ٹیگ کے محفوظات: کسو

کچھ ہوائے مشکبو کچھ ہم سبُو نے کر دیا

کچھ تو رُسوا اپنی طرزِ گفتگو نے کر دیا
کچھ ہوائے مشکبو کچھ ہم سبُو نے کر دیا
کیسے کیسے ناقصوں کی بات سننی پڑ گئی
کیا سُبک سَر ہم کو زخمِ چارہ جو نے کر دیا
شہر بھر میں ایک ہی تو رہ گیا تھا ہوش مند
سنتے ہیں اُس کو بھی دیوانہ کسو نے کر دیا
دو قدم چلنا تھا مشکل اُس اندھیرے میں مگر
راہ کو روشن چراغِ آرزو نے کر دیا
اُس نے تو باصرِؔ یونہی پوچھی تھی تیری خیریت
حالِ دل کہہ کر ہمیں شرمندہ تُو نے کر دیا
باصر کاظمی

لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 198
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
لکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
اچّھا ہے سر انگشتِ حنائی کا تصوّر
دل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
کیوں ڈرتے ہو عشّاق کی بے حوصلگی سے
یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کو
خنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
صد حیف وہ نا کام کہ اک عمر سے غالب
حسرت میں رہے ایک بتِ عربدہ جو کی
مرزا اسد اللہ خان غالب

کھنچا جائے ہے دل کسو کی طرف

دیوان پنجم غزل 1654
نظر کیوں گئی رو و مو کی طرف
کھنچا جائے ہے دل کسو کی طرف
نہ دیکھو کبھی موتیوں کی لڑی
جو دیکھو مری گفتگو کی طرف
اگر آرسی میں صفائی ہے لیک
نہیں کرتی منھ اس کے رو کی طرف
چڑھے نہ کہیں کود یہ مغز میں
نہ کر شانہ تو گل کی بو کی طرف
اسے ڈھونڈتے میر کھوئے گئے
کوئی دیکھے اس جستجو کی طرف
میر تقی میر

خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم

دیوان چہارم غزل 1440
تجا ہے حیرت عشقی سے گفتگو کو ہم
خموش دیکھتے رہتے ہیں اس کے رو کو ہم
اگرچہ وصل ہے پر ہیں طلب میں سرگرداں
پہ وہم کار ہی جاتے ہیں جستجو کو ہم
اب اپنی جان سے ہیں تنگ دم رکا ہے بہت
ملا ہی دیں گے تری تیغ سے گلو کو ہم
جلا کے خاک کرے وہ کہ رہ کے داغ کرے
لگا دیں آگ سے کیا اپنی گرم خو کو ہم
مرید پیر خرابات یوں نہ ہوتے میر
سمجھتے عارف اگر اور بھی کسو کو ہم
میر تقی میر

کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح

دیوان سوم غزل 1125
یاد آگیا تو بہنے لگیں آنکھیں جو کی طرح
کچھ آگئی تھی سرو چمن میں کسو کی طرح
چسپاں قبا وہ شوخ سدا غصے ہی رہا
چین جبیں سے اس کی اٹھائی اتو کی طرح
گالی لڑائی آگے تو تم جانتے نہ تھے
اب یہ نکالی تم نے نئی گفتگو کی طرح
ہم جانتے تھے تازہ بناے جہاں کو لیک
یہ منزل خراب ہوئی ہے کبھو کی طرح
سرسبز ہم ہوئے نہ تھے جو زرد ہو چلے
اس کشت میں پڑی یہ ہمارے نمو کی طرح
وے دن کہاں کہ مست سرانداز خم میں تھے
سر اب تو جھوجھرا ہے شکستہ سبو کی طرح
تسکین دل کی کب ہوئی سیرچمن کیے
گو پھول دل میں آگئے کچھ اس کے رو کی طرح
آخر کو اس کی راہ میں ہم آپ گم ہوئے
مدت میں پائی یار کی یہ جستجو کی طرح
کیا لوگ یوں ہی آتش سوزاں میں جا پڑے
کچھ ہو گی جلتی آگ میں اس تندخو کی طرح
ڈرتا ہوں چاک دل کو مرے پلکوں سے سیے
نازک نظر پڑی ہے بہت اس رفو کی طرح
دھوتے ہیں اشک خونی سے دست و دہن کو میر
طورنماز کیا ہے جو یہ ہے وضو کی طرح
میر تقی میر

