ٹیگ کے محفوظات: کمال

شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف

کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف
شاطِر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف
تیرے یہ سارے شعبدے میرے لیے نہیں نئے
کر کے دکھا کبھی مجھے کوئی کمال مختلف
لگتے ہیں یہ جو کامیاب ہیں جیسے آب پر حباب
پیشِ نگہ انہیں نہ رکھ ڈھونڈ مثال مختلف
جن کو ملیں بلندیاں دیکھیں اُنہوں نے پستیاں
ہوتی ہے ہر دفعہ مگر وجہِ زوال مختلف
تو نے کہی سُنی سُنائی مجھ سے سُنی سُنائی سُن
چاہے اگر نئے جواب پوچھ سوال مختلف
میری بہار اور خزاں میرے لہو میں ہے نہاں
مریخ و ارض سے مرے ہیں ماہ و سال مختلف
ایسی چلی دمِ سحر شام تلک کیا نہال
بادِ صبا سے تھی بہت موجِ خیال مختلف
باصر کاظمی

اور لمبی خیال کی گھڑیاں

مختصر ہیں وصال کی گھڑیاں
اور لمبی خیال کی گھڑیاں
آپ تھے ہم تھے اور تنہائی
وہ بھی تھیں کیا کمال کی گھڑیاں
آگ بھڑکا گئیں مرے دل کی
موسمِ برشگال کی گھڑیاں
چڑھتے سورج تُو اب تو آنکھیں کھول
سر پہ آئیں زوال کی گھڑیاں
ہر نیا سال ہم سے کہتا ہے
خوب تھیں پچھلے سال کی گھڑیاں
باصر کاظمی

جبھی تو تیرے نہ ملنے کا کچھ ملال نہ تھا

میں جانتا ہوں کہ ملنا ترا محال نہ تھا
جبھی تو تیرے نہ ملنے کا کچھ ملال نہ تھا
مجھے تو صرف ترا پیار کھینچ لایا ہے
یہاں رقیب بھی ہوں گے مجھے خیال نہ تھا
خود اپنے آپ سے میں نے شکست کھائی تھی
مری شکست میں تیرا کوئی کمال نہ تھا
خراب حال بہر حال کوئی حال تو ہے
وہ دن بھی یاد ہیں جب اپنا کوئی حال نہ تھا
اُسی کے ہو گئے جس راستے پہ چل نکلے
سدا سے اپنی طبیعت میں اعتدال نہ تھا
گِلہ فضول ہے مُرجھا گیا جو نخلِ عشق
جو اِس زمین میں اُگتا یہ وہ نہال نہ تھا
باصر کاظمی

مری اور اور محیط ہیں جو ریا کے جال نہ دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
میں قفس میں ہوں کہ سرِچمن مرے ماہ و سال نہ دیکھنا
مری اور اور محیط ہیں جو ریا کے جال نہ دیکھنا
یہی سوچنا کہ شکست میں مری اپنی کم نظری تھی کیا
وُہ کہ محھ سے ہے جو چلی گئی وُہی ایک چال نہ دیکھنا
مرے ہونٹ سی کے جواب میں وُہی کچھ کہو کہ جو دل میں ہے
مری آنکھ میں جو رُکا ہوا ہے وُہی سوال نہ دیکھنا
جو رہیں تو زیبِ لب و زباں مرے جرم، میرے عیوب ہی
وُہ کہ خاص ہے مری ذات سے کوئی اک کمال نہ دیکھنا
یہی فرض کر کے مگن رہو کہ مری ہی سرخیٔ خوں ہے یہ
یہ جو ضرب ضرب لہو ہوئے کبھی میرے گال نہ دیکھنا
کوئی حرف آئے توکس لئے کسی رُت پہ ماجدِؔ خوش گماں
یہ تنی ہے جو سرِ ہر شجر کبھی خشک چھال نہ دیکھنا
ماجد صدیقی

