ٹیگ کے محفوظات: کرو

اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں

دیوان دوم غزل 880
یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں
اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں
ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو
جام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں
مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ
جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں
یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے
یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں
معذور ہوں جو پائوں مرا بے طرح پڑے
تم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں
بھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھ
چلتا ہوں میں بھی ٹک تو رہو میں نشے میں ہوں
نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرجی
جوں شیشہ میرے منھ نہ لگو میں نشے میں ہوں
میر تقی میر

جانے کس کس کو آج رو بیٹھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 31
پھر حریف بہار ہو بیٹھے
جانے کس کس کو آج رو بیٹھے
تھی، مگر اتنی رائگاں بھی نہ تھی
آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے
تیرے در تک پہنچ کے لوٹ آئے
عشق کی آبرو ڈبو بیٹھے
ساری دنیا سے دور ہوجائے
جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے
نہ گئی تیری بے رخی نہ گئی
ہم تری آرزو بھی کھو بیٹھے
فیض ہوتا رہے جو ہونا ہے
شعر لکھتے رہا کرو بیٹھے
فیض احمد فیض

اب گلیوں میں اعلان کرو میں عشق میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 288
اے کوچہ ء دل کے بخت ورو میں عشق میں ہوں
اب گلیوں میں اعلان کرو میں عشق میں ہوں
تم شہر کی سب دیوار وں اورپوشاکوں پر
دل پینٹ کرو تصویر گرو میں عشق میں ہوں
بازار کی ساری رقاصاؤ گلیوں میں
اب ڈھول بجا کر رقص کرو میں عشق میں ہوں
کچھ رنگِچراغاں اور کرو کچھ اور کرو
کچھ سرخ غبارے اور بھرو میں عشق میں ہوں
اب ہاتھ بڑھاکر سب کے گربیاں چاک کرو
اب زور سے تم منصور کہو میں عشق میں ہوں
منصور آفاق

سفر بخیر ہو ، مل کر کرو دعائے خیر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 179
اندھیری رات کے اے رہ روو،دعائے خیر
سفر بخیر ہو ، مل کر کرو دعائے خیر
مجھے سیاہی کی وحشت سے خوف آتا ہے
کہو چراغ صفت منظرو دعائے خیر
بنائے بت جو ہیں ہم نے خدا نہ بن بیٹھیں
بڑی ضروری ہے صورت گرو دعائے خیر
اب اس کے بعد لڑائی کبھی نہیں ہو گی
مری ہتھیلی پہ آؤ دھرو دعائے خیر
الف میں صرف کروڑوں مقام آتے ہیں
طلسمِ اسم کے خیرہ سرو دعائے خیر
گلی گلی میں ہے منصور کا تماشا بھی
دیارِ نور کے دیدہ ورو دعائے خیر
منصور آفاق

سادہ دلوں کا نامہ ء قسمت بھرو گے کیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 126
جو خط لکھا نہیں اسے رسوا کرو گے کیا
سادہ دلوں کا نامہ ء قسمت بھرو گے کیا
کیا دیکھتے ہو مردہ بدن کو اے زندہ دل
پھر نفس کے محاذ پہ جا کر مرو گے کیا
رہنے دو میری قبر کو بے نام ، بے نشاں
اس نور کے وجود پہ پتھرو دھرو گے کیا
تم تو سگ مدینہ ہو ، باہو کے شیر ہو
بدشکل مولوی کی زباں سے ڈرو گے کیا
اے صاحب خرد! تری کامل سہی دلیل
بعد از ممات وہ جو ہوا تو کرو گے کیا
منصور آفاق