ٹیگ کے محفوظات: کشاں

از زمیں تا بہ آسماں خوں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 220
زیرِ محراب ابرواں خوں ہے
از زمیں تا بہ آسماں خوں ہے
ایک بسمل کا رقصِ رنگ تھا آج
سرِ مقتل جہاں تہاں خوں ہے
زخم کے خرمنوں کا مژدہ ہو
آب۔ کشت بلا کشاں خوں ہے
سادہ پوشانِ عیدِ شوق، نوید
آبِ حوض نمازیاں خوں ہے
باب ہے حسرتوں کی محنت گاہ
دل یارانہ خوں فشاں خوں ہے
زخم انگیز ہے خراشِ امید
ہے دیدار۔ گل رخاں خوں ہے
ہو گئے باریاب اہل غرض
روئے دہلیز و آسماں خوں ہے
دل خونیں ہے میزباں
عمدہ خوانِ میزبان خوں ہے
فصل آئی ہے رنگِ مستوں کی
تابہ دیوارِ گلستاں خوں ہے
ہر تماشائی مدعی ٹھہرا
پر تو زخمِ خوں چکا خوں ہے
میں ہوں بے داغ دامناں محتاط
نفسِ خوں گرفتگاں خوں ہے
غنچہ ہا زخم، زخم ہا الماس
شبنم باغ امتحاں خوں ہے
اس طرف کوہکن ادھر شیریں
اور دونوں کے درمیاں خوں ہے
بے دلوں کو نہ چھیڑیو کہ یہ قوم
امتِ شوق رائیگاں خوں ہے
جون ایلیا

انداز جہان گزراں دیکھ رہے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 134
اخلاص کو مجبور فغاں دیکھ رہے ہیں
انداز جہان گزراں دیکھ رہے ہیں
ہم زیست کی راہوں میں دئیے غم کے جلا کر
گزرے ہوئے لمحوں کے نشاں دیکھ رہے ہیں
کیا جرات بے باک ہے یہ دل، یہ محبت
قطرے میں سمندر کو نہاں دیکھ رہے ہیں
کیا دور سے اک ساغر گل رنگ دکھا کر
وہ کش مکش بادہ کشاں دیکھ رہے ہیں
حالات نے اس طرح جکڑ رکھا ہے باقیؔ
جو کچھ بھی دکھاتا ہے جہاں دیکھ رہے ہیں
باقی صدیقی