ٹیگ کے محفوظات: کشادہ

دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے

زیاں جگر کا سہی یہ جو شغلِ بادہ ہے
دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے
دکھائی دی ہے جھلک اُس کی ایک مدت بعد
یہ خواب میرے لیے خواب سے زیادہ ہے
ملائے گا یہ کسی شاہراہ سے ہم کو
مٹا مٹا سا جو قدموں میں اپنے جادہ ہے
یہی بچائے گا تم دیکھنا مری بازی
بِساط پر جو یہ ناچیز سا پیادہ ہے
یہ سوچ کر وہ مری بات کاٹ دیتے ہیں
کہ ہو نہ ہو یہ کسی بات کا اعادہ ہے
یہاں رہیں گے وہ میرے حریف کے ہمراہ
اُنہیں گماں ہے مرا دل بہت کشادہ ہے
وہ اہلِ بزم کی رنگیں نوائی اپنی جگہ
ہزار رنگ لیے میرا حرفِ سادہ ہے
اگر خدا نے نکالا بُتوں کے چکّر سے
طوافِ کعبہ کا اب کے برس اِرادہ ہے
باصر کاظمی

پھر آج دکھ بھی زیادہ ہے کیا کیا جائے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 106
نہ تیرا قرب نہ بادہ ہے کیا کیا جائے
پھر آج دکھ بھی زیادہ ہے کیا کیا جائے
ہمیں بھی عرضِ تمنا کا ڈھب نہیں آتا
مزاج یار بھی سادہ ہے کیا کیا جائے
کچھ اپنے دوست بھی ترکش بدوش پھرتے ہیں
کچھ اپنا دل بھی کشادہ ہے کیا کیا جائے
وہ مہرباں ہے مگر دل کی حرص بھی کم ہو
طلب، کرم سے زیادہ ہے کیا کیا جائے
نہ اس سے ترکِ تعلق کی بات کر پائیں
نہ ہمدمی کا ارادہ ہے کیا کیا جائے
سلوکِ یار سے دل ڈوبنے لگا ہے فراز
مگر یہ محفلِ اعداء ہے کیا کیا جائے
احمد فراز

اس میں آسودگی زیادہ تھی

احمد فراز ۔ غزل نمبر 101
جب ملاقات بے ارادہ تھی
اس میں آسودگی زیادہ تھی
نہ توقع نہ انتظار نہ رنج
صبحِ ہجراں نہ شامِ وعدہ تھی
نہ تکلف نہ احتیاط نہ زعم
دوستی کی زبان سادہ تھی
جب بھی چاہا کہ گنگناؤں اسے
شاعری پیش پا فتادہ تھی
لعل سے لب چراغ سی آنکھیں
ناک ستواں جبیں کشادہ تھی
حدتِ جاں سے رنگ تانبا سا
ساغر افروز موجِ بادہ تھی
زلف کو ہمسری کا دعویٰ تھا
پھر بھی خوش قامتی زیادہ تھی
کچھ تو پیکر میں‌ تھی بلا کی تلاش
کچھ وہ کافر تنک لبادہ تھی
اپسرا تھی نہ حور تھی نہ پری
دلبری میں مگر زیادہ تھی
جتنی بے مہر، مہرباں اتنی
جتنی دشوار، اتنی سادہ تھی
اک زمانہ جسے کہے قاتل
میرے شانے پہ سر نہادہ تھی
یہ غزل دین اس غزال کی ہے
جس میں‌ہم سے وفا زیادہ تھی
وہ بھی کیا دن تھے جب فراز اس سے
عشق کم عاشقی زیادہ تھی
احمد فراز