ہمیں کھو دیا ہے تری جستجو نے

دیوان دوم غزل 997
الٰہی کہاں منھ چھپایا ہے تو نے
ہمیں کھو دیا ہے تری جستجو نے
جو خواہش نہ ہوتی تو کاہش نہ ہوتی
ہمیں جی سے مارا تری آرزو نے
نہ بھائیں تجھے میری باتیں وگرنہ
رکھی دھوم شہروں میں اس گفتگو نے
رقیبوں سے سر جوڑ بیٹھو ہو کیونکر
ہمیں تو نہیں دیتے ٹک پائوں چھونے
پھر اس سال سے پھول سونگھا نہ میں نے
دوانہ کیا تھا مجھے تیری بو نے
مداوا نہ کرنا تھا مشفق ہمارا
جراحت جگر کے لگے دکھنے دونے
کڑھایا کسو کو کھپایا کسو کو
برائی ہی کی سب سے اس خوبرو نے
وہ کسریٰ کہ ہے شور جس کا جہاں میں
پڑے ہیں گے اس کے محل آج سونے
تری چال ٹیڑھی تری بات روکھی
تجھے میر سمجھا ہے یاں کم کسو نے
میر تقی میر

رہے خنجر ستم ہی کے گلو پاس

دیوان دوم غزل 821
گئے جس دم سے ہم اس تندخو پاس
رہے خنجر ستم ہی کے گلو پاس
قیامت ہے نہ اے سرمایۂ جاں
نہ ہووے وقت مرنے کے بھی تو پاس
رلایا ہم نے پہروں رات اس کو
کہا یہ قصۂ غم جس کسو پاس
کہیں اک دور کی سی کچھ تھی نسبت
رکھا تھا آئینے کو اس کے رو پاس
دل اے چشم مروت کیوں نہ خوں ہو
تجھے ہم جب نہ تب دیکھیں عدو پاس
یہی گالی یہی جھڑکی یہی چھیڑ
نہ کچھ میرا کیا تونے کبھو پاس
چل اب اے میر بس اس سرو قد بن
بہت رویا چمن کی آب جو پاس
میر تقی میر

گویا وفا ہے عہد میں اس کے کبھو کی بات

دیوان دوم غزل 782
کیا پوچھتے ہو آہ مرے جنگجو کی بات
گویا وفا ہے عہد میں اس کے کبھو کی بات
اس باغ میں نہ آئی نظر خرمی مری
گر سبز بھی ہوا ہوں تو جیسے کسو کی بات
آئینہ پانی پانی رہا اس کے سامنے
کہیے جہاں کہوں یہ تو ہے روبرو کی بات
سر گل نے پھر جھکا کے اٹھایا نہ شرم سے
گلزار میں چلی تھی کہیں اس کے رو کی بات
حرمت میں مے کی کہنے سے واعظ کے ہے فتور
کیا اعتبار رکھتی ہے اس پوچ گو کی بات
ہم سوختوں میں آتش سرکش کا ذکر کیا
چل بھی پڑی ہے بات تو اس تند خو کی بات
کیا کوئی زلف یار سے حرف و سخن کرے
رکھتی ہے میر طول بہت اس کے مو کی بات
میر تقی میر

روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا

دیوان اول غزل 92
ہے حال جاے گریہ جان پرآرزو کا
روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا
جاتی نہیں اٹھائی اپنے پہ یہ خشونت
اب رہ گیا ہے آنا میرا کبھو کبھو کا
اس آستاں سے کس دن پرشور سر نہ پٹکا
اس کی گلی میں جاکر کس رات میں نہ کوکا
شاید کہ مند گئی ہے قمری کی چشم گریاں
کچھ ٹوٹ سا چلا ہے پانی چمن کی جو کا
اپنے تڑپنے کی تو تدبیر پہلے کرلوں
تب فکر میں کروں گا زخموں کے بھی رفو کا
دانتوں کی نظم اس کے ہنسنے میں جن نے دیکھی
پھر موتیوں کی لڑ پر ان نے کبھو نہ تھوکا
یہ عیش گہ نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہے
ہر گل ہے اس چمن میں ساغر بھرا لہو کا
بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر
سب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا
گلیاں بھری پڑی ہیں اے باد زخمیوں سے
مت کھول پیچ ظالم اس زلف مشک بو کا
وے پہلی التفاتیں ساری فریب نکلیں
دینا نہ تھا دل اس کو میں میر آہ چوکا
میر تقی میر