ٹیگ کے محفوظات: کروں

کیوں کسی کو کھینچ لانے کی تمّنا میں کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
ہوں اگر تنہا تو تنہا ہی نہ رہنا سیکھ لوں
کیوں کسی کو کھینچ لانے کی تمّنا میں کروں
اپنی ان محرومیوں میں کچھ مرا بھی ہاتھ ہے
مَیں نہ چاہوں تو بھلا اِس طرح رسوا کیو ں پھروں
تلخ و شیریں جو بھی ہے چکھنا تو ہے مجھ کو ضرور
جو بھی کچھ آئے سو آئے کیوں نہ ہاتھوں ہاتھ لوں
ہوں مقیّد وقت کا جس سمت چاہے لے چلے
دوپہر بھی ہوں تو میں کیوں شام بننے سے ڈروں
شش جہت بکھری ہے ماجدؔ میری چاہت کی مہک
مَیں اگر جانوں تو اپنے عہد کا گلزار ہوں
ماجد صدیقی

ہاتھ مرے ہاتھوں میں دے دے جینے کا سامان کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
کھول کوئی در لطف کا اپنے، اِن آنکھوں میں رنگ بھروں
ہاتھ مرے ہاتھوں میں دے دے جینے کا سامان کروں
لازم ہے اِک دورِ طرب کے بعد مجھے تو بھُول بھی جا
مَیں اک بار تجھے پھر چاہوں عہد نیا آغاز کروں
چاروں اور رہی اِک ظلمت جو سوچا سو دیکھا ہے
چاند کبھی تو اُبھرے گا یہ آس لگا کر بھی دیکھوں
اے کہ تلاشِ بہار میں تُو بھی غرق ہے، برگِ آوارہ
کاش مجھے بھی پر لگ جائیں مَیں بھی تیرے ساتھ اُڑوں
شہر میں ہر اک شخص تھا جیسے ایک یہی تلقین لیے
مَیں شبنم کو پتّھر جانوں مَیں پھُولوں کو خار کہوں
گلشن میں یہ کنجِ سخن بھی اُجڑا بن کہلاتا ہے
مَیں جِس پھلواری سے ماجدؔ پہروں بیٹھا پھُول چُنوں
ماجد صدیقی

جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 48
اپنی ہی صدا سُنوں کہاں تک
جنگل کی ہوا رہوں کہاں تک
ہر بار ہوا نہ ہو گی درپر
ہر بار مگر اُٹھوں کہاں تک
دَم گھٹتا ہے ، گھر میں حبس وہ ہے
خوشبو کے لیے رُکوں کہاں تک
پھر آگے ہوائیں کھول دیں گی
زخم اپنے رفو کروں کہاں تک
ساحل پہ سمندروں سے بچ کر
میں نام ترا لکھوں کہاں تک
تنہائی کا ایک ایک لمحہ
ہنگاموں سے قرض لوں کہاں تک
گرلمس نہیں تو لفظ ہی بھیج
میں تجھ سے جُدا رہوں کہاں تک
سُکھ سے بھی تو دوستی کبھی ہو
دُکھ سے ہی گلے ملوں کہاں تک
منسوب ہو ہر کرن کسی سے
اپنے ہی لیے جَلوں کہاں تک
آنچل مرے بھر کے پھٹ رہے ہیں
پُھول اُس کے لیے چُنوں کہاں تک
پروین شاکر

دل خون کروں تو پوچھیو مت

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 47
بیمار پڑوں تو پوچھیو مت
دل خون کروں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے حال اپنا
کہہ بھی نہ سکوں تو پوچھیو مت
ڈر ہے مجھے جنون نہ ہو جائے
ہو جائے جنوں تو پوچھیو مت
میں شدتِ غم سے عاجز آ کر
ہنسنے لگوں تو پوچھیو مت
آتے ہی تمھارے پاس اگر میں
جانے بھی لگوں تو پوچھیو مت
جون ایلیا