تو بھی ہمیں نہ جنّتِ فردا پہ ٹال دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 66
جاناں! کبھی تو مژدۂ لطفِ وصال دے
تو بھی ہمیں نہ جنّتِ فردا پہ ٹال دے
ہم گمرہی میں، غیر مگر راستی میں فرد
دیتا ہے وُہ، جسے بھی، جو اوجِ کمال دے
سجنے لگے شرر جو سرِ شاخِ آرزو
ایسا ثمر تو باغ میں کوئی نہ ڈال دے
اتنا تو بخش دے ہمیں اخفائے دردِ دل
حدّت وُہ دے جو اشک کو آہوں میں ڈھال دے
ایسا کوئی نہیں کہ جو یُوسف کہے تجھے
چاہے سخن کو جتنا بھی ماجدؔ جمال دے
ماجد صدیقی

لمحہ لمحہ ہُوا ہے سال اپنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
گفتنی اِس قدر ہے حال اپنا
لمحہ لمحہ ہُوا ہے سال اپنا
تشنہ لب تھے جو کھیت اُن کو بھی
ابر دکھلا گیا جلال اپنا
بیچ کر ہی اٹھے وہ منڈی سے
تھے لگائے ہوئے جو مال اپنا
دیکھتے ہی غرور منصف کا
ہم پہ کُھلنے لگا مآل اپنا
موج یُوں مہرباں ہے ناؤ پر
پھینکنے کو ہو جیسے جال اپنا
ظرف کس کس کا جانچ لے پہلے
کس پہ کھولے کوئی کمال اپنا
رَد کیا ہے ہمیں جب اُس نے ہی
آئے ماجدؔ کہاں خیال اپنا
ماجد صدیقی

دل کے شیشے میں جتنے بال آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 122
جی جلانے نہ اِتنے سال آئے
دل کے شیشے میں جتنے بال آئے
دشت میں کچھ رہا نہیں شاید
رات بستی میں پھر شغال آئے
کس پہ برسیں جُز اپنے پیکر کے
بُلبلوں کو گر اشتعال آئے
اے غمِ جاں! ترے کہے پر ہم
آج دل کا کہا بھی ٹال آئے
جن سے ہوتی تھی برہمی اُن کو
پھر نہ ہونٹوں پہ وہ سوال آئے
سانپ بھی تو لگے مہذّب ہی
زہر دانتوں سے جب نکال آئے
جس کے بس میں ہو کچھ ضرر ماجدؔ
ہاتھ اُسی کے ہی اب کمال آئے
ماجد صدیقی

چَپک کے رہ گئے ہونٹوں سے سب سوال اپنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
نظر میں رنج ہے سہلا رہا ہوں گال اپنے
چَپک کے رہ گئے ہونٹوں سے سب سوال اپنے
اجُڑ گئے کسی بیوہ کے گیسوؤں کی طرح
وہ جن پہ ناز تھا، ہاں ہاں وہ ماہ و سال اپنے
ہوا کی کاٹ بھی دیکھ اور اپنی جان بھی دیکھ
جنوں کے مُرغ! نہ تو بال و پر پر نکال اپنے
اِدھر تو کاہِ نشیمن نہ چونچ تک پہنچا
اُٹھا کے دوش پہ نکلے اُدھر وہ جال اپنے
اُڑان ہی سے تھے فیضان سارے وابستہ
پروں کے ساتھ سمٹتے گئے کمال اپنے
دبا نہ اور ابھی تُو گلوئے ہم جِنساں
یہ سارے بوجھ خلاؤں میں اب اُچھال اپنے
بہ شاخِ نطق ہیں پہرے اگر یہی ماجدؔ
کوئی خیال نہ لفظوں میں تو بھی ڈھال اپنے
ماجد صدیقی

ملے جو ہم تو لبوں پر سوال کیا کیا تھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
نظر میں واہمے، دل میں خیال کیا کیا تھے
ملے جو ہم تو لبوں پر سوال کیا کیا تھے
وُہ کرکے وار چلے تو غرور سے لیکن
قدم اُنہیں بھی اُٹھانے محال کیا کیا تھے
زمیں اجاڑ، فضا پُر شرر، فلک عریاں
پئے عذاب نظر کو وبال کیا کیا تھے
مہک ہماری لگی بھی تو ہاتھ صرصر کے
کسے جتائیں کہ اپنے کمال کیا کیا تھے
چٹک گلوں کی کہیں دُھول کا سکوت کہیں
رُتوں کے رنگ سجے ڈال ڈال کیا کیا تھے
بہ شکلِ خواب تھا امکانِ وصلِ یار سدا
عُروج کیا تھے ہمارے زوال کیا کیا تھے
رُتوں نے عہد سبھی محو کر دئیے، ورنہ
حروفِ ربط لکھے چھال چھال کیا کیا تھے
تھا ابتدا سے یہی حبس، ہے جو اَب ماجدؔ
نہ پوچھ مجھ سے مرے ماہ وسال کیا کیا تھے
ماجد صدیقی

وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی وہی میرا وقتِ زوال تھا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 23
اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا
وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی وہی میرا وقتِ زوال تھا
کہاں جاؤ گےمجھے چھوڑ کے، میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گئی
وہ جواب مجھ کو دے نہ سکا وہ تو خود سراپا سوال تھا
وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی میرے لب پر کوئی گلہ نہ تھا
اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو پر کمال تھا
پروین شاکر

فرد فرد

یہ بات تو غلط ہے کہ دیوانِ شیفتہ
ہے نسخہء معارف و مجموعۂ کمال
روزِ فراق میں ہے قیامت، جمالِ گُل
شب ہائے ہجر میں ہے مصیبت، لقائے گُل

لیکن مبالغہ تو ہے البتہ اس میں کم
ہاں ذکرِ خد و خال اگر ہے، تو خال خال
مصطفٰی خان شیفتہ

فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 136
جو حال خیز ہو دل کا وہ حال ہے بھی نہیں
فغاں کہ اب وہ ملالِ ملال ہے بھی نہیں
تُو آ کے بے سروکارانہ مار ڈال مجھے
کہ تیغ تھی بھی نہیں اور ڈھال ہے بھی نہیں
مرا زوال ہے اس کے کمال کا حاصل
مرا زوال تو میرا زوال ہے بھی نہیں
کیا تھا جو لبِ خونیں سے اس پہ میں نے سخن
کمال تھا بھی نہیں اور کمال ہے بھی نہیں
وہ اک عجیب زلیخا ہے، یعنی بے یوسف
ہمارے مصر میں اس کی مثال ہے بھی نہیں
تُو ایک کہنہ متاعِ دکانِ شرم ہے، شرم!
ترے بدن کا کوئی حال، حال ہے بھی نہیں
وہ کیا تھی ایک عروسِ ہزار شوہر تھی
سو اب مجھے غمِ ہجر و وصال ہے بھی نہیں
تری گلی میں تو کوڑے کے ڈھیر ہیں جب سے
تری گلی میں کمینوں کا کال ہے بھی نہیں
جون ایلیا

اب کہیں اوج پر نہیں تیرا خیال شہر میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 105
رو بہ زوال ہو گئی مستی حال شہر میں
اب کہیں اوج پر نہیں تیرا خیال شہر میں
یہ جو کراہتے ہوئے لوٹ رہے ہیں شہر سے
خوب دکھا کے آئے ہیں اپنا کمال شہر میں
شہر وفا میں ہر طرف سود و زیاں کی ہے شمار
لائیں گے اب کہاں سے ہم کوئی مثال شہر میں
حالت گفتگو نہیں عشرت آرزو نہیں
کتنی اداس آئی ہے شام وصال شہر میں
خاک نشیں ترے تمام خانہ نشین ہو گئے
چار طرف ہے اڑ رہی گرد ملال شہر میں
جون ایلیا

اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 270
حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
اس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے
بے طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچّھا ہے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے
دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے
ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ@ کسی میں ہو کمال اچّھا ہے
قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے
کام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے
خضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبز
شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے
ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچّھا ہے
@ نسخۂ مہر میں "جس طرح کا بھی”
مرزا اسد اللہ خان غالب

مستجمع جمیع صفات و کمال کا

دیوان پنجم غزل 1534
دل رفتۂ جمال ہے اس ذوالجلال کا
مستجمع جمیع صفات و کمال کا
ادراک کو ہے ذات مقدس میں دخل کیا
اودھر نہیں گذار گمان و خیال کا
حیرت سے عارفوں کو نہیں راہ معرفت
حال اور کچھ ہے یاں انھوں کے حال و قال کا
ہے قسمت زمین و فلک سے غرض نمود
جلوہ وگرنہ سب میں ہے اس کے جمال کا
مرنے کا بھی خیال رہے میر اگر تجھے
ہے اشتیاق جان جہاں کے وصال کا
میر تقی میر

