ٹیگ کے محفوظات: کمالوں

ایک مَنظَر شکستہ حالوں میں

کیا اندھیروں میں کیا اُجالوں میں
ایک مَنظَر شکستہ حالوں میں
اَور کوئی جگہ نہیں محفوظ
چَین سے رہ مِرے خیالوں میں
حُسن و عشق آج کس قَدَر خُوش ہیں
آپ و ہم جیسے با کمالوں میں
جان چھوڑ اے تمازَتِ خُورشید
چاندنی آگئی ہے بالوں میں
یہی کہہ دے، جواب کے قابل
کیا ہے؟ ضامنؔ! تِرے سوالوں میں
ضامن جعفری

ملے جواب نہ اِس طرح کے سوالوں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ہمارے گرد ہے کیا جال سا یہ چالوں کا
ملے جواب نہ اِس طرح کے سوالوں کا
یہ ہم کہ گھونسلے جن کے ہیں زد پہ طوفاں کی
لٹے گا چین ہمِیں سے خراب حالوں کا
بہم پناہ ہمیشہ جنہیں ہے غاروں کی
پھرا ہے اُن کی طرف رخ کہاں اجالوں کا
دیا تو دینا پڑے گا ہمیں بھی لمحوں میں
ہمارے نام ہے جو جو حساب سالوں کا
کھُلا تو ہاتھ لگائیں گے سارے کانوں کو
چمن میں حال ہے ماجد جو با کمالوں کا
ماجد صدیقی