کیا شوخ طبع ہے وہ پرکار سادہ سادہ

دیوان ششم غزل 1874
مکتوب دیر پہنچا پر دو طرف سے سادہ
کیا شوخ طبع ہے وہ پرکار سادہ سادہ
جب میکدے گئے ہیں پابوس ہی کیا ہے
ہے مغبچہ ہمارا گویا کہ پیرزادہ
سائے میں تاک کے ہم خوش بیٹھے ہیں اب اپنا
اس سلسلے میں بیعت کرنے کا ہے ارادہ
دل اس قدر نہ رکتا گھبراتا جی نہ اپنا
چھاتی لگا جو رہتا وہ سینۂ کشادہ
شیشہ کنار جو ہے پنبہ دہان و رعنا
میناے مے چمن میں اک سرو ہے پیادہ
پڑتی ہیں اس کی آنکھیں چاروں طرف نشے میں
جوں راہ میں بہکتے ہوں ترک مست بادہ
جو شہرہ نامور تھے یارب کہاں گئے وے
آباد کم رہا ہے یاں کوئی خانوادہ
مت دم کشی کر اتنی ہنگام صبح بلبل
فریاد خونچکاں ہے منھ سے ترے زیادہ
کیا خاک سے اٹھوں میں نقش قدم سا بیٹھا
اب مٹ ہی جانا میرا ہے پیش پا فتادہ
حالات عشق رنج و درد و بلا مصیبت
دل دادہ میر جانے کیا جانے کوئی ندادہ
میر تقی میر

اور جینا ہے تو مرنے کا ارادہ کر لو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 8
مے گساری سے ذرا ربط زیادہ کر لو
اور جینا ہے تو مرنے کا ارادہ کر لو
وُہ کہ ناخواندۂ جذبہ ہے نہیں پڑھ سکتا
اپنی تحریر کو تم جتنا بھی سادہ کر لو
ایسا سجدہ کہ زمیں تنگ نظر آنے لگے
یہ جبیں اور، ذرا اور کشادہ کر لو
امتحاں کمرۂ دنیا میں اگر دنیا ہے
روز گردان کے فعلوں کا اعادہ کر لو
پھر بتائیں گے تمہیں چشمۂ حیواں ہے کہاں
گھر سے دفتر کا ذرا ختم یہ جادہ کر لو
ٹالنے کی تمہیں ٹل جانے کی عادت ہے ہمیں
پھر سہی، اگلی ملاقات کا وعدہ کر لو
آفتاب اقبال شمیم

جو دل دکھا ہے بہت زیادہ

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 18
تجھے پکارا ہے بے ارادہ
جو دل دکھا ہے بہت زیادہ
ندیم ہو تیرا حرفِ شیریں
تو رنگ پر آئے رنگِ بادہ
عطا کرو اک ادائے دیریں
تو اشک سے تر کریں لبادہ
نہ جانے کس دن سے منتظِر ہے
دلِ سرِ رہ گزر فتادہ
کہ ایک دن پھر نظر میں آئے
وہ بامِ روشن، وہ در کشادہ
وہ آئے پُرسش کو پھر سجائے
قبائے رنگیں، ادائے سادہ
فیض احمد فیض

پھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 35
کسی گماں پہ توقع زیادہ رکھتے ہیں
پھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیں
بہار آئے گی جب آئے گی، یہ شرط نہیں
کہ تشنہ کام رہیں گرچہ بادہ رکھتے ہیں
تری نظر کا گلہ کیا؟ جو ہے گلہ دل کا
تو ہم سے ہے، کہ تمنا زیادہ رکھتے ہیں
نہیں شراب سے رنگیں تو غرقِ خوں ہیں کہ ہم
خیالِ وضعِ قمیص و لبادہ رکھتے ہیں
غمِ جہاں ہو، غمِ یار ہو کہ تیر ستم
جو آئے، آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں
جوابِ واعظِ چابک زباں میں فیض ہمیں
یہی بہت ہیں جو دو حرفِ سادہ رکھتے ہیں
نذرِ غالب
فیض احمد فیض

اب تو کرتیں ہی نہیں خواب کا وعدہ آنکھیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 352
اوڑھ لیتی ہیں ستاروں کا لبادہ آنکھیں
اب تو کرتیں ہی نہیں خواب کا وعدہ آنکھیں
کوئی گستاخ اشارہ نہ کوئی شوخ نگہ
اپنے چہرے پہ لیے پھرتا ہوں سادہ آنکھیں
دھوپ کا کرب لیے کوئی افق پر ابھرا
اپنی پلکوں میں سمٹ آئیں کشادہ آنکھیں
ایک دہلیز پہ رکھا ہے ازل سے ماتھا
ایک کھڑکی میں زمانوں سے ستادہ آنکھیں
آنکھ بھر کے تجھے دیکھیں گے کبھی سوچا تھا
اب بدلتی ہی نہیں اپنا ارادہ آنکھیں
شہر کا شہر مجھے دیکھ رہا ہے منصور
کم تماشا ہے بہت اور زیادہ آنکھیں
منصور آفاق