگِ ملامت میں بھی وہ ہمراہ ہے
میں بھی بھیگوں ،خود بھی پاگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
لڑکیوں کے دُکھ عجب ہوتے ہیں ،سُکھ اُس سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
بارشیں جاڑے کی اور تنہا بہت میرا کساں
جسم کا اکلوتا کمبل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
پروین شاکر

کھلے گلے کی پہن کر قمیض ململ کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 463
گرا کے پھول اٹھائے کوئی کڑی تھل کی
کھلے گلے کی پہن کر قمیض ململ کی
ابھی تو پاؤں میں باقی ہے ہجر کا ہفتہ
پڑی ہے راہ ابھی ایک اور منگل کی
حنائی ہاتھ پہ شاید پلیٹ رکھی تھی
ہوا کے جسم سے خوشبو اٹھی تھی چاول کی
بچھی ہوئی ہیں سحر خیزیوں تلک آنکھیں
ملی ہوئی ہے شبوں سے لکیر کاجل کی
لیا ہے شام کا شاور ابھی ابھی کس نے
گلی میں آئی ہے خوشبو کہاں سے جل تھل کی
شفق کے لان میں صدیوں سے شام کی لڑکی
بجا رہی ہے مسلسل پرات پیتل کی
نکھر نکھر گیا کمرے میں رنگ کا موسم
ذرا جو شال بدن کے گلاب سے ڈھلکی
کسی کو فتح کیا میں نے پیاس کی رت میں
اڑے جو کارک تو شمپین جسم پر چھلکی
چھتوں پہ لوگ اٹھائے ہوئے تھے بندوقیں
تمام شہر پہ اتری تھی رات جنگل کی
جھلس گیا تھا دسمبر کی رات میں منصور
وہ سرسراتی ہوئی آگ تیرے کمبل کی
منصور آفاق