ٹیگ کے محفوظات: کلیم

آخر غلام ہوں میں تمہارا قدیم کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 13
یہ فیضِ عام شیوہ کہاں تھا نسیم کا
آخر غلام ہوں میں تمہارا قدیم کا
پیمانِ ترکِ جاہ لیا پیرِ دیر نے
پیمانہ دے کے بادۂ عنبر شمیم کا
کیا ڈھونڈتی ہے قوم، کہ آنکھوں میں قوم کی
خلدِ بریں ہے طبقۂ اسفل جحیم کا
اس شوخِ کج ادا سے نہ آئی موافقت
کیونکر گلہ نہ ہو مجھے طبعِ سلیم کا
شکوے یہ اب جو ہوتے ہیں باہم، نئے نہیں
انداز ہم میں، اُن میں یہی ہے قدیم کا
اس وقت ہم گنے گئے احبابِ خاص میں
آیا جو تذکرہ کبھی لطفِ عمیم کا
بدمستیاں کبھی، کبھی مستوری و عفاف
دستور ہے طبیعتِ نا مستقیم کا
اُس رشکِ گُل کو بسترِ گل سے ہے احتراز
ممنون ہوں عدو کے مزاجِ سقیم کا
اے جانِ بے قرار ذرا صبر چاہیے
بے شک ادھر بھی آئے گا جھونکا نسیم کا
جس کی سرشت صاف نہ ہو آدمی نہیں
نیرنگ و عشوہ کام ہے دیوِ رجیم کا
اب جستجو ہے ان کو ہماری تو کیا حصول
باقی نہیں اثر بھی عظامِ رمیم کا
عاشق بھی ہم ہوئے تو عجب شخص کے ہوئے
جو ایک دم میں خون کرے سو ندیم کا
ہم نے کئے قواعدِ وحشت جو منضبط
اہلِ جنوں میں ہم کو لقب ہے حکیم کا
ہے کارنامہ جب سے بیاض اپنی شیفتہ
تقویمِ سالِ رفتہ ہے دیواں کلیم کا
مصطفٰی خان شیفتہ

تری داستاں بھی عظیم ہے، مری داستاں بھی عظیم ہے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 55
ترے فرقِ ناز پہ تاج ہے، مرے دوشِ غم پہ گلیم ہے
تری داستاں بھی عظیم ہے، مری داستاں بھی عظیم ہے
مری کتنی سوچتی صبحوں کو یہ خیال زہر پلا گیا
کسی تپتے لمحے کی آہ ہے کہ خرامِ موجِ نسیم ہے
تہہِ خاک کرمکِ دانہ جُو بھی شریکِ رقصِ حیات ہے
نہ بس ایک جلوۂ طور ہے، نہ بس ایک شوقِ کلیم ہے
یہ ہر ایک سمت مسافتوں میں گندھی پڑی ہیں جو ساعتیں
تری زندگی، مری زندگی، انہی موسموں کی شمیم ہے
کہیں محملوں کا غبار اڑے، کہیں منزلوں کے دیے جلیں
خَمِ آسماں، رہِ کارواں! نہ مقام ہے، نہ مقیم ہے
حرم اور دیر فسانہ ہے، یہی جلتی سانس زمانہ ہے
یہی گوشۂ دلِ ناصبور ہی کنجِ باغِ نعیم ہے
مجید امجد

ہم آشنا نہیں ہیں ابھی تک پریم سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 533
برما بہارِ جاں کو بدن کے بریم سے
ہم آشنا نہیں ہیں ابھی تک پریم سے
کچھ دیر ہی رکھی ترے نعلین پر نگاہ
باہر نکل نکل پڑیں صدیاں فریم سے
پھر چل پڑے ٹھٹھرتی ہوئی روشنی کے ساتھ
کچھ پہلے گفتگو کی دریائے ٹیم سے
آباد صادقین کی رنگوں بھری زمیں
فرہنگِ تھور سے کہیں آہنگِ سیم سے
بٹوارہ ہو رہا تھا ہواؤں کا پارک میں
یہ اور بات پھول ہی باہر تھے گیم سے
ٹوٹے ہوئے مکان میں کھلتا ہوا گلاب
اک جھوپڑی کی جیسے ملاقات میم سے
اِک خامشی نگار کو روکے کہاں تلک
یہ شور،جائیدادِ سخن کے کلیم سے
منصورہم فقیرہیں ،کرتے نہیں کلام
عورت سے،مال و زر سے،حکومت سے فیم سے
منصور آفاق