ٹیگ کے محفوظات: کاہکشاں

جو برگ ہے پہلو میں لئے خوفِ خزاں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
پیڑوں میں بھی پہلی سی طراوت وُہ کہاں ہے
جو برگ ہے پہلو میں لئے خوفِ خزاں ہے
مت پوچھ کہ ہے کیسے ستاروں سے مرتّب
آنکھوں کے اُفق پر جو سجی کاہکشاں ہے
سیلاب سا منظر ہے نظر جائے جدھر بھی
گھیراؤ میں موجوں کے ہے جو شخص جہاں ہے
اُس برگ سی تازہ ہے تمّنائے بقا بھی
جو ٹُوٹ کے ٹہنی سے سرِآب، رواں ہے
رنگین ہے صدیوں سے جو انساں کے لہو سے
ہر ہاتھ میں کیسا یہ تصادم کا نشاں ہے
ماجد صدیقی

دل بھی اب چپ ہے زباں کی صورت

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 74
ہے یہ کیسی غم جاں کی صورت
دل بھی اب چپ ہے زباں کی صورت
خود پہ ہوتا ہے کسی کا دھوکا
کون سی ہے یہ گماں کی صورت
کس کی آمد ہے کہ لو دیتے ہیں
راستے کاہکشاں کی صورت
زیست کی راہ میں اکثر آیا
دل بھی اک سنگ گراں کی صورت
غم کے ہر موڑ پہ تیری باتیں
یاد آتی ہیں زیاں کی صورت
دیکھ کر صورت ساحل باقیؔ
چل دئیے موج رواں کی صورت
باقی صدیقی