ٹیگ کے محفوظات: کعبہ

صبحوں کی کالی کملی کا جلوہ کہیں جسے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 550
وہ تیری چشمِ ناز ہے قبلہ کہیں جسے
صبحوں کی کالی کملی کا جلوہ کہیں جسے
تیری عظیم ذات سے منسوب اگر نہ ہو
پتھر کا اک مکان ہے کعبہ کہیں جسے
اک تیرا نام ہے کہ مدینہ صبا کا ہے
شہرِ بہارِ دل کا دریچہ کہیں جسے
گونجے نمازِ عصر کی آسودہ دھوپ میں
قوسِ قزح کے رنگوں کا نغمہ کہیں جسے
منصور دیکھتا ہوں میں تیرے جمال میں
صبحِ ازل نژاد کا چہرہ کہیں جسے
منصور آفاق

انہیں میں دیکھتا کیا دیدۂ صحابہ سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 536
وہ دیکھنے کے نہیں آنکھ کے خرابہ سے
انہیں میں دیکھتا کیا دیدۂ صحابہ سے
تھا چاروں آنکھوں میں حدِ نگاہ تک پانی
نکل کے آیا ہوں ڈوبے ہوئے دوآبہ سے
فرشتو! جاؤ کہ حکمِ طواف آیا ہے
اٹھا لے آؤ وہ کمرہ مقامِ کعبہ سے
وہ جس کا اسم ہے یاھو ، جو میرا باھو ہے
اسی نے مجھ کو ملایا ندیم بھابھہ سے
وہ اور ہیں جنہیں سورج ملا وراثت میں
مجھے تو ورثے میں راتیں ملی ہیں آبا سے
یہ کیسے روح ہوئی ہے ہری بھری منصور
یہ کس نے جا کے کہا ہے دعا کا بابا سے
منصور آفاق