دنبالہ گرد چشم سیاہ غزال تھا

دیوان سوم غزل 1095
کیا میر دل شکستہ بھی وحشی مثال تھا
دنبالہ گرد چشم سیاہ غزال تھا
آخر کو خواب مرگ ہمیں جا سے لے گئی
جی دیتے تک بھی سر میں اسی کا خیال تھا
میں جو کہا کہ دل کو تو تم نے ہرا دیا
بولا کہ ذوق اپنا ہمارا ہی مال تھا
سرو اس طرف کو جیسے گنہگار تھا کھڑا
اودھر جو آب جو کے وہ نازک نہال تھا
کیا میرے روزگار کے اہل سخن کی بات
ہر ناقص اپنے زعم میں صاحب کمال تھا
کیا کیا ہوائیں دیدئہ تر سے نظر پڑیں
جب رونے بیٹھ جاتے تھے تب برشکال تھا
کہتے تھے ہم تباہ ہے اب حال میر کا
دیکھا نہ تم نے اس میں بھلا کچھ بھی حال تھا
میر تقی میر

دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے

دیوان دوم غزل 1031
باریک وہ کمر ہے ایسی کہ بال کیا ہے
دل ہاتھ جو نہ آوے اس کا خیال کیا ہے
جو بے کلی ہے ایسی چاہت گلوں کی اتنی
کیا جانے ہم صفیرو تو اب کے سال کیا ہے
پہنچا بہم علاقہ اے عزلتی کسو سے
کرنا معاش اکیلے اتنا کمال کیا ہے
آغاز تو یہ ہے کچھ روتے ہیں خون ہر دم
کیا جانے عاشقی کا یارو مآل کیا ہے
پامال راہ اس کے کیا کیا عزیز دیکھے
آئی نہ جب سمجھ میں گردوں کی چال کیا ہے
وہ سیم تن ہو ننگا تو لطف تن پر اس کے
سوجی گئے تھے صدقے اک جان و مال کیا ہے
سرگرم جلوہ اس کو دیکھے کوئی سو جانے
طرز خرام کیا ہے حسن و جمال کیا ہے
میں بے نوا اڑا تھا بوسے کو ان لبوں کے
ہر دم صدا یہی تھی دے گذرو ٹال کیا ہے
پر چپ ہی لگ گئی جب ان نے کہا کہ کوئی
پوچھو تو شاہ جی سے ان کا سوال کیا ہے
گہ آپ میں نہیں ہو گہ منتظر کہیں ہو
کچھ میرجی تمھارا ان روزوں حال کیا ہے
میر تقی میر

مہندی لگی قدم سے ہوئے پائمال ہم

دیوان دوم غزل 860
بخت سیہ کی نقل کریں کس سے چال ہم
مہندی لگی قدم سے ہوئے پائمال ہم
کیونکر نہ اس چمن میں ہوں اتنے نڈھال ہم
یاں پھول سونگھ سونگھ رہے ماہ و سال ہم
یا ہر گلی میں سینکڑوں جس جا ملیح تھے
یا زلف و خط کو دیکھتے ہیں خال خال ہم
گذرے ہے جی میں گہ وہ دہن گاہ وہ کمر
کیا جانیں لوگ رکھتے ہیں کیا کیا خیال ہم
جاتیں نہیں اٹھائی یہ اب سرگرانیاں
مقدور تک تو اپنے گئے ٹال ٹال ہم
لوہو کہاں ہے گریۂ خونیں سے تن کے بیچ
کرتے ہیں منھ کو اپنے طمانچوں سے لال ہم
وہ تو ہی ہے کہ مرتے ہیں سب تیرے طور پر
حور و پری کو جان کے کب ہیں دوال ہم
گذرے ہے بسکہ اس کی جدائی دلوں پہ شاق
منھ نوچ نوچ لے ہیں علی الاتصال ہم
منظور سجدہ ہے ہمیں اس آفتاب کا
ظاہر میں یوں کریں ہیں نماز زوال ہم
ظاہر ہوئے تمھیں بھی ہمارے دم اور ہوش
آئے نہ پھر تمھارے گئے ٹک بحال ہم
مطلق جہاں میں رہنے کو جی چاہتا نہیں
اب تم بغیر اپنے ہوئے ہیں وبال ہم
نقصان ہو گا اس میں نہ ظاہر کہاں تلک
ہوویں گے جس زمانے کے صاحب کمال ہم
تھا کب گماں ملے گا وہ دامن سوار میر
کل راہ جاتے مفت ہوئے پائمال ہم
میر تقی میر

