ٹیگ کے محفوظات: کش

گلہ کرو کے گلہ بھی نہیں رہا اب تو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 63
کسی سے کوئی خفا بھی نہیں رہا اب تو
گلہ کرو کے گلہ بھی نہیں رہا اب تو
شکستِ ذات کا اقرار اور کیا ہو گا
کہ اداِ محبت بھی نہیں رہا اب تو
چنے ہوئے ہیں لبوں پر تیرے ہزار جواب
شکایتوں کا مزا بھی نہیں رہا اب تو
ہوں مبتلاِ یقین ، میری مشکلیں مت پوچھ
گماں اقدا کش بھی نہیں رہا اب تو
میرے وجود کا اب کیا سوال ہے یعنی
میرے اپنے حق میں برا بھی نہیں رہا اب تو
یہی عطیہء صبح شبِ وصال ہے کیا
کے شہرِ ناز بھی نہیں رہا اب تو
یقین کر جو تیری آرزو میں تھا پہلے
وہ لطف تیرے سوا بھی نہیں رہا اب تو
وہ سکھ وہاں کے خدا کی ہیں بخشیشیں کیا کیا
یہاں یہ دکھ کہ خدا بھی نہیں رہا اب تو
جون ایلیا