ٹیگ کے محفوظات: کس

جاتی ہیں یوں ہی ناداں جانیں ترس ترس کر

دیوان دوم غزل 809
آ ہم نشیں کسو کے مت عشق کی ہوس کر
جاتی ہیں یوں ہی ناداں جانیں ترس ترس کر
فرصت سے اس چمن کی کل روکے میں جو پوچھا
چشمک کی ایک گل نے میری طرف کو ہنس کر
ہم موسے ناتواں تھے سو ہوچکے ہیں کب کے
نکلے ہو تم پیارے کس پر کمر کو کس کر
جی رک گیا کہیں تو پھر ہوئے گا اندھیرا
مت چھیڑ ابر مجھ کو یوں ہی برس برس کر
کیا ایک تنگ میں ہوں اس زلف پرشکن سے
اس دام میں موئے ہیں بہتیرے صید پھنس کر
اک جمع کے سر اوپر روز سیاہ لایا
پگڑی میں بال اپنے نکلا جو وہ گھڑس کر
اس قافلے میں کوئی دل آشنا نہیں ہے
ٹکڑے گلے کے اپنے ناحق نہ اے جرس کر
صیاد اگر اجازت گلگشت کی نہیں ٹک
دیوار باغ کو تو بارے درقفس کر
بے بس ہے میر تجھ بن رہتا نہیں دل اس کا
ٹک تو بھی اے ستم جو جور و ستم کو بس کر
میر تقی میر

حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا

دیوان اول غزل 12
منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا
حیرتی ہے یہ آئینہ کس کا
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
تھے برے مغبچوں کے تیور لیک
شیخ میخانے سے بھلا کھسکا
داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سب
ہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا
بحر کم ظرف ہے بسان حباب
کاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا
فیض اے ابر چشم تر سے اٹھا
آج دامن وسیع ہے اس کا
تاب کس کو جو حال میر سنے
حال ہی اور کچھ ہے مجلس کا
میر تقی میر

میرا کمرہ کرے سخن کس کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 574
کون درزوں سے آئے رس رس کے
میرا کمرہ کرے سخن کس کے
میں گلی میں سلگتا پھرتا ہوں
جل رہے ہیں چراغ مجلس کے
بازوئوں پر طلوع ہوتے ہی
کٹ گئے دونوں ہاتھ مفلس کے
کیا ہے میک اپ زدہ طوائف میں
جز ترے کیا ہیں رنگ پیرس کے
میں بھی شاید مُہِنجو داڑو ہوں
اب بھی سر بند راز ہیں جس کے
متحرک ہیں غم کی تصویریں
چل رہے ہیں بدن حوادث کے
دیکھ چھو لے مجھے ذرا اے دوست
دیکھنا پھر کرشمے پارس کے
وقت کے ساتھ میرے سینے پر
بڑھتے جاتے ہیں داغ نرگس کے
تم سمجھ ہی کہاں سکے منصور
مسئلے عشق میں ملوث کے
بنامِ میر
منصور آفاق

کوئی سوئے قفس گیا تو کیا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 69
ابر گلشن برس گیا تو کیا
کوئی سوئے قفس گیا تو کیا
زندگی کا نشاں کہیں ملتا
اک نیا شہر بس گیا تو کیا
شعلہ گل ہے اور صحن چمن
میرا دل بھی جھلس گیا تو کیا
راہ کا سانپ ہے گھنا سایہ
راہگیروں کو ڈس گیا تو کیا
زندگی اب اسی ہجوم سے ہے
سانس کو دل ترس گیا تو کیا
کوئے آوارگاں میں ہم پر بھی
کوئی آوازہ کس گیا تو کیا
کوئی چونکا نہ خواب سے باقیؔ
دور شور جرس گیا تو کیا
باقی صدیقی