ٹیگ کے محفوظات: کلیساؤں

اب کہ ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 62
میں کہ پر شور سمندر تھے مرے پاؤں میں
اب کہ ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں
نامرادی کا یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں
تو بھی شامل تھا کبھی میری تمناؤں میں
دن کے ڈھلتے ہی اُجڑ جاتی ہیں آنکھیں ایسے
جس طرح شام کو بازار کسی گاؤں میں
چاک دل سی کہ نہ سی زخم کی توہین نہ کر
ایسے قاتل تو نہ تھے میرے مسیحاؤں میں
ذکر اُس غیرتِ مریم کا جب آتا ہے فراز
گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں
احمد فراز

تمنا کی تصور زاد دنیاؤں میں رہنا ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 48
کہیں چھاؤں نہیں لیکن ہمیں چھاؤں میں رہنا ہے
تمنا کی تصور زاد دنیاؤں میں رہنا ہے
ہمیں اگلا سفر شاید کہ لا محدود کر دے گا
وہاں تک اک نہ اک زنجیر کو پاؤں میں رہنا ہے
مناسب ہے ان آنکھوں کا بہا دینا سرابون میں
کہ آخر عمرِ بےمعنی کے صحراؤں میں رہنا ہے
یہی ہم پر کُھلا، ردِّ عقیدہ بھی عقیدہ ہے
کلیساؤں سے باہر بھی کلیساؤں میں رہنا ہے
ہُوا اک بار پھر ناکام منصوبہ بغاوت کا
ابھی اُس کشتِ زارِ جبر کے گاؤں میں رہنا ہے
گرفت ریگ سے کچھ کربلائیں تم بنا لو گے!
رواں رہنے کا پھر بھی عزم دریاؤں میں رہنا ہے
آفتاب اقبال شمیم