صید بندوں نے جال ڈال رکھے

دیوان اول غزل 541
جب سے اس بے وفا نے بال رکھے
صید بندوں نے جال ڈال رکھے
ہاتھ کیا آوے وہ کمر ہے ہیچ
یوں کوئی جی میں کچھ خیال رکھے
رہرو راہ خوفناک عشق
چاہیے پائوں کو سنبھال رکھے
پہنچے ہر اک نہ درد کو میرے
وہ ہی جانے جو ایسا حال رکھے
ایسے زر دوست ہو تو خیر ہے اب
ملیے اس سے جو کوئی مال رکھے
بحث ہے ناقصوں سے کاش فلک
مجھ کو اس زمرے سے نکال رکھے
سمجھے انداز شعر کو میرے
میر کا سا اگر کمال رکھے
میر تقی میر

سارے تیرا خیال رکھتے ہیں

دیوان اول غزل 316
وے جو حسن و جمال رکھتے ہیں
سارے تیرا خیال رکھتے ہیں
شب جو وہ مہ کبھو رہے ہے یاں
مدتوں یاد سال رکھتے ہیں
ان لبوں کا جواب دہ ہے لعل
ہم تجھی سے سوال رکھتے ہیں
گل ترے روزگار خوبی میں
منھ طمانچوں سے لال رکھتے ہیں
دہن تنگ کے ترے مشتاق
آرزوے محال رکھتے ہیں
خاک آدم ہی ہے تمام زمیں
پائوں کو ہم سنبھال رکھتے ہیں
یہ جو سر کھینچے تو قیامت ہے
دل کو ہم پائمال رکھتے ہیں
اہل دل چشم سب تری جانب
آئینے کی مثال رکھتے ہیں
گفتگو ناقصوں سے ہے ورنہ
میرجی بھی کمال رکھتے ہیں
میر تقی میر

کچھ ربط ہے ضرور خوشی سے ملال کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 14
پھر کیوں اُداس کر گیا مثردہ وصال کا
کچھ ربط ہے ضرور خوشی سے ملال کا
تھم ہی نہ جائے کثرت اشیا کے بوجھ سے
کیا وقت آ پڑا ہے زمیں پر زوال کا
مٹ جائے دل سے حسرتِ اظہار کی خلش
اک روز ایک شعر کہو اس کمال کا
رہتا ہوں ملکِ غم کی عروس البلاد میں
افسوس ہی ثمر ہے جہاں کی سفال کا
کچھ لت ہی پڑ گئی ہے پرانی شراب کی
جیتا ہوں کل میں گرچہ زمانہ ہے حال کا
شاید کہ حسن وقت سے باہر کی چیز ہے
دیکھا اُسے تو فرق مٹا ماہ و سال کا
ہے میرے دم سے غیب کا حاضر سے رابطہ
ڈھونڈو نا! کوئی آدمی میری مثال کا
آفتاب اقبال شمیم

اب کے بجھا چراغِ ہجر، بادِ وصال کے بغیر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 96
درد کی شب گزر گئی تیرے خیال کے بغیر
اب کے بجھا چراغِ ہجر، بادِ وصال کے بغیر
وقت کے ساتھ طے کیے ہم نے عجیب مرحلے
کچھ مہ و سال کے بہ فیض، کچھ مہ و سال کے بغیر
میرے سکوت نے عیاں رنجِ کہن کیا نہیں
میں نے سخن کیا نہیں پرسشِ حال کے بغیر
تیغِ ستم کے سامنے ہاتھ کو ڈھال کر دیا
ہم نے کمال کردیا دستِ کمال کے بغیر
چار طرف رمیدہ خو، پائے ہوا، صدائے ہو
میرے بغیر لکھنؤ، دشت غزال کے بغیر
عرفان صدیقی

تو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 94
بزرگِ وقت، کسی شے کو لازوال بھی کر
تو کیسا شعبدہ گر ہے، کوئی کمال بھی کر
دَرخت ہوں تو کبھی بیٹھ میرے سائے میں
میں سبزہ ہوں تو کبھی مجھ کو پائمال بھی کر
یہ تمکنت کہیں پتھر بنا نہ دے تجھ کو
توُ آدمی ہے، خوشی بھی دِکھا، ملال بھی کر
میں چاہتا ہوں کہ اَب جو بھی جی میں آئے کروں
تجھے بھی میری اِجازت ہے جو خیال بھی کر
پگھل رہی ہیں اس آشوبِ وقت میں صدیاں
وہ کہہ رہا ہے کہ تو فکرِ ماہ و سال بھی کر
عرفان صدیقی

رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 50
تیرا سراپا میرا تماشا، کوئی تو برجِ زوال میں تھا
رات چراغِ ساعتِ ہجراں روشن طاقِ وصال میں تھا
میری چشم تحیر آگے اور ہی نقش ہویدا تھے
چہرہ اپنے وہم میں تھا‘ آئینہ اپنے خیال میں تھا
عقدۂ جاں بھی رمزِ جفر ہے‘ جتنا جتنا غور کیا
جو بھی جواب تھا میرا پنہاں میرے حرف سوال میں تھا
تیر سہی‘ زنجیر سہی‘ پر ہوئے بیاباں کہتی ہے
اور بھی کچھ وحشت کے علاوہ شاید پائے غزال میں تھا
ورنہ ہم ابدال بھلا کب ترکِ قناعت کرتے ہیں
ایک تقاضا رنج سفر کا خواہش مال و منال میں تھا
تیغِ ستم کے گرد ہمارے خالی ہاتھ حمائل تھے
اب کے برس بھی ایک کرشمہ اپنے دستِ کمال میں تھا
عرفان صدیقی

پلکیں سفید کر گئے دو پل ملال کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 572
ہجراں کے بے کنار جہنم میں ڈال کے
پلکیں سفید کر گئے دو پل ملال کے
میں آنکھ کی دراز میں کرتا ہوں کچھ تلاش
گہرے سیاہ بلب سے منظر اجال کے
دفنا نہیں سکا میں ابھی تک زمین میں
کچھ روڈ پر مرے ہوئے دن پچھلے سال کے
بستر پہ کروٹوں بھری شکنوں کے درمیاں
موتی گرے پڑے ہیں تری سرخ شال کے
تصویر میں نے اپنی سجا دی ہے میز پر
باہر فریم سے ترا فوٹو نکال کے
پازیب کے خرام کی قوسیں تھیں پاؤں میں
کتھک کیا تھا اس نے کناروں پہ تھال کے
اڑنے دے ریت چشمِ تمنا میں دشت کی
رکھا ہوا ہے دل میں سمندر سنبھال کے
سر پہ سجا لیے ہیں پرندوں کے بال و پر
جوتے پہن لیے ہیں درندوں کی کھال کے
آنکھوں تلک پہنچ گئی، دلدل تو کیا کروں
رکھا تھا پاؤں میں نے بہت دیکھ بھال کے
حیرت فزا سکوت ہے دریائے ذات پر
آبِ رواں پہ اترے پرندے کمال کے
میں سن رہا ہوں زرد اداسی کی تیز چاپ
جھڑنے لگے ہیں پیڑ سے پتے وصال کے
منصور راکھ ہونے سے پہلے فراق میں
سورج بجھانے والا ہوں پانی اچھال کے
منصور آفاق

طلب شکستہ کا آخر ملال ختم ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 68
فراق و رابطہ کا احتمال ختم ہوا
طلب شکستہ کا آخر ملال ختم ہوا
وہ بجھ گئی ہے تمناجو آگ رکھتی تھی
وہ ہجر راکھ ہوا، وہ وصال ختم ہوا
کوئی بھی اپنے مقاصد میں پیش رفت نہیں
یونہی حیات کا اک اور سال ختم ہوا
ہم اس کی سمت چلے وہ کسی کی سمت چلا
سوال کرنے سے پہلے سوال ختم ہوا
چلی تو جھونک گئی دھول ساری آنکھوں میں
رکی ہوا تو چمن کا جمال ختم ہوا
بجھی ہوئی ہے انگیٹھی سیہ دسمبر میں
اے چوبِ سوختہ تیرا کمال ختم ہوا
کسی کے واسطے افلاک پستیاں منصور
بلندیوں پہ کسی کا زوال ختم ہوا
منصور